Thursday , November 23 2017
Home / ہندوستان / کالاجادو سے نجات کیلئے لڑکی کو زبردستی گوبر کھلایا گیا

کالاجادو سے نجات کیلئے لڑکی کو زبردستی گوبر کھلایا گیا

ممبئی ۔ 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) ایک دلخراش واقعہ میں مہاراشٹرا کے ضلع لاتور میں ایک 18 سالہ لڑکی کو اس کی بیماری کے علاج کے طور پر ایک مانترک نے زدوکوب کرتے ہوئے زبردستی گوبر کھلادیا۔ اس واقعہ کا ایک ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد انکشاف ہوا۔ بعدازاں لڑکے کے باپ اور جادوگر مانترک کے بشمول چھ افراد کے خلاف چکور پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ چکور پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ وکاس نائیک نے کہا کہ اس واقعہ میں ایک ضعیف عورت بھی ملزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار ملزمین گرفتار کرلئے گئے ہیں اور کالاجادو کے علاج کا دعویٰ کرنے والے دھوکہ باز مانترک کو گرفتار کرنے کیلئے کرناٹک کے ضلع بیدر کو ایک پولیس ٹیلم روانہ کی گئی ہے۔ بیان کیا جاتا ہی کہ یہ لڑکی بی اے سال اول کی طالبہ ہے جسکے پیٹ میں درد کی شکایت پر اسکو ضلع بیدر کے اس مانترک سے 4 جون کو رجوع کیا گیا تھا جہاں اس دھوکہ باز جادوگر نے لڑکی کو بری طرح زدوکوب کرتے ہوئے بطور علاج زبردستی گائے کا گوبر کھلادیا تھا۔

غذائی عادات کو بدلنا ہمارا
مقصد نہیں ‘ حکومت
نئی دہلی 13 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت نہیں چاہتی کہ عوام کی غذائی عادات کو بدلا جائے یا پھر اس شعبہ میں کاروبار کو کسی مشکل صورتحال کا شکار کیا جائے ۔مرکزی وزیر ہرش وردھن نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے یہ ریمارکس ایسے وقت میں کئے ہیں جبکہ انکی وزارت کی جانب سے ملک بھر میں کھلی مارکٹوں میں ذبیحہ کیلئے مویشیوںکی فروخت پر امتناع عائد کیا گیا ہے جسکے خلاف احتجاج ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد یہ قوانین تیار کئے ہیں۔
اس کے بعد ہم نے اعلامیہ کو ایک ماہ کے وقفہ کیلئے عوامی حلقوں میں رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو کچھ تجاویز اس تعلق سے موصول ہوئی ہیں اور حکومت ان کو قوانین میں شامل کر رہی ہے ۔ اس اعلامیہ کی اجرائی کے پس پردہ ہمارا مقصد کسی کی غذائی عادات کو بدلنا نہیں ہے اور نہ ہی حکومت چاہتی ہے کہ کاروبار کرنے والوں کو کوئی مشکل پیش آئے ۔ ہرش وردھن کئی قلمدان رکھتے ہیں جن میں ماحولیات کی وزارت بھی شامل ہے ۔ بیف کھانے اور مویشیوں کی تجارت کے مسئلہ پر جو تنازعہ پیدا ہوا ہے اس پر کئی ریاستوں بشمول ٹاملناڈو ‘ کیرالا اور کرناٹک میں احتجاج کیا جا رہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس سلسلہ میں مختلف تجاویز مل رہی ہیں۔ حکومت کے اعلامیہ پر کسی کو تحفظات ہیں تو وہ ان کی وزارت کو تجاویز روانہ کرسکتے ہیں۔

 

Top Stories

TOPPOPULARRECENT