کالادھن اکاؤنٹس ہولڈرس کی نئی فہرست کی تحقیقات

حکومت کا اعلان ‘ ایس آئی ٹی کے دائرہ تحقیقات میں وسعت ‘ امبانی برادرس اور نریش گوئل کے نام ہونے کی تردید

حکومت کا اعلان ‘ ایس آئی ٹی کے دائرہ تحقیقات میں وسعت ‘ امبانی برادرس اور نریش گوئل کے نام ہونے کی تردید

نئی دہلی۔9فبروری ( سیاست ڈاٹ کام) کالے دھن کی تازہ فہرست جن کے بینک اکاؤنٹ بیرون ملک ہیں خبروں کا موضوع بن گئے ہیں ۔ حکومت نے آج کہا کہ وہ تمام نئے معاملات کی تحقیقات کرے گی اور انکشاف کیا کہ خبر دینے والے کے بموجب ہندوستانی اکاؤنٹس کے تقریباً تمام نام ایچ ایس بی سی سوئیٹزرلینڈ کی شاخ سے اور دیگر ممالک سے حاصل کئے جائیں ۔ بعض ناموں کا انکشاف ہوچکا ہے لیکن عہدیداروں کی جانب سے اس کی توثیق نہیں ہوئی ۔ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ حکومت نے مزید معلومات طلب کی ہیں ‘ وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ 600سے زیادہ معاملات کے بارے میں مزید معلومات طلب کی ہیں کیونکہ غیر ملکی کھاتوں کے بارے میں قابل اعتبار معلومات حاصل نہیں ہوئی ہیں ۔ اس لئے ناموں کا فی الحال انکشاف ناممکن ہے ۔جیٹلی اور حکومت اس خبر پر ردعمل ظاہر کررہے تھے جو انڈین ایکسپریس میں شائع ہوئی ہے جس کے بموجب ناموں کی نئی فہرست 1195 ہندوستانی ناموں پر مشتمل ہے جن کے اکاؤنٹس میں 25420 کروڑ روپئے جمع ہیں ۔جیٹلی نے کہا کہ یہ فہرست سابق فہرست کے 628ناموں کے تقریباً دوگنے ناموں پر مشتمل ہے ‘سابق فہرست حکومت فرانس نے 2011ء میں حکومت ہند کو فراہم کی تھی ۔ سپریم کورٹ نے ایس آئی ٹی قائم کی ہے جس کے بموجب تازہ فہرست میں 100نئے نام شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نئے معاملات پر غور کریں گے اگر کالے دھن کا ثبوت مل جائے تو تمام معاملات کی تحقیقات کروائی جائے گی ۔ 31مارچ تک تحقیقات مکمل کرلی جائیں گی ۔ نائب صدر نشین اریجیت پسایت نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ای ڈی اور سی بی ڈی ٹی سے خواہش کی گئی ہے کہ نئی فہرست کے بارے میں معلومات حاصل کر کے جلد از جلد ایس آئی ٹی کو اطلاع دی جائے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج کی تبدیلی کی بناء پر ایس آئی ٹی کی تحقیقات میں وسعت پیدا کردی گئی ہے ۔ دریں اثناء بعض بڑے صنعت کاروں اور دیگر افراد نے جن کے نام فہرست میں شامل ہیں جیسے امبانی بھائی ‘ مکیش اور انیل این آر آئی تاجر نریش گوئل اور سیاست داں نارائن رانے نے بیرون ملک غیرقانونی کھاتے رکھنے کی تردید کردی ہے ۔ جیٹلی سے ذرائع ابلاغ کے تبادلہ خیال کے بعد سرکاری بیان جاری کیا جائے گا ۔ محکمہ انکم ٹیکس پہلے ہی خبردار کرنے والے کے ساتھ ربط برقرار رکھے ہوئے ہیں جس نے مبینہ طور پر اکاؤنٹس رکھنے والوں کے ناموں کا انکشاف کیا ہے جن کے اکاؤنٹس ایچ ایس بی سی سوئیٹزرلینڈ شاخ میں موجود ہیں ۔ گذشتہ چھ مہینے سے حکومت شدت سے تحقیقتا میں مصروف ہیں اور تقریباً 60 احتیاطی اقدامات تاحال کئے جاچکے ہیں تاکہ ٹیکس سے بچنے کی دانستہ کوشش اور اپنے بینک اکاؤنٹس اور دستاویزات وغیرہ کے انکشاف سے گریز کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ مقدمہ دائرکرنے سے پہلے کثیر تعداد میں نوٹسیں جاری کی جاچکی ہیں جن میں کہا گیاہے کہ مزید کارروائی کی جائے گی ۔ مرکزی وزیر فینانس نے کہا کہ بیرون ملک تمام بینک کھاتے غیرقانونی نہیں ہے کیونکہ بعض نے اپنے بیرون ملک کاروباری سودوں کا ٹیکس عہدیداروں کے سامنے انکشاف کردیاہے ۔ فہرست میں دیگر این آر آئیز بھی شامل ہیں ۔ لندن سے موصولہ اطلاع کے بموجب ایچ ایس بی سی سوئیٹزرلینڈ نے دریں اثناء اعتراف کیا کہ قبل ازیں ماضی کی کوتاہیوں پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی ۔ ایس آئی ٹی نے اعلان کیا کہ ہندوستانیوں کے بیرون ملک کھاتوں کے انکشاف پر تحقیقاتی کارروائی پر نظرثانی کی جائے گی ۔
اور نئے ناموں کے انکشاف پر تحقیقات کے دائرے میں وسعت پیدا کی جائے گی ۔ نئی دہلی سے موصولہ اطلاع کے بموجب صنعت کاروں ‘ امبانی بھائیوں اور جٹ ایئرویز کے صدرنشین نریش گوئل نے غیرقانونی سوئس بینک اکاؤنٹس رکھنے کی تردید کی ہے جیسا کہ نئی فہرست میں انکشاف کیا گیا ہے ۔ برن سے موصولہ اطلاع کے بموجب حکومت سوئیٹزرلینڈ نے کہا کہ ایچ ایس بی سی سوئیٹزرلینڈ کے اکاؤنٹس کا انکشاف جس میںایک ہزار سے زیادہ ہندوستانیوں کے نام شامل ہیں سرقہ کی ہوئی معلومات کا ایک حصہ ہے ۔ دریں اثناء احمد آباد سے موصولہ اطلاع کے بموجب قومی صدر بی جے پی امیت شاہ نے کہا کہ نئے ناموں کو شامل کرتے ہوئے کالے دھن کی تحقیقات میں وسعت پیدا کی جائے گی ۔

TOPPOPULARRECENT