Friday , February 23 2018
Home / کھیل کی خبریں / کامران اکمل کا سلیکٹروں سے جواب طلب

کامران اکمل کا سلیکٹروں سے جواب طلب

دبئی۔26 فروری (سیاست ڈاٹ کام ) ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کارکردگی کے باوجود پاکستانی سلیکٹرس کی جانب سے نظر انداز کئے جانے والے وکٹ کیپر کامران اکمل نے سلیکشن کمیٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انہیں ٹیم سے باہر کرنے کی وجہ بتائیں۔پاکستان سوپر لیگ میں لاہور قلندرز کے خلاف عمدہ کھیل پیش کر کے پشاور زلمی کو فتح سے ہمکنار کرنے والے تجربہ کار وکٹ کیپر  نے سلیکشن کمیٹی سے سوال کیا ہے کہ ٹیم میں جگہ بنانے کیلئے انہیں مزید کیا کرنا ہو گا۔کامران اکمل نے قائد اعظم ٹرافی کے گزشتہ سیزن میں عمدہ کھیل پیش کیا اور ونڈے ایونٹ میں بھی ان کی کارکردگی نمایاں رہی لیکن اس کے باوجود دورہ آسٹریلیا کیلئے ونڈے سیریز کیلئے انہیں ٹیم کا حصہ نہیں بنایا گیا جس پر انہوں نے افسوس کا اظہار کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں ڈومیسٹک سیزن اور پی ایس ایل میں عمدہ کھیل پیش کر رہا ہوں، میں نے کارکردگی سے فٹنس بھی ثابت کردی ہے لیکن اس کے باوجود مجھے ٹیم سے باہر رکھا جا رہا ہے۔35 سالہ تجربہ کھلاڑی نے کہا کہ اب میں وہ وجوہات جاننا چاہتا ہوں جن کی وجہ سے مجھے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے، میں جاننا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں عمدہ کھیل پیش کرنے والا مجھ جیسا کھلاڑی  ٹیم میں کس طرح جگہ بنا سکے گا۔وکٹ کیپر کا ماننا ہے کہ اب بھی ان کی چند سال کی کرکٹ باقی ہے اور وہ ٹیم کیلئے خدمات انجام دے سکتے ہیں۔کامران اکمل نے کہا کہ انہوں نے ابھی بھی امید نہیں چھوڑی لیکن اگر انہیں اچھی کارکردگی کے باوجود دورہ ویسٹ انڈیز کیلئے منتخب نہیں کیا گیا تو وہ سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہو جاؤں گا۔

Top Stories

مولانا آزاد کی برسی پر تقریب کا انعقاد دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی‘ صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی اور نائب صدر جمہوریہ نے اپنا پیغام بھیجا نئی دہلی۔آزادہندو ستا ن کے پہلے وزیر اتعلیم مولانا آزاد کے ساٹھ ویں یوم وفات کے موقع پر آج ان کے مزار واقع مینابازار میں ایک تقریب کا انعقاد ائی سی سی آر کی جانب سے کیاگیا۔افسوس کی بات یہ رہی کہ اس مرتبہ بھی مولانا آزاد کی وفات کے موقع پر دہلی ومرکزی حکومت کی جانب سے کسی بڑے لیڈران نے شرکت نہیں کی۔ چونکہ جامع مسجد پر کناڈہ کے وزیراعظم کو آناتھا اس لئے تقریب کو بہت مختصر کردیا گیاتھا۔ اس دوران صدرجمہوریہ ہند کی جانب سے ان کی مزار پر گل پوشی کی گئی او رنائب صدر جمہوریہ ہند نے اپنا پیغام بھیجا۔ ائی سی سی آر کے ڈائریکٹر نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ جہاں تک مولانا آزاد کا تعلق ہے اور انہوں نے جو خدمات انجام دیں انہیں فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ ہندو مسلم میں اتحاد قائم کیااس کی مثال ملنا مشکل ہے انہوں نے بھائی چارہ کوفروغ دیا۔ انٹر فیتھ ہارمنی فاونڈیشن آف انڈیاکے چیرمن خواجہ افتخار احمد نے کہاکہ مولانا آزاد نے لڑکیوں کی تعلیم پر بہت زیادہ توجہ دی۔ جب حکومت قائم ہونے کے بعد قلمدان کی تقسیم ہونے لگے تو مولانا آزاد نے تعلیم کا قلمدان لیاتاکہ لڑکیو ں کی تعلیم پر خاص دھیان دیاجاسکے۔ خاص طور سے مسلم لڑکیو ں کی تعلیم پر زیادہ دھیان دیاجائے۔کیونکہ مسلم لڑکیو ں کو پڑھنے کے زیادہ مواقع نہیں مل پاتے ۔ معروف سماجی کارکن فیروز بخت احمد مولانا سے منسوب ایک پروگرام میں پونے گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے نمائندہ کو فون پر بتایا کہ مولانا آزاد کی تعلیمات کو قوم نے بھلادیا ہے۔ آج تک ان جیسا لیڈر پیدا نہیں ہوسکا اور افسوس کی بات ہے کہ مولانا آزاد کی برسی یا یوم پیدائش کے موقع پر دہلی یامرکزی حکومت کی جانب سے کوئی بڑا لیڈر شریک نہیں ہوتا۔ ایسا معلوم ہوتا کہ حکومت نے مولانا آزاد کو بھلادیا ہے۔ اس دوران سی سی ائی آر کی ایک کمار مولانا ابولکلام آزاد فاونڈیشن کے چیرمن عمران خان سمیت کافی لوگ موجود تھے۔
TOPPOPULARRECENT