Saturday , September 22 2018
Home / Top Stories / کالے دھن کے استعمال کو روکنے موجودہ قانون ناکافی

کالے دھن کے استعمال کو روکنے موجودہ قانون ناکافی

جھوٹی خبروں ، ڈیٹا چوری سے دنیا بھر کی جمہوریتوں کو خطرہ لاحق : راؤت

نئی دہلی ۔ 15 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) او پی راؤت نے آج کہا کہ انتخابات میں کالے دھن کے استعمال کی لعنت سے نمٹنے کیلئے موجودہ قوانین ناکافی ہیں اور اس تاثر کا اظہار کیا کہ کیمبرج انالٹیکا جیسے مشینی طریقہ کار کے ذریعہ استعمال کنندگان کی تفصیلات کا سرقہ ، ان کی تفصیلات سے فائدہ اٹھانا اور غلط و فرضی خبروں سے ملک کے انتخابی عمل کو ایک عملی و متحرک خطرہ لاحق ہے ۔ راؤت نے جو یہاں ’ ہندوستانی انتخابی جمہوری عمل کو چیلنجس ‘ کے زیرعنوان ایک سمپوزیم سے خطاب کررہے تھے کہا کہ جمہوریت محض من مانی انداز میں نہیں چلتی بلکہ اس کے لئے ہمت و حوصلہ ، اخلاق و کردار ، علم ، یکجہتی و یکسوئی جیسے اوصاف بھی درکار ہوتے ہیں جو اس ملک میں مسلسل عنقا ہورہے ہیں اور ناپیدگی کے دہانے پر پہونچ گئے ہیں ۔ چیف الیکشن کمشنر نے اس انتخابی ادارہ کو درپیش متعدد مسائل اور چیلنجس کا تذکرہ بھی کیا اور کہا کہ صاف ستھرے انتخابات دراصل ملک کے عوام اور قیادت کے لئے اخلاقی جواز کے کنویں کا ایک جھرنا قرار دیا اور کہا کہ اگر اس قسم کے مسائل و چیلنجس سے یہ جھرنا بند ہوجائے گا ، اور ٹھہراؤ پیدا ہوجائے تو عام آدمی سارے نظام کے بارے میں مشکوک ہوجائے گا جو باعث تشوش ہوگا ۔ راؤت نے چیف الیکٹورل آفیسر دہلی کی طرف سے منعقدہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’ جھوٹی و من گھڑت خبروں میں اضافے کے ساتھ ‘ اس قسم کی باتوں پر یقین کروانے کے رجحان میں اضافے کے ساتھ ، ڈیٹا کی چوری ، ڈیٹا کے استعمال کا فائدہ اٹھانے، منتخب و چنندہ انداز میں ترسیل ، پیام رسانی کو متاثر کررہی ہے بلکہ دنیا بھر میں نتائج کو بدل رہی ہے جس کا مطلب و مقصد صحتمند نمائندہ حکومت منتخب کرنے کے ایک صحتمند فیصلے میں عوامی مرضی کا اظہار کرنا ہے ۔ دنیا کی ہر جمہوریت اس قسم کے سنگین خطرہ کا سامنا کررہی ہے ۔ سی ای سی نے کہا کہ الیکشن کمیشن ان اور ایسے ہی دیگر کئی مسائل سے بخوبی باخبر ہے ۔ راؤت نے کہا کہ میڈیا کا موثر استعمال اور پیڈ نیوز ، فر ضی و غلط خبروں کے استعمال کی حوصلہ شکنی بھی وہ اہم شعبے ہیں جن پر یہ انتخابی ادارہ توجہ مرکوز کررہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT