Friday , June 22 2018
Home / دنیا / کالے دھن کی بازیابی اہم سوئیز قوانین میں ترمیم

کالے دھن کی بازیابی اہم سوئیز قوانین میں ترمیم

برن/ نئی دہلی 10 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان اور دوسرے ممالک کے دباؤ کو دیکھتے ہوئے سوئیٹزر لینڈ نے اپنے مقامی قوانین میں اہم تبدیلیاں لائی ہیں جو بیرونی ممالک کیلئے سازگار ہوسکتی ہیں۔ جو ممالک سوئیز بینکوں میں رکھے ہوئے کالے دھن کے تعلق سے معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں مقامی قوانین میں ترامیم سے مدد مل سکتی ہے ۔ اب تک سوئیٹزر

برن/ نئی دہلی 10 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان اور دوسرے ممالک کے دباؤ کو دیکھتے ہوئے سوئیٹزر لینڈ نے اپنے مقامی قوانین میں اہم تبدیلیاں لائی ہیں جو بیرونی ممالک کیلئے سازگار ہوسکتی ہیں۔ جو ممالک سوئیز بینکوں میں رکھے ہوئے کالے دھن کے تعلق سے معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں مقامی قوانین میں ترامیم سے مدد مل سکتی ہے ۔ اب تک سوئیٹزر لینڈ مقامی قوانین کو ڈھال بنا کر کالے دھن سے متعلق اطلاعات دوسرے ممالک کو فراہم کرنے سے انکار کیا کرتا تھا ۔ یہ ترامیم پر جاریہ ماہ سے عمل آوری شروع ہوچکی ہے اور اس کے نتیجہ میں ہندوستان اور دوسرے ممالک کیلئے موقع رہے گا کہ وہ کالا دھن رکھنے والے مشتبہ افراد سے متعلق اطلاعات فراہم کرنے اجتماعی درخواست پیش کرسکیں۔

سوئیز حکام کیلئے اب قوانین میں تبدیلی اور ترامیم کے بعد یہ ضروری نہیں رہ گیا ہے کہ وہ جن افراد کے تعلق سے یا اداروں کے تعلق سے متعلقہ ملکوں کو اطلاعات فراہم کی جا رہی ہو انہیں قبل از وقت مطلع کردے ۔ تاہم ہندوستان یا معلومات حاصل کرنے والے دوسرے ممالک پر یہ ذمہ داری رہے گی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ متعلقہ افراد یا اداروں کو قبل از وقت اطلاعات کے حصول کو روکنے کوششیں کریں کیونکہ ایسی صورت میں تحقیقات کا عمل متاثر ہوسکتا ہے ۔ اب تک سوئیٹزرلینڈ میں جو قوانین رہے ہیں ان کے مطابق سوئیز حکام کسی بھی ادارہ یا فرد کے تعلق سے کسی ملک کو اطلاع فراہم کرنے سے قبل متعلقہ ادارہ یا فرد کو اس کارروائی سے مطلع کردیا کرتے تھے ۔ ایسی صورت میں یہ ادارے یا افراد حکومت کے فیصلے کے خلاف یا فائیلس کا جائزہ لینے کے خلاف اپیل کرسکتے تھے ۔

حالانکہ سوئیٹزر لینڈ نے اپنے وفاقی قانون میں یہ دفاعت ہنوز شامل رکھے ہیں تاہم اس نے مقامی سطح کے قوانین میں کم از کم 10 تبدیلیاں عمل میں لائی ہیں تاکہ دوسرے ملکوں کو درخواست پر اطلاعات فراہم کرنے میں آسانی ہوسکے ۔ جو ترامیم ہوئی ہیں ان کا گزٹ اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بیرونی اتھاریٹی اس بات کو یقینی بنائے کہ متعلقہ معاملہ کی اطلاعات کو راز میں رکھا جائیگا تو کسی بھی ادارہ یا فرد کو اس فیصلے کے خلاف یا فائیلس کا جائزہ لینے کے خلاف اپیل کرنے کے حق سے محروم کردیا جائیگا ۔ سوئیز فیڈرل کونسل نے جاریہ سال جون ہی میں فیصلہ کیا تھا کہ وہ اہم قوانین میں ترامیم کریگا کیونکہ ایسا کرنے کیلئے اس پر کئی ملکوں کا دباؤ تھا جن کا کہنا تھا کہ ان ممالک کے افراد یا اداروں نے ٹیکس چوری کرتے ہوئے ہزاروں کروڑ روپئے کی رقم سوئیز بینکوں میں جمع کر رکھی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT