Friday , January 19 2018
Home / سیاسیات / کالا دھن میں بھی جائز اور ناجائز دولت کا فرق ہے

کالا دھن میں بھی جائز اور ناجائز دولت کا فرق ہے

ممبئی۔/10فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) سوئس بینک میں تقریباً 1200نئے ہندوستانی کھاتہ داروں کے ناموں کی فہرست کے انکشاف کے پیش نظر ممتاز بینکر دیپک پاریکھ نے آج کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ کسی بھی کارروائی سے قبل جائز اور ناجائز فنڈ کا پتہ چلائے چونکہ بعض مالیاتی لین دین میں دھاندلیاں پائی جاتی ہیں اور وزیر فینانس ارون جیٹلی نے بھی کہا ہے کہ

ممبئی۔/10فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) سوئس بینک میں تقریباً 1200نئے ہندوستانی کھاتہ داروں کے ناموں کی فہرست کے انکشاف کے پیش نظر ممتاز بینکر دیپک پاریکھ نے آج کہا کہ حکومت کو چاہیئے کہ کسی بھی کارروائی سے قبل جائز اور ناجائز فنڈ کا پتہ چلائے چونکہ بعض مالیاتی لین دین میں دھاندلیاں پائی جاتی ہیں اور وزیر فینانس ارون جیٹلی نے بھی کہا ہے کہ حکومت اس خصوص میں تحقیقات کروائے گی اور کالا دھن رکھنے والوں سے جرمانہ اور ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ مسٹر دیپک پاریکھ نے آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو سب سے پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ بیرونی ممالک میں کالا دھن پوشیدہ رکھا گیا ہے کیونکہ ہندوستان میں مروجہ نظام کے مطابق کوئی بھی شہری سالانہ کچھ رقم بیرون ملک جمع کرواسکتا ہے اور کئی افراد نے ایسا کیا ہے اور اب حکومت کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ جائز اور ناجائز دولت میں کیا فرق ہے۔یہ دریافت کئے جانے پر کہ مزید ناموں کا انکشاف ہوسکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے میڈیا میں شائع رپورٹس کا مطالعہ کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کروڑہا روپئے بیرون ملک چھپائے گئے ہیں لیکن ہم نہیں جانتے کہ حقیقی تعداد کیا ہے۔ واضح رہے کہ تحقیقاتی صحافیوں کی بین الاقوامی ٹیم نے یہ انکشاف کیا ہے کہ تقریباً ایک لاکھ کاتہ داروں نے HSBC کے توسط سے سوئس بینک میں 100بلین ڈالر فنڈ پوشیدہ رکھا ہے۔اس فہرست میں 1,195 ہندوستانیوں کا 4.1 ڈالر فنڈ ( 25,420کروڑ ) شامل ہے۔ اس رپورٹ کے انکشاف کے ساتھ ہی حکومت نے بیرونی ممالک میں کالا دھن چھپانے والے ہندوستانیوں کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT