Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / کالجس کا فیس باز ادائیگی اسکیم پر انحصار ناممکن

کالجس کا فیس باز ادائیگی اسکیم پر انحصار ناممکن

فیس ادا کریں اور امتحان میں شرکت کریں ، طلبہ کو کالج انتظامیوں کی ہدایت
حیدرآباد۔23اکٹوبر(سیاست نیوز) فیس اداکریں یا امتحان میں شرکت سے محروم رہیں‘ حکومت کی جانب سے فیس کی عدم وصولی کے سبب کالجس خسارہ سے دوچار ہونے لگے ہیں اسی لئے ہم کسی بھی احکام کو ماننے کے موقف میں نہیں ہیں اور داخلوں کے لئے بھی فیس باز ادائیگی اسکیم پر انحصار ممکن نہیں ہے۔ کالج انتظامیہ طلبہ اور سرپرستوں کو واضح طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں فیس بازادائیگی اسکیم سے مسئلہ ہے اسی لئے وہ اس اسکیم کے تحت داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ سے ابتداء میں فیس حاصل کرلیں گے اور اگر حکومت کی جانب سے فیس کی رقومات وصول ہوتی ہیں تو ایسی صورت میں انہیں واپس ادا کردی جائے گی۔ خانگی پروفیشنل کالجس میں جن طلبہ نے میرٹ کی بنیادوں پر داخلہ حاصل کیا ہے اور انہیں دو برس گذر چکے ہیں لیکن اب تک فیس نہیں وصول ہوئی ہے انہیں کالجس کی جانب سے فیس ادا کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جا رہاہے اور حالیہ دنوں میں بی ۔ایڈ کے داخلوں کے دوران ’اے‘ زمرہ میں داخلہ حاصل کرنے والوں کو بھی فیس ادا کرنے کی تاکید کی جار ہی ہے اور کالج انتظامیہ یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں بحالت مجبوری داخلہ کے وقت اس بات کی وضاحت کرنی پڑ رہی ہے لیکن کالجس اس بات کی بھی وضاحت کر رہے ہیں کہ اگر کورس کی تکمیل سے قبل حکومت کی جانب سے فیس بازادائیگی اسکیم کے تحت رقومات وصول ہوجاتی ہیں تو طلبہ کی جانب سے ادا کردہ فیس واپس کردی جائے گی۔اولیائے طلبہ کا کہنا ہے کہ کالجس کی جانب سے فیس کی وصولی غیر قانونی ہے لیکن کالجس کا کہنا ہے کہ جب حکومت کی جانب سے فیس کی ادائیگی ہی نہیں کی جارہی ہے تو ایسی صورت میں کالج انتظامیہ اپنے روزمرہ کے اخراجات اور اساتذہ کی تنخواہو ںکے لئے رقومات کہاں سے لائیں ؟حکومت کے کسی بھی عہدیدار کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی جواب نہیں دیا جار ہاہے اور کئی ڈگری کالجس کے انتظامیہ میں بھی فیس بازادائیگی اسکیم کے سلسلہ میں بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ فیس کی عدم وصولی کی بناء پر وہ کالج کے اخراجات پورے کرنے سے قاصر ہیں۔طلبہ اور اولیائے طلبہ کے علاوہ کالج انتظامیہ نے حکومت اور متعلقہ محکمہ جات سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلہ پر فوری توجہ مبذول کرتے ہوئے اسے حل کریں تاکہ طلبہ اور کالجس دونوں کو مشکلات کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔حکومت بالخصوص محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے طلبہ کی اسکالر شپس اور فیس بازادائیگی کی رقومات جاری کردی گئی ہیں لیکن کالجس اور طلبہ کو اب بھی مشکلات درپیش ہیں۔کالج انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ میرٹ کی بنیاد پر داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کی فیس حکومت ادا کرے گی لیکن کالجس کے مالیہ کی جو حالت ہے اسے سدھارنے کیلئے وہ فیس وصول کرنے پر مجبور ہیں۔

TOPPOPULARRECENT