Tuesday , September 25 2018
Home / Mera Column / کالا دھن

کالا دھن

میرا کالم سید امتیاز الدین

میرا کالم سید امتیاز الدین
ہمارے ملک کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وقفے وقفے سے کوئی نہ کوئی ایسی بات ہوتی ہے جس پر زبردست مباحثے ہوتے ہیں ۔ ہر شخص اپنی سمجھ کے مطابق کچھ نہ کچھ کہتا ہے ۔ یوں لگتا ہے جیسے یہی ایک مسئلہ حل ہوجائے تو کوئی اور مسئلہ باقی نہیں رہے گا اور سب لوگ چین کی بنسی بجائیں گے ۔ آج کل ہر ایک کی زبان پر کالے دھن کا وظیفہ ہے ۔ کالا دھن یعنی بلیک منی یا ناجائز روپیہ آج کل ایک قومی مسئلہ بنا ہوا ہے ۔
ہمارا اس سلسلے میں سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ دھن کو کالے اور سفید دھن کے خانوں میں بانٹ کر ہم نے کالے رنگ کی توہین کی ہے جبکہ دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی کالے لوگوں پر مشتمل ہے ۔ ایک پورا براعظم ایسا ہے جو سیاہ فام افراد سے آبادہے ۔کالوں کے حقوق کی حفاظت کے لئے کئی عالمگیر تحریکیں چل چکی ہیں ۔ خود ہم ہندوستانیوں کا شمار گوروں میں نہیں ہوتا ۔ اور تو اور امریکہ کے صدر بارک اوباما اچھے خاصے سیاہ فام ہیں ۔ جب دنیا کے سب سے امیر اور طاقتور ملک کا صدر کالا ہو تو کالے رنگ کی دلکشی کا کیا کہنا ۔اب آپ سے کیا چھپائیں خود ہمارا شمار بھی گورے لوگوں میں نہیں لیکن ہم اتنے بھی کالے نہیں کہ آپ ہمارا کالم پڑھنا چھوڑدیں ۔

نہ ہمارے پاس کالا دھن ہے اور نہ کسی بیرونی ملک کے بینک میں ہمارا اکاونٹ ہے ۔ ہم نے کئی برس پہلے اسٹیٹ بینک میں اس لئے اکاونٹ کھولا تھا کہ ہماری تنخواہ بینک میں جمع ہوتی تھی اس لئے ہمارے لئے بینک اکاونٹ کا ہونا ضروری تھا ۔ مہینے کے آخر میں ہماری جمع شدہ رقم بینک کی مقرر کردہ کم سے کم حد سے نیچے چلی جاتی تھی ۔ اس وقت ہم کو اسٹیفن لیکاک (Stephen Leacock) کی ایک کہانی یاد آجاتی تھی جس کا عنوان تھا ’آٹھ ڈالرس‘ ۔ کہانی یوں ہے کہ ایک متوسط درجے کے شخص کے پاس اس کی تنخواہ میں سے آٹھ ڈالر کی بچت ہوجاتی ہے ۔ گو کہ رقم معمولی تھی لیکن وہ اتنا خوش ہوتا ہے کہ اسے فوراً بینک اکاونٹ کھولنے کا خیال آتا ہے ۔ وہ ایک قریبی بینک کا رُخ کرتا ہے اور سیدھے منیجر کے کمرے میں داخل ہوجاتا ہے ۔ بینک منیجر اسے دیکھ کر خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتا ہے اور پوچھتا ہے ’کہیے میں آپ کی کیا خدمت کرسکتا ہوں‘ ۔ یہ شخص اس سے کہتا ہے ’’میں آپ کے بینک میں اکاونٹ کھولنا چاہتا ہوں لیکن پہلے میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ میرا پیسہ محفوظ رہے گا‘‘ ۔ منیجر اُسے یقین دلاتا ہے کہ اُس کا پیسہ بالکل محفوظ رہے گا ۔ منیجر پوچھتا ہے ’’آپ کتنی رقم جمع کرانا چاہتے ہیں‘‘ ، کسٹمر پوچھتا ہے ’’ہماری باتیں کوئی سن تو نہیں رہا ہے‘‘ ۔ منیجر اشارے سے اپنی سکریٹری کو باہر جانے کے لئے کہتا ہے ۔ کسٹمر سرگوشی کے انداز میں کہتا ہے ’’میں آٹھ ڈالر سے اکاونٹ کھولنا چاہتا ہوں‘‘ ۔ منیجر نہایت غصے سے اپنے چپراسی سے کہتا ہے کہ انھیں متعلقہ کلرک کے پاس لے جاؤ ۔ اکاونٹ کھل جاتا ہے ۔ اچانک اُس شخص کو یاد آتا ہے کہ اسے اپنے بچے کے لئے دو ڈالر کے چاکلیٹ خریدنے ہیں ۔ وہ کلرک سے کہتا ہے ’مجھے فوراً رقم نکالنے کا چالان دو ۔ کچھ پیسوں کی ضرورت ہے‘ ۔ کلرک حیرت سے پوچھتا ہے ’ابھی تو آپ نے کھاتہ کھولا ہے ۔ اتنی جلد پیسوں کی ضرورت پڑگئی‘ ۔ اس شخص کے دل و دماغ میں آٹھ ڈالر کی رقم اتنی سمائی ہوئی رہتی ہے کہ وہ رقم نکالنے کے چالان میں دو ڈالر کی بجائے آٹھ ڈالر لکھ دیتا ہے ۔ اس طرح اپنا کھولا ہوا اکاونٹ وہ پانچ منٹ میں بند کردیتا ہے ۔

سویس بینک میں ہمارے اکاونٹ کا سوال اس لئے بھی پیدا نہیں ہوتا کہ ہم کبھی سوئٹزرلینڈ گئے ہی نہیں ۔ زیادہ سے زیادہ بمبئی ، کلکتہ ، دہلی اور مدراس جیسے شہر دیکھے ہیں اور وہ بھی اپنے پیسوں سے نہیں بلکہ دفتر کے خرچ پر کیونکہ ہم کو اکثر سرکاری کاموں سے باہر جانا پڑتا تھا ۔ ویسے اس معاملے میں ہماری پارسائی مشکوک ہے کیونکہ جب ہم دورے پر جاتے تھے تو ہم کو دفتر سے نہایت قلیل یومیہ بھّتہ ملتا تھا ۔ اُس بھّتے کے بل پر ہم کسی انتہائی سستے ہوٹل میں ٹھہر سکتے تھے ۔ مجبوراً ہم کو کمپنیوں کے گیسٹ ہاوز میں مقیم ہونا پڑتا تھا ۔ ظاہر ہے کہ اگر تحقیق کی جاتی تو ہم پر الزام لگ سکتا تھا کہ جناب آپ کو یومیہ بھّتہ ملتا تھا لیکن آپ گیسٹ ہاوز میں ٹک گئے اور جو بچت آپ کی جیب میں گئی وہ کالا دھن ہے ۔
اسی طرح جب ہم کو ملازمت کے دوران پہلی ترقی ملی تو ہم کو اسسٹنٹ ڈیویژنل انجینئر بنا کر ایک ایسے دفتر کا ہیڈ بنا کر بھیجا گیا جہاں کالے دھن کی گرم بازاری تھی ۔ ہمارے اعلی عہدیداروں کو یہ غلط فہمی تھی کہ ہم کافی ایماندار اور اصول پرست ہیں ۔ ا سلئے ہمارے جانے سے اس بدنام دفتر کے شام و سحر میں خوشگوار تبدیلی آئے گی ۔ حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ۔ ہم تو کسی کارروائی کو روکتے نہیں تھے لیکن کارروائی خود رکتے رکاتے ہم تک پہنچتی تھی۔ پھر بھی اسٹاف کے بعض لوگوں یہ شکایت تھی کہ ہمارے آنے سے کالے دھن کی وہ اگلی سی ریل پیل نہیں رہی تھی چنانچہ ہمارے خلاف اعلی عہدہ داروں کے پاس شکایت بھرے گم نام لوگوں کے خط جانے لگے تاکہ ہمارا تبادلہ ہوجائے لیکن ایسے خطوط پر نام اور پتہ لکھا ہوا نہیں ہوتا تھا اس لئے اُن کو نظر انداز کردیا جاتا تھا ۔ ہمارے ماتحتین کی خوشحالی کا یہ عالم تھا کہ ہم تو اپنی پرانی ویسپا پر دفتر جاتے تھے لیکن ہمارے چپراسی کے پاس بالکل نئی چیتک تھی ۔ جب ہم اپنی ویسپا سے اترتے تو ہمارا چپراسی ہمیں جھک کر سلام کرتا ۔ اُس وقت یہ سوال ہمارے ذہن میں اٹھتا کہ دراصل سلام میں پہل کس کو کرنا چاہئے ۔

ویسے تو یہ بہت اچھی بات ہے کہ ہماری تحقیقاتی ایجنسیاں کالے دھن کی کھوج میں سوئٹزرلینڈ اور یوروپ کے بعض ملکوں کے چکر کاٹ رہی ہیں لیکن خود وطن عزیز میں کالا دھن کہاں کہاں چھپا ہے اس کی خبر کس کو ہے ۔ انکم ٹیکس وہی لوگ ادا کرتے ہیں جنھوں نے بحالت مجبوری پیان کارڈ بنالیا ہے ۔ کئی لوگ توایسے بھی ہیں جن کے پاس Pancard ہے ہی نہیں ۔ ویسے تو انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ سے سبھی ڈرتے ہیں لیکن ایک بار ہم کو انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ پر بڑی محبت آئی ۔ ہوا یوں کہ آج سے کوئی دو سال پہلے ہم اپنی بینک پاس بک دیکھ رہے تھے ۔ دیکھا کہ ہمارے اکاونٹ میں ایک سو بیس روپے کریڈٹ ہوئے تھے ۔ ہم حیرت میں پڑگئے کہ یہ رقم کہاں سے آئی ۔ اتفاق سے اسی دن انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کا خط ہمارے پاس آیا کہ آپ کی ریٹرن (return) کی جانچ کی گئی اور پتہ چلا کہ آپ نے ایک سو بیس روپے زیادہ ادا کردئے تھے ۔ یہ زائد رقم آپ کے اکاونٹ میں آن لائن جمع کردی گئی ہے ۔ ہم کو بظاہر اتنی چھوٹی سی رقم پا کر جو مسرت ہوئی وہ بیان سے باہر ہے ۔ جی چاہا کہ ان روپوں کی شیرینی منگائیں اور احباب میں بطور تبرک تقسیم کردیں کیونکہ ایسا خالص سفید دھن کسے ملتا ہے ۔
اخباری اطلاع کے مطابق اب تک صرف 627 سویس اکاونٹس کا پتہ چلا ہے جبکہ ہماری آبادی سوا سو کروڑ ہے ۔ مانا کہ ملک غریب ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ کم سے کم چار پانچ لاکھ خوش نصیب ایسے بھی ہوں گے جن کے پاس کالا دھن ہے ۔ روزانہ ہزاروں جائیدادیں خریدی اور بیچی جاتی ہیں ۔ نہ خریدنے والا صحیح قیمت خرید بتاتا ہے اور نہ بیچنے والا صحیح قیمت فروخت کا انکشاف کرتا ہے ۔ہم روز ہی اخبار میں دیکھتے ہیں کہ فلاں عہدہ دار کے پاس غیر متعلقہ اثاثہ جات نکلے ۔ اس کے پاس اتنا سونا ، چاندی ، اتنے مکانات اور فارم ہاوسس تھے ۔ بعد میں پتہ ہی نہیں چلتا کہ ضبط شدہ رقم اور زمین جائیداد کا کیا ہوا ۔ کسی کا مصرع ہے ؎

لے کے رشوت پھنس گیا ہے دے کے رشوت چھوٹ جا
سچی بات یہ ہے کہ کالا دھن کوئی نئی چیز نہیں ہے ۔ جب سے دنیا بنی ہے کالا دھن بھی قائم ہے اور سفید دھن کا منہ چڑارہا ہے ۔ سنا ہے کہ محمد بن تغلق نے چمڑے کے سکے جاری کئے تھے ۔ لوگوں نے گھروں میں اپنے طور پر بھی چمڑے کے سکے ڈھال لئے جس سے شاہی خزانے کے خالی ہونے کی نوبت آگئی ۔ کالے دھن اور رشوت ستانی میں چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ہم نے ایک اعلی افسر کا قصہ سنا تھا جو اپنی دیانت داری کے لئے مشہور تھے ۔ بالکل رشوت نہیں لیتے تھے ۔ کسی کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالتے تھے ۔ اُن کی میز پر ایک ڈبہ رکھا ہوتا تھا جس پر جلی حروف میں ’بیوہ فنڈ‘ لکھا تھا ۔ جب کام ہونے کے بعد لوگ ان کا شکریہ ادا کرکے رخصت ہوتے تو یہ صاحب اُن سے کہتے ’بیوہ فنڈ کے لئے کچھ عطا کرکے جایئے‘ ۔ کسی نے اُن سے پوچھا ’یہ فنڈ کن بیواؤں کے لئے ہے‘ ۔ انھوں نے جواب دیا یہ فنڈ میری ہونے والی بیوہ کے لئے ہے‘ ۔ یہ بات ہم کو اس لئے بھی یاد آگئی کہ کئی سویس اکاونٹ رکھنے والے اس جہانِ فانی سے رخصت ہوچکے ہیں اور یہ جمع شدہ رقم انا کے لواحقین کی وراثت بن گئی ہے ۔ اس طرح سویس اکاونٹ کو بیوہ فنڈ کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے ۔
بہرحال پیسہ بہت بُری چیز ہے ۔ لوگ ابتداء سفید دھن سے کرتے ہیں لیکن بالآخر کالے دھن کے دام میں گرفتار ہوجاتے ہیں ۔ ان کو سفید دھن کالے دھن کے مقابلے میں بے مزہ لگتا ہے جیسے گرم گرم گندے لطیفوں کے شوقین حضرات کو سیدھے سادے لطیفوں پر ہنسی نہیں آتی ۔

TOPPOPULARRECENT