Tuesday , January 16 2018
Home / ہندوستان / کالی مرچ اِسپرے واقعہ کو اسپیکر نے مراعات کمیٹی سے رجوع کردیا

کالی مرچ اِسپرے واقعہ کو اسپیکر نے مراعات کمیٹی سے رجوع کردیا

نئی دہلی۔/16فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) لوک سبھا میں کالی مرچ اِسپرے کے واقعہ کو آج مراعات کمیٹی سے رجوع کردیا گیا ہے جسے غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں۔ اس واقعہ کی ہر گوشہ سے مذمت کی گئی اور شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔ اسپیکر لوک سبھا میرا کمار نے اسے مراعات کمیٹی سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لوک سبھا سکریٹریٹ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئ

نئی دہلی۔/16فبروری، ( سیاست ڈاٹ کام ) لوک سبھا میں کالی مرچ اِسپرے کے واقعہ کو آج مراعات کمیٹی سے رجوع کردیا گیا ہے جسے غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں۔ اس واقعہ کی ہر گوشہ سے مذمت کی گئی اور شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔ اسپیکر لوک سبھا میرا کمار نے اسے مراعات کمیٹی سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لوک سبھا سکریٹریٹ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ 13فبروری کو لوک سبھا میں جو کچھ واقعات پیش آئے اس سے متعلق اُمور کو اسپیکر نے جائزہ اور رپورٹ پیش کرنے کیلئے مراعات کمیٹی سے رجوع کردیا ہے۔ 15رکنی اس کمیٹی کی قیادت سینئر کانگریس لیڈر پی سی چاکو کررہے ہیں۔ اس کمیٹی کو سخت سے سخت اقدامات بشمول جیل اور یہاں تک کہ برطرف کرنے کی سفارشات کا اختیار حاصل ہے۔ ہندوستانی پارلیمانی تاریخ میں 13فبروری کو انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا جس میں کالی مرچ اِسپرے کا لوک سبھا میں استعمال کیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں تین ارکان پارلیمنٹ کو دواخانہ شریک کرانا پڑا۔ تلنگانہ بل پر ہنگامہ آرائی اور احتجاج کے دوران یہ واقعہ پیش آیا جس کے بعد سیما آندھرا سے تعلق رکھنے والے 16ارکان پارلیمنٹ کو معطل کردیا گیا تھا۔ اسپیکر نے ان واقعات پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے اسے ملک اور پارلیمنٹ کیلئے شرمناک اور ایک کلنک سے تعبیر کیا تھا۔ کانگریس رکن ایل راجگوپال جو ایک صنعت کار بھی ہیں‘ آندھرا پردیش کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے ساتھ ایوان میں ایک اِسپرے باٹل لائے جس کا انہوں نے تلنگانہ بل کی پیشکشی کے دوران استعمال کیا۔ راجگوپال کی اس حرکت کی ہر گوشہ سے مذمت کی گئی۔

تمام سیاسی جماعتوں نے ارکان پارلیمنٹ کے اس ناروا سلوک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ حکومت نے پہلے ہی یہ کہہ دیا ہے کہ اسپیکر اس معاملہ میں جو بھی فیصلہ کریں گی اس کی مخالفت نہیں کی جائے گی۔ اسپیکر نے یہ معاملہ پارلیمانی پیانل سے ایسے وقت رجوع کیا جبکہ پارلیمنٹ کامپلکس میں سیکوریٹی پر کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد ہونے والا ہے۔ اس اجلاس میں مختلف اُمور بشمول ارکان پارلیمنٹ کی تلاشی کے تعلق سے غور و خوض کیا جائیگا۔ میرا کمار نے ڈپٹی اسپیکر کے منڈا کی زیر قیادت کمیٹی کو جمعرات کے حالات کا جائزہ لینے کیلئے اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت دی ۔بتایا جاتا ہے کہ سیکوریٹی پر کمیٹی کا ہنگامی اجلاس کل منعقد کیا جائے گا جس میں ارکان پارلیمنٹ کی جامہ تلاشی پر بھی غور و خوض ہوگا۔ لوک سبھا سکریٹریٹ نے بتایا کہ اس معاملہ کو مراعات کمیٹی سے رجوع کرنے کا فیصلہ قاعدہ 227 کے تحت کیا گیا۔ پارلیمانی پیانل مراعات شکنی سے متعلق ہر معاملہ کا جائزہ لیتے ہوئے اپنی سفارشات پیش کرے گی۔اس دوران سیکوریٹی پر کمیٹی کے ایک رکن نے کہا کہ ہمیں ایک انتہائی مشکل ذمہ داری تفویض کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً ایک دہا قبل 13ڈسمبر کو پارلیمنٹ پر دہشت گرد حملہ کے بعد ہم نے ضروری حفاظتی تدابیر کی تھی تاکہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو، لیکن جب خود ہمارے خاندان کا کوئی رکن ہی ایوان کو آگ لگادے تو ایسے میں کیا کیا جائے؟۔اس رکن نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر برہمی کے عالم میں یہ تبصرہ کیا۔ کمیٹی پارلیمنٹ کی سیکوریٹی کو یقینی بنانے کیلئے تمام متعلقہ اُمور بشمول ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے چیمبر میں خطرناک اور زندگی کیلئے جوکھم پیدا کرنے والی اشیاء لانے سے روکنے کا جائزہ لے گی۔

TOPPOPULARRECENT