Wednesday , September 19 2018
Home / اداریہ / کالا دھن اور قانون سازی

کالا دھن اور قانون سازی

دھن تو کالا مگر ذہن ہیں اس سے کالے ذہنیت بدلو تو قانون موثر ہوگا کالا دھن اور قانون سازی

دھن تو کالا مگر ذہن ہیں اس سے کالے
ذہنیت بدلو تو قانون موثر ہوگا
کالا دھن اور قانون سازی
کالا دھن ہندوستان میں ایک اہم انتخابی موضوع رہا ہے ۔ ہر ہندوستانی کو اس بات کا احساس ہے کہ ہزاروں لاکھوں کروڑ روپئے کی دولت صرف چنندہ افراد اور کمپنیوں و گروپس کی جانب سے حاصل کرلی گئی ہے اور ٹیکس ادا کرنے سے بچنے اور دولت کو چھپانے کیلئے بیرونی ممالک کا سہارا لیا گیا ہے اور خاص طور پر سوئیٹزرلینڈ کے بینکوں میں ان رقومات کو چھپایا گیا ہے ۔ کالے دھن کا مسئلہ ملک میں نیا بھی نہیں ہے ۔ ایک طویل وقت سے ملک کے عوام یہ جاننا چاہتے تھے کہ آخر وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے غیر قانونی اور ناجائز طریقوں سے دولت حاصل کرلی ہے اور اسے بیرونی ممالک میں چھپادیا گیا ہے ۔ سابق میں جب کانگریس کی حکومتیں مرکز میں برسر اقتدار رہیں سبھی جماعتوں کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جاتا رہا کہ حکومتیں کالے دھن کے مسئلہ پر ٹال مٹول کی پالیسی پر عمل پیرا رہیں اور غیر قانونی اور ناجائز طریقوں سے دولت حاصل کرنے والوں کا چہرہ حقیقی معنوں میں بے نقاب کرنے کی بجائے ان کی مدد کرنے اور انہیں بچانے کی کوشش کر تی رہی ہیں۔ 2014 کے لوک سبھا کے انتخابات سے قبل یہ مسئلہ بہت زیادہ موضوع بحث رہا تھا ۔ انا ہزارے کی مخالف کرپشن مہم میں علامتی طور پر شامل ہوئے یوگا گرو رام دیو نے کالے دھن کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی کی تائید کا اعلان کیا تھا ۔ انہوں نے کانگریس زیر قیادت حکومت پر کالا دھن وطن واپس لانے میں عدم سنجیدگی کا الزام عائد کیا تھا ۔ رام دیو کو بی جے پی کی تائید کا انعام انتخابات کے بعد مل بھی گیا ۔ بی جے پی نے خود بھی انتخابات سے قبل کالے دھن کے مسئلہ کو بہت زیادہ اچھالا تھا اور نریندر مودی نے تو یہ اعلان تک کردیا تھا کہ بی جے پی اقتدار حاصل کرنے کے بعد مختصر سے وقت میں کالا دھن واپس لائیگی اور یہ اتنی خطیر رقم ہے کہ ہر ہندوستانی کے بینک اکاؤنٹ میں خاموشی کے ساتھ 15 لاکھ روپئے جمع کروادئے جائیں گے ۔ یہ ایک ایسا پرکشش دھوکہ تھا جس کو ہندوستانیوں کی اکثریت نے قبول کیا ۔ اب بعد میں خود بی جے پی کے صدر امیت شاہ اور دوسرے اسے محض انتخابات کے دوران کیا گیا ایک زبانی وعدہ قرار دے کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انتخابات میں کامیابی اور اقتدار کے حصول کے بعد ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی خود نہیں چاہتی کہ کالے دھن کا مسئلہ حل ہو اور وہ بھی عملا ماضی کی کانگریس حکومتوں کے نقش قدم پر عمل پیرا ہے ۔ بی جے پی حکومت بھی ایسا لگتا ہے کہ کانگریس سے زیادہ آگے بڑھ کر کالا دھن رکھنے والوں کو بچانے کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے ۔ بیرونی ممالک میں رکھے ہوئے غیر قانونی اور ناجائزطریقوں سے حاصل کردہ پیسے کو وطن واپس لانے کی بجائے حکومت یہ کہنے پر اتر آئی ہے کہ بیرون ملک اکاؤنٹ رکھنے والوں کے نام تک بھی ظاہر نہیں کئے جاسکتے کیونکہ اس سے بیرونی ممالک کے ساتھ کئے گئے معاہدات کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ اس معاملہ میں حکومت کو قومی مفاد اور ملک کے عوام کے جذبات کی کوئی پرواہ نہیں رہ گئی تھی ۔ اب حکومت اس معاملہ میں عوام کو ایک بار پھر گمراہ کرنے کی کوشش میں جٹ گئی ہے اور اس نے لوک سبھا میں کالے دھن سے متعلق ایک بل پیش کردیا ہے ۔ اس بل میں حکومت نے مختلف انداز میں اصل مسئلہ سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے ۔ اس بل میں غیر محسوب اثاثہ جات اور بیرونی آمدنی کے اعلان پر ساری توجہ مرکوز کی گئی ہے اور اس قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مختلف سزاوں کا اعلان بھی کیا ہے ۔ فوجداری کارروائی کے علاوہ حکومت نے اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے بھاری جرمانوں کا اعلان بھی کیا ہے جس سے سرکاری خزانہ کو بھرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔
حکومت نے بیرونی اثاثہ جات اور بیرونی آمدنی کے ریٹرنس بھی داخل کرنے کی ہدایت دی ہے اور لاکھوں روپئے کے جن جرمانوں کی تجویز اس قانون میں پیش کی گئی ہے وہ بیرونی کھاتے رکھنے والوں اور کالا دھن رکھنے والوں کیلئے کوئی معنی ہی نہیں رکھتے ۔ یہ عملا غیر قانونی دولت رکھنے والوں کیلئے بچنے کی ایک راہ فراہم کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے ۔ بیرونی اثاثہ جات اور آمدنی کا پتہ چلا کر اس پر ٹیکس عائد کرنا بھی ایک اچھی کوشش ہے لیکن حکومت کو اصل توجہ بیرونی ممالک میں کئی برسوں سے رکھی گئی انتہائی خطیر رقم کو وطن واپس لانے پر مرکوز کرنی چاہئے ۔ انتخابات کے دوران بی جے پی نے جو وعدہ کرکے عوام سے ووٹ حاصل کئے تھے اس کو پورا کرنا چاہئے ۔ ساتھ ہی ان افراد اور اداروں کے علاوہ کارپوریٹس کے چہروں کو بھی بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے جنہوں نے ملک کے عوام کی دولت کو بیرونی ممالک کے بینک کھاتوں میں چھپا رکھا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT