Friday , September 21 2018
Home / سیاسیات / کالادھن قانون پارلیمنٹ میں منظور ، ترجیح کا اظہار

کالادھن قانون پارلیمنٹ میں منظور ، ترجیح کا اظہار

نئی دہلی ۔ 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام) بیرونی ممالک میں کالادھن رکھنے والوں سے نمٹنے کیلئے کالادھن قانون آج پارلیمنٹ میں منظور کرلیا گیا جبکہ حکومت نے انتباہ دیا کہ جو لوگ بیرون ملک غیرقانونی اثاثہ جات رکھتے ہوں، ان سے سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ ان کی راتوں کی نیندیں اڑ جائیں گی جبکہ عالمی خودکار اطلاعاتی تبادلہ نظام 2017ء سے نافذالعمل ہوج

نئی دہلی ۔ 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام) بیرونی ممالک میں کالادھن رکھنے والوں سے نمٹنے کیلئے کالادھن قانون آج پارلیمنٹ میں منظور کرلیا گیا جبکہ حکومت نے انتباہ دیا کہ جو لوگ بیرون ملک غیرقانونی اثاثہ جات رکھتے ہوں، ان سے سختی کے ساتھ نمٹا جائے گا۔ ان کی راتوں کی نیندیں اڑ جائیں گی جبکہ عالمی خودکار اطلاعاتی تبادلہ نظام 2017ء سے نافذالعمل ہوجائے گا۔ مرکزی وزیرفینانس ارون جیٹلی نے راجیہ سبھا میں نیا قانون منظور ہونے کے بعد کہا کہ اس میں سخت دفعات موجود ہیں جس سے کالادھن رکھنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ مہلت سے استفادہ کرسکتے ہیں جو چند ماہ تک جاری رہے گی۔ تاہم یہ معافی کی اسکیم نہیں ہے۔ دنیا اب ٹیکس سے بچنے والوں کے محفوظ مقامات کو مزید برداشت نہیں کرے گی جو صرف معلومات خفیہ رکھنے کی بناء پر پروان چڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالادھن (غیرمعلنہ بیرونی ممالک کی آمدنی اور اثاثہ جات) اور ٹیکس عائد کرنے کا قانون 2015ء ایوان میں منظور ہوچکا ہے۔ لوک سبھا نے دو دن قبل ہی اسے منظوری دی تھی۔ تاہم ارون جیٹلی نے واضح کردیا کہ نیا قانون ان تمام کا احاطہ کرے گا، جن کے غیرملکی بینکوں کے کھاتوں میں 5 لاکھ روپئے یا اس کے مثاوی رقم جمع ہو اور یہ طلبہ کی ملکیت ہو یا وہاں پر برسرکار ہوں۔ بیرون ملک جمع رقم کا انکشاف کرنے کیلئے نئی مہلت چند ماہ تک جاری رہے گی۔ مرکزی وزیرفینانس نے اس قانون پر مباحث کا اجلاس کے آخری دن جواب دیتے ہوئے یہ انکشاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ قواعد و ضوابط کے ایک حصہ کے طور پر مہلت کی مدت کا عنقریب اعلان کیا جائے گا۔

دریں اثناء وزیراعظم نریندر مودی نے آج رات پارلیمنٹ میں کالادھن قانون کی منظوری کو ’’تاریخی سنگ میل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ناجائز کھاتوں اور بیرون ملک سودوں کو نچوڑ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے حکومت کی ترجیح ظاہر ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کی جانب سے کالادھن قانون کی منظوری پر وہ بے حد خوش ہیں۔ راجیہ سبھا میں آج اس قانون کی منظوری دے دی جبکہ لوک سبھا دو دن پہلے ہی اس کی منظوری دے چکا ہے۔ حکومت خاطیوں کی اندرون ملک جائیداد کو جس کی مالیت قانون میں مقررہ مالیت کے مطابق ہو، ضبط کرنے کے اختیارات بھی حاصل کرچکی ہے۔ کالے دھن کی لعنت سے نمٹنا مودی کے انتخابی وعدوں میں سے ایک ہے جن کا انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران تیقن دیا تھا۔ اس قانون کا مقصد ایسی رقومات اور اثاثہ جات کا پتہ چلانا ہے جو ہندوستانیوں نے بیرون ملک جمع کر رکھی ہے۔ اس سے120 فیصد ٹیکس اور جرمانہ حاصل ہوسکے گا۔ اس کے علاوہ خاطیوں کو 10 سال کی سزائے قید بھی دی جاسکے گی۔ اس قانون صدرجمہوریہ نے پہلے ہی منظوری دے دی۔

TOPPOPULARRECENT