Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / کالے دھن پر سفید پوش کی لفظی جنگ

کالے دھن پر سفید پوش کی لفظی جنگ

’دولت لوٹنے والے ہی نوٹوں کی منسوخی کی مخالفت کررہے ہیں ‘: امیت شاہ
نریندر مودی، ہٹلرہیں: ممتابنرجی، مودی خود اپنا حساب بتائیں اور بی جے پی قائدین سے ماقبل نومبر کے کھاتوں کی تفصیلات طلب کریں

لکھنؤ ؍ مہاراج گنج ؍ نئی دہلی ۔ 29 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) نوٹوں کی منسوخی کے مسئلہ پر بی جے پی اور اس کی حریف جماعتوں نے ایک دوسرے کو سخت تنقیدوں کا نشانہ بناتے ہوئے الزامات کا تبادلہ کیا ہے۔ بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے دعویٰ کیا کہ صرف وہی اپوزیشن قائدین جنہوں نے دولت کی لوٹ کھسوٹ کی ہے، اس مسئلہ پر ہنگامہ آرائی اور اس اقدام کی مخالفت کررہے ہیں۔ مغربی بنگال کی چیف منسٹر اور ترنمول کانگریس کی صدر ممتابنرجی نے وزیراعظم نریندر مودی کو ’ہٹلر‘ قرار دیتے ہوئے ان پر عوامی حقوق سلب کرنے کا الزام عائد کیا اور سوال کیا کہ نریندر مودی نے اپنی پارٹی کے صرف ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی کو نومبر اور ڈسمبر میں اپنے بینک کھاتوں کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کیوں کی ہے اور خود انہوں (مودی) نے اپنے کھاتوں کی تفصیلات کیوں پیش نہیں کیا ہے۔ دہلی کے چیف منسٹر اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال نے وزیراعظم نے اپنے ارکان مقننہ سے صرف 8 نومبر اور 30 ڈسمبر تک بینک کھاتوں کی تفصیلات طلب کئے ہیں۔ کجریوال نے سوال کیا کہ مودی نے اپنی پارٹی قائدین سے ان کے بینک کھاتوں کی گذشتہ چھ ماہ کی تفصیلات طلب کیوں نہیں کیا ہے۔

کجریوال نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی قائدین نوٹوں کی منسوخی کے فیصلہ سے باخبر تھے اور انہوں نے 8 نومبر سے قبل ہی اپنا پوشیدہ دھن بچانے کا انتظام کرلیا تھا۔ کجریوال نے نوٹوں کی منسوخی کیلئے وزیراعظم کے فیصلے کو نریندر مودی حکومت کا بدترین اسکام قرار دیا۔ کجریوال نے اڈانی اور امبانی کا حوالہ بھی دیا اور سوال کیا کہ ’’اس ملک میں کس قسم کے لوگ کالادھن رکھتے ہیں؟ کیا یہ اڈنی، امبانی، سبھاش چندرا اور بادل ہوتے ہیں؟ یا پھر رکشاوالا، مزدور، موچی یا کسان ہوتے ہیں‘‘۔ کجریوال نے کہا کہ جون تک بھی بینکوں میں ڈپازٹ کی شرح بہت معمولی تھی لیکن جولائی سے ستمبر تک بھاری ڈپازٹ کئے گئے۔ یہ رقومات کس کے ہیں؟ کانگریس  کے سینئر لیڈر کپل سبل نے ’کیش لیس‘ (بلانقدی) معاشرہ تشکیل دینے وزیراعظم مودی کی تجویز کا مذاق اڑاتے ہوئے کہاکہ اب سارا ہندوستان ’کیش لیس‘ ہوگیا ہے۔ عوام خود اپنی رقومات حاصل کرنے بینکوں پر طویل قطاروں میں جمع ہورہے ہیں اور خود بینکس بھی کرنسی نوٹس کی قلت محسوس کررہی ہیں۔ امیت شاہ نے اترپردیش کے مہاراج گنج میں بی جے پی کی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’غریبوں کے پاس کالادھن نہیں ہے۔ راہول بابا، اکھیلیش بابو، بہن مایاوتی… ان میں سے ایک ہیں جو آپ سے جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ اب ان کا سب کچھ کھو گیا۔ اب کیا ہوگا جو کالادھن کے ساتھ پکڑا جائے گا اس کو 50 فیصد دولت سے محروم ہونا پڑے گا۔ یہ رقم ملک کے سرکاری خزانہ میں جمع ہوگی‘‘۔

TOPPOPULARRECENT