Thursday , April 26 2018
Home / Mera Column / کامریڈمصطفیٰ علی بیگ

کامریڈمصطفیٰ علی بیگ

میرا کالم مجتبیٰ حسین
13 اگست 2001 ء کو حیدرآباد جانے کیلئے میں نئی دہلی کے ا سٹیشن پر آندھراپردیش ایکسپریس میں سوار ہونے لگا تو فکرمند تھا کہ ٹرین کا یہ لمبا سفر اکیلے نہ جانے کیسے کٹے گا ۔ برسوں میں نے اس ٹرین میں سفر کیا ہے لیکن نہ جانے کیوں اب اکیلے سفر کرتے ہوئے جی گھبراتا ہے ۔ ٹرین کے ڈبہ میں پہنچا تو دیکھا کہ برابر والی برتھ پر زبیر رضوی براجمان ہیں۔ مجھے دیکھ کر بے حد خوش ہوئے ۔ بولے ’’اچھا ہوا کہ سفر میں تمہارا ساتھ ہوگیا ورنہ ان دنوں اکیلے ہی اتنا لمبا سفر کرتے ہوئے جی گھبراتا ہے ‘‘۔ میں نے کہا ’’زبیرؔ جوں جوں آدمی کی عمر بڑھتی جاتی ہے اور اس کے سامنے زندگی کے آخری سفر پر اکیلے ہی روانہ ہونے کا مرحلہ قریب آتا نظر آتا ہے تو وہ ایسے میں گھبراتا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ میں بھی ان دنوں اکیلے سفر کرنے سے گھبراتا ہوں ‘‘۔ بہرحال زبیر کے ساتھ چھبیس گھنٹے کا یہ سفر بہت مزیدار گزرا ۔ دہلی میں زبیر سے اکثر ملاقاتیں ہوجاتی ہیں لیکن دوستوں کے درمیان، محفلوں میں یا پھر دشمنوں کے بیچ ۔ ایسی ملاقاتوں میں صرف ضروری باتیں ہی ہوپاتی ہیں اور وہ  غیر ضروری باتیں (جنہیں میں نہایت ضروری سمجھتا ہوں) نہیں ہوپاتیں۔ میں نے کہا ’’زبیرؔ ! چلو آج سردار جعفری کی نظم گفتگو بند نہ ہو، پر عمل کر کے دیکھتے ہیں ورنہ مجھے تو یہ عنوان عجیب سا لگتا ہے ‘’۔ چنانچہ اس سفر میں واقعی گفتگو بند نہ ہوئی اور صبح سے شام تلک چلتی رہی ۔ زبیر میری ٹانگ کی طرف سے فکرمند رہتے ہیں۔ کہنے لگے ’’تمہارا گھٹنا ابھی تک ٹھیک ہوتا نظر نہیں آتا۔ اب بھی تکلیف سے چلتے ہو‘‘۔ میں نے کہا ’’زبیر! اب میں اپنے گھٹنے کے بارے میں بالکل نہیں سوچتا اور نہ ہی اپنے کسی ملنے والے کو اس کے بارے میں کچھ پوچھنے کی اجازت دیتا ہوں کیونکہ اب میں نے اپنی ٹانگ کو اپنے جسم کا ’’اٹوٹ انگ‘‘ سمجھنا چھوڑدیا ہے ۔
 زبیر نے آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد کا کچھ عرصہ حیدرآباد میں گزارا تھا ۔ لہذا زبیر جب بھی حیدرآباد کی بات کرتے ہیں ، اسی حیدرآباد کی بات کرتے ہیں اور یہی حیدرآباد میری بھی کمزوری ہے ۔ وہ حیدرآباد جس میں مخدومؔ کا گلی گلی میں چرچا تھا ۔ ڈاکٹر راج بہادر گوڑ ، سلیمان اریب ، شاہد صدیقی ، اقبال متین ، شاذ تمکنت ، وحید اختر ، خورشید احمد جامی ، عزیز قیسی ، سعید بن محمد ، اختر حسن ، عالم خوندمیری ، احسن علی مرزا ، عابد علی خان ، محبوب حسین جگر ، میر حسن ، اشفاق حسین اور ابن احمد تاب وغیرہ کا حیدرآباد ۔ (خوش قسمتی سے اس حیدرآباد کی دو قیمتی نشانیاں ڈاکٹر راج بہادر گوڑ اور اقبال متین اب بھی ہمارے درمیان موجود ہیں) ۔ اس گزشتہ حیدرآباد کی باتوںکو ہم یاد کرنے لگے تو زبیرؔ نے اچانک کہا’’یار! ترقی پسند تحریک سے وابستہ لوگوں میں کامریڈ مہندرا اور جہاں دار افسر کے ساتھ ایک مصطفیٰ علی بیگ بھی ہوا کرتے تھے ۔ بڑے عرصہ سے ان سے ملاقات نہیں ہوئی ۔ ان کا کیا حال ہے؟‘‘۔ میں نے کہا ’’مصطفیٰ علی بیگ خیریت سے ہیں۔ بہت کمزور ہوگئے ہیں لیکن اب بھی ’سیاست‘ آتے ہیں۔ تم ’سیاست‘ آجاؤ تو مصطفیٰ علی بیگ سے تمہاری ملاقات ہوسکتی ہے‘‘۔ زبیرؔ نے کہا ۔ ’’ایک زمانہ میں مصطفیٰ علی بیگ سے جلسوں اور جلوسوں میں خاصی ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں۔ اس بار میں اُن سے ضرور ملوں گا ‘‘۔ (مجھے معلوم نہیں تھا کہ جب ہم یہ باتیں کررہے تھے تو اس وقت تک مصطفیٰ علی بیگ کو اس دنیا سے رخصت ہوئے چھ دن بیت چکے تھے) ۔ سکندرآباد کے اسٹیشن پُر اترا تو کسی دوست نے مصطفی علی بیگ کے انتقال کی خبر سنائی ۔ حیدرآباد آکر ایسی خبریں سنتے ہوئے مجھے ہمیشہ ہی شدید دکھ ہوتا ہے کیونکہ اس طرح حیدرآباد میرے لئے کچھ اور بھی چھوٹا ہوجاتا ہے۔
 1953 ء میں گلبرگہ کاٹیج کی کسی تقریب میں مصطفیٰ علی بیگ کو سب سے پہلے دیکھا تھا ۔ ان دنوں وہ کمیونسٹ پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں سے وابستہ تھے۔ وہ مخدوم محی الدین اور ڈاکٹر راج بہادر گوڑ کے زبردست پرستاروں میں سے تھے ۔ میرا تعلق  بائیں بازو کے طلبہ کی انجمن آل حیدرآباد اسٹوڈنٹس یونین سے تھا ۔ وہ بے حد مخلص ، راست  باز، بے لوث اور لگن والے آدمی تھے ۔ جو کام بھی کرتے نہایت لگن اور خلوص کے ساتھ کرتے تھے ۔ بعد میں ترقی پسند تحریک اور کمیونسٹ پارٹی کی سرگرمیاں کمزور پڑگئیں تو عابد علی خاں اور محبوب حسین جگر نے انہیں’’سیاست‘‘ میں بلالیا تھا ۔ پچاس کی دہائی میں وہ’’سیاست‘‘ سے وابستہ ہونے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی آخر وقت تک ’’سیاست‘‘ سے ان کی وابستگی کسی نہ کسی طرح برقرار رہی ۔ ابتداء میں مرزا حیدر حسن ’’سیاست’‘ کے جنرل مینجر رہے ۔ ان کے لندن چلے جانے کے بعد مصطفی علی بیگ جنرل مینجر بن گئے ۔ جب بھی دیکھئے کسی نہ کسی کام میں منہمک اور مصروف رہا کرتے تھے ۔ عابد علی خاں اور محبوب حسین جگر ان پر بے حد اعتماد کرتے تھے اور انہوں نے کبھی ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچنے نہیں دی ۔ وہ مجھے بہت عزیز رکھتے تھے اور اپنی محبتیں مجھ پر نچھاور کیا کرتے تھے ۔ اس وقت مجھے ایک واقعہ یاد آگیا ۔ پچاس کی دہائی میں ملے پلی میں بائیں بازو کے محاذ کا کوئی جلسہ مقرر تھا۔ سردیوں کے دن تھے۔ مخدوم بھائی غالباً روس کے دورہ سے واپس آئے تھے ۔ انہوں نے مصطفی علی بیگ کو دیکھا کہ سردی میں ٹھٹھرے چلے جارہے ہیں۔ ان کی اس حالت کو دیکھ کر مخدوم نے کہا ۔ ’’مصطفیٰ ! میرے پاس ایک گرم کوٹ ہے جو میں ماسکو سے لے آیا ہوں ۔ کل تم مجھ سے یہ کوٹ لے لینا ‘‘۔ دوسرے دن مخدوم بھائی نے انہیں یہ کوٹ دے دیا ۔ کچھ دن بعد مصطفیٰ علی بیگ کی مخدوم محی الدین سے ملاقات ہوئی تو مصطفیٰ علی بیگ نے اس گرم کوٹ کیلئے مخدوم بھائی کا شکریہ ادا کیا اور کہا ’’ مخدوم بھائی ! آپ کا کوٹ تو بہت گرم ہے، سردی سے پورا بچاؤ ہورہا ہے لیکن اس کوٹ کا استر اندر سے پھٹا ہوا ہے ۔ اگر آپ اسے سلواکر دیں تو ممنون ہوں گا ‘‘۔ اس پر مخدوم بھائی نے مصطفیٰ علی بیگ کو چونّی دی اور کہا ۔ ’پہلے تم جاکر اس پیسے سے پان کھاکر آؤ‘‘ مصطفیٰ علی بیگ بولے۔ ’’میں پان نہیں کھاتا۔ پان کھاکر کیا کروں گا‘‘۔ مخدوم بھائی بولے ۔’’میں یہ چاہتا ہوں کہ پان کھاکر تم مجھ پر تھوکو تاکہ مجھے احساس ہو کہ میں نے یہ کوٹ تمہیں دیا ہی کیوں تھا ۔ ایک تو تمہیں کوٹ دو اور اوپر سے اسے سلواکر بھی میں ہی دوں‘‘۔ یہ کہہ کر مخدوم بھائی نے زوردار قہقہہ لگایا ‘‘۔ مصطفیٰ علی بیگ جب بھی اس واقعہ کو سناتے تھے تو بے ساختہ ہنستے تھے۔ مخدوم محی الدین اور ڈاکٹر راج بہادر گوڑ کا وہ بے حد احترام کرتے تھے بلکہ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ وہ ان دونوں کو کارل مارکس اور لینن سے زیادہ بڑے کمیونسٹ رہنما سمجھتے تھے ۔
مصطفیٰ علی بیگ کے بارے میں اب سوچتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے آخری حصہ میں بے حد جذباتی اور رقیق القلب ہوگئے تھے ۔ عابد علی خاں اور محبوب حسین جگر کا جب بھی ذکر کرتے آبدیدہ ہوجاتے تھے ۔ انہوں نے اپنے دل میں کبھی کسی کیلئے برائی نہیں رکھی اور نہ ہی کسی کے خلاف کچھ کہا ۔ وہ محبت اور خلوص کا ایک خالص پیکر تھے ۔ ایسے لوگ آج کے زمانہ میں کم ہی پیدا ہوتے ہیں۔ ’’سیاست‘‘ کے دفتر کے احاطہ میں داخل ہوتے ہی ان کا کمرہ بالکل سامنے پڑتا تھا ۔ میں جب بھی ’سیاست‘ جاتا تو سب سے پہلے ان ہی سے ملتا تھا۔ بے حد محبت سے پیش آتے تھے ۔ انہوں نے خود تو کبھی ادیب ہونے کا دعویٰ نہیں کیا لیکن زبان بہت اچھی لکھتے تھے ۔ ادب کا نہایت صاف ستھرا ذوق رکھتے تھے اور اس حوالہ سے حیدرآباد کے سارے ادیبوں اور شاعروں سے ان کے گہرے مراسم تھے ۔ اپنے چھوٹوں کا بڑا خیال رکھتے تھے، انہیں عزیز رکھتے تھے اور ان کی ہمت افزائی کرتے تھے ۔ مجھے بھی بارہا ان کی ہمت افزائیوں کو سمیٹنے کا موقع ملا۔ ایک بے لوث ، بے ریا ، مخلص ، دیانتدار ، سچے اور فعاّل انسان کی حیثیت سے مصطفیٰ علی بیگ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
(19 اگست 2001 ئ)
TOPPOPULARRECENT