Wednesday , December 13 2017
Home / اضلاع کی خبریں / کاماریڈی کی دینی و ملی شخصیت محمد زین العابدین کا انتقال

کاماریڈی کی دینی و ملی شخصیت محمد زین العابدین کا انتقال

ڈپٹی چیف منسٹر ، مدیران جناب زاہدعلی خاں، خان لطیف خان اور سیدوقارالدین کا اظہار تعزیت
کاماریڈی:14؍ اکتوبر( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) یہ خبر انتہائی افسوس کے ساتھ پڑھی جائے گی کہ کاماریڈی کی ممتاز شخصیت الحاج محمد زین العابدین برادر محمد علی شبیر قائد اپوزیشن لیڈر قانون ساز کونسل کا مختصر علالت کے بعد آج بعد فجر انتقال ہوگیا۔ مرحوم محمد علی شبیر کے دوسرے بھائی تھے اور مدرسہ کاشف العلوم کاماریڈی، مسجد بلال کاماریڈی کے صدر تھے ان کے انتقال کی اطلاع ملتے ہی آج صبح میں سینکڑوں افراد ان کے مکان پر جمع ہوگئے اور ان کی میت آج حیدرآباد سے کاماریڈی لائی گئی بعد نماز جمعہ مسجد عرفات و جدید عیدگاہ کے علاقہ میں نماز جنازہ ادا کی گئی ناظم مدرسہ مولوی شیخ نور الیاس نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ نماز جمعہ سے قبل قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے مرحوم زین العابدین کی مغفرت کیلئے اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ مرحوم مسجد بلال کے علاقہ میں 85لاکھ روپئے کی لاگت سے جدید کاموں کو انجام دینے کے علاوہ مدرسہ کاشف العلوم کی جدید تعمیر کاموں کو انجام دیتے ہوئے چار منزلہ عمارت  معہ لسٹ تعمیر کرتے ہوئے اپنے عزم کو پورا کیا۔ زین العابدین دینی سرگرمیوں میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے ان کے انتقال سے جو خلاء پیدا ہوا ہے اسے کبھی بھی پورا نہیں کیا جاسکتا۔ مرحوم کے اراکین خاندان کو صبر جمیل کی دعا کی۔ سینکڑوں افراد نے میت کا دیدار کیا صدر پردیش کانگریس اتم کمار ریڈی، قائد اپوزیشن قانون مقننہ جانا ریڈی، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کے علاوہ سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودھر راج نرسمہا ، مدیر سیاست جناب زاہد علی خان ، مدیر منصف خان لطیف خان کے علاوہ مدیر رہنمائے دکن سید وقار الدین کے علاوہ دیگر ممتاز شخصیتوں نے بھی محمد علی شبیر سے فون پر اظہار تعزیت کیا۔ سابق رکن اسمبلی سید یوسف علی، ڈی سی ایم ایس کے چیرمین ایم کے مجیب الدین، صدر ضلع کانگریس طاہربن حمدان، نائب صدر ضلع کانگریس کمیٹی اشفاق احمد خان، ریاستی نائب صدر میناریٹی ڈپارٹمنٹ کانگریس کریم الدین کمال، قاضی سید ارشد پاشاہ، شفیق احمد کے علاوہ علماء ، حفاظ و دیگر تنظیموں سے وابستہ افراد نے نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ تدفین احاطہ درگاہ حضرت سید نرنجن شاہ ولی ؒ میں عمل میں آئی۔ پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ تین دختران، ایک فرزند شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT