Saturday , September 22 2018
Home / سیاسیات / کالا دھن 100 دن میں واپس لانے کا وعدہ کبھی نہیں کیا گیا

کالا دھن 100 دن میں واپس لانے کا وعدہ کبھی نہیں کیا گیا

نئی دہلی۔27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام)حکومت نے آج لوک سبھا میں بتایا کہ اس نے بیرونی بینکوں میں پوشیدہ رکھے گئے کالے دھن کو 100 دن کے اندر واپس لانے کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن پارٹیوں نے اس مسئلہ پر مسلسل حکومت کو نشانہ بنایا۔ کالے دھن کے مسئلہ پر اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور ایم وینکیا نائیڈو ن

نئی دہلی۔27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام)حکومت نے آج لوک سبھا میں بتایا کہ اس نے بیرونی بینکوں میں پوشیدہ رکھے گئے کالے دھن کو 100 دن کے اندر واپس لانے کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن پارٹیوں نے اس مسئلہ پر مسلسل حکومت کو نشانہ بنایا۔ کالے دھن کے مسئلہ پر اپوزیشن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ہم اتنے بھی بیوقوف نہیں کہ اندرون 100 دن کالا دھن واپس لانے کا وعدہ کریں۔ انہوں نے بی جے پی کے لوک سبھا انتخابی منشور کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ کالے دھن کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بھی انتخابی منشور میں 100 دن کا ذکر ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اندرون 100 کارروائی شروع کی جائے گی۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ 100 دن کی بات سب سے پہلے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے جولائی 2009ء میں پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کی تھی۔ نائیڈو نے کالے دھن کے مسئلہ پر ایوان میں جاری مباحث کے دوران مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اتنے لاشعور نہیں ہیں کہ کالے دھن کو 100 دن میں لانے کا وعدہ کریں۔ ان کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب اپوزیشن نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بی جے پی قائدین نے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ اقتدار حاصل ہوتے ہی وہ کالے دھن کو 100 دن کے اندر واپس لائیں گے، لیکن اقتدار آئے ہوئے چھ ماہ گزر چکے، حکومت کالا دھن لانے میں ناکام رہی ہے۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ بی جے پی کے انتخابی منشور میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ اگر اسے اقتدار دیا گیا تو حکومت رشوت ستانی کے واقعات کو کم کرنے کی کوشش کرے گی

اور کالے دھن کو واپس لانے یا اس طرح کے مسئلہ سے نمٹنے کے لئے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی بینکوں میں رکھے گئے کالے دھن کو واپس لانے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے بی جے پی حکومت کی جانب سے کئے جارہے اقدامات کی تفصیل پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب کبھی 100 دن میں کام کرنے کے لئے کہا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ 100 دنوں کے اندر کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے دعوی کیا ہے کہ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھی جولائی 2009 ء کے اوائل میں کالے دھن کا پتہ چلانے کے لئے 100 دن کا حوالہ دیا تھا لیکن بعد میں وہ خود بھی یہ سمجھ گئے کہ 100 دن کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ وینکیا نائیڈو کے اس جواب پر سماج وادی پارٹی لیڈر ملائم سنگھ یادو نے کہا کہ عوام نے بی جے پی کی انتخابی مہم پر بھروسہ کرتے ہوئے اسے ووٹ دیا تھا اور یہ سمجھا گیا تھا کہ بی جے پی کالے دھن کو واپس لائے گی لیکن حکومت ایوان میں کوئی تیقن نہیں دے رہی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT