Thursday , December 14 2017
Home / ہندوستان / کالے دھن کی برآمداور ٹیکس چوری میں انحطاط

کالے دھن کی برآمداور ٹیکس چوری میں انحطاط

نوٹوں کی تنسیخ کے مقاصد ناکام ‘ کانگریس ترجمان رندیپ سرجے والا کی حکومت پر تنقید
نئی دہلی۔8اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ نوٹوں کی منسوخی کے وقت اس نے کہا تھا کہ بلیک منی کو پکڑنا اور ٹیکس چوری کو روکنا اس کا مقصد ہے لیکن سرکاری اعدادو شمار اس بات کے شاہد ہیں کہ گزشتہ ایک برس میں پکڑے گئے کالے دھن اور ٹیکس چوری کی رقم میں تقریباََ ایک چوتھائی کی کمی آئی ہے ۔کانگریس ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا کا کہنا ہے کہ اگر نوٹوں کی منسوخی کا مقصد ٹیکس چوری کو پکڑکر کالے دھن کو ضبط کرنا اور جعلی نوٹوں کو پتہ لگانا تھا تو دنوں ہی مقاصد حاصل نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت غیرممالک میں کالے دھن رکھنے سے متعلق پنامہ پیپرس لیک معاملہ میں ملوث لوگوں کو بچا رہی ہے ۔مسٹر سرجے والا نے بتایا کہ مالی سال 2013-14میں جب کانگریس نے اقتدار چھوڑا تھا اس وقت ایک لاکھ ہزار 750کروڑ روپے کی ٹیکس چوری پکڑی گئی تھی۔ گزشتہ برس میں یہ کم ہوکر 27000کروڑ پر آگئی اور رواں مالی سال میں اب تک یہ رقم 18سے 20ہزار کروڑ روپے بتائی جارہی ہے ۔اس کے علاوہ نوٹوں کی منسوخی سے پہلے 16لاکھ 44ہزار کروڑ روپے کے پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹ چلن میں تھے ۔ ان میں سے 16لاکھ 27ہزار کروڑ روپے کے پرانے نوٹ واپس بینکوں میں جمع کرا دے ئے گئے جبکہ رائل بینک آف نیپال اور بھوٹان کے پاس موجود منسوخ کی گئی ہندستانی کرنسی کے اعداد و شمار اس میں شامل نہیں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ 17ہزار کروڑ روپے سے بھی کم کالا دھن تھا ؟ اس کے علاوہ محض 41کروڑ روپے کی جعلی کرنسی کا پتہ لگایا گیا جو پابندی لگائے گئے نوٹوں کا 0.0013فیصد تھی۔مسٹر سرجے والا نے حق اطلاعات کے تحت وزارت خزانہ کی جانب سے دے ئے گئے اعدادو شمار کا حوالہ دیا اور مودی حکومت سے سوال کیا کہ پنامہ پیپرس لیک معاملہ میں غیرقانونی طریقہ سے غیرممالک میں کالا دھن جمع کرنے والوں کے خلاف فوجداری معاملہ درج کرکے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور مرکزی تفتیشی بیورو نے پوچھ گچھ کیوں نہیں کی ؟ ان لوگوں کے خلاف تعزیرات ہند اور کالے دھن کو سفید بنانے سے متعلق قانون کے تحت کیوں معاملہ درج نہیں کیا گیا ؟انہوں نے الزام لگایا کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر خزانہ ارون جیٹلی پنامہ پیپرس لیک معاملہ میں ملوث کالا دھن رکھنے والوں کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں۔خیال رہے کہ مودی حکومت نے گزشتہ برس 9نومبر کو ایک ہزار اور پانچ سو روپے کے نوٹوں کا چلن بند کرکے ان پر پابندی لگا دی تھی۔

TOPPOPULARRECENT