Friday , December 15 2017
Home / کھیل کی خبریں / کامیابی بولروں کی شاندار کارکردگی کا ثمرآور نتیجہ:کوہلی

کامیابی بولروں کی شاندار کارکردگی کا ثمرآور نتیجہ:کوہلی

 

سخت چیلنچ دینے پر میزبان کپتان کی نیوزی لینڈ کو مبارکباد
ریکارڈسے زیادہ ٹیم کی کامیابی کو ترجیح

کانپور۔30 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) تیسرے اور فیصلہ کن ونڈے میں نیوزی لینڈ کو دلچسپ انداز میں 6 رنز سے شکست دیکر سیریز جیتنے کے بعد ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے اس کا سہرا اپنے ٹیم کے بولروں کے سر باندھا۔ہندوستان نے گذشتہ رات روہت شرما(147) اور کپتان ویراٹ کوہلی (113) کی بہترین سنچریوں اور دونوں کے درمیان دوسرے وکٹ کے لئے 230 رنز کی بڑی شراکت کے بعد یارکر مین جسپریب بمراہ نے اہم موقعوں پر درست حملے کرتے ہوئے تیسرے اورآخری مقابلے میں نیوزی لینڈ کو 6 رنز سے ہراکر تین میچوں کی سریزی 2۔1 سے جیت لی۔کوہلی نے اس دلچسپ فتح کے بعد کہا کہ میں نیوزی لینڈ کو اس کا سہرا دینا چاہوں گا جنہوں نے تینوں میچوں میں ہمیں سخت چیلنج دیا۔ انہوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا اور اسی وجہ سے ہم بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرسکے ۔ اچھا کھیلنے کے لئے کیوی ٹیم کو مبارکباد۔ میں نے بولروں کو ان کے حساب سے کھیلنے کا فیصلہ کیا تھا، اس لئے میں مطمئن تھا۔ یہاں پر بولروں کے لئے مشکل تھی کیونکہ گیند بیٹ پر آسانی سے آرہی تھی۔ اسٹیڈیم میں نمی تھی لیکن ہمارے بولروں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ہندوستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ50 اووروں میں چھ وکٹ کے نقصان پر 337 رن بنائے اور دلچسپ اتار چڑھاؤ سے گزرتے ہوئے مہمان ٹیم کو سات وکٹ پر 331 رن پر روک کر لگاتار ساتویں دو فریقی سیریز اپنے نام کرلی ۔کوہلی نے کہا کہ ہم نے آخری 15 اووروں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پچ دھیمی ہورہی تھی جس کی وجہ سے ہم نے ممکنہ 25 رن کم بنائے ۔ اس پچ پر اپنے شاٹس کھیلنا مشکل ہورہا تھا لیکن مجھے خوشی ہے کہ بولروں نے اپنا کام بخوبی انجام دیا جس کی وجہ سے ہم جیت کی دہلیز تک پہنچ سکے ۔ یہ ہمارے لئے ناک آؤٹ میچ تھا اور کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیت کا بہترین مظاہرہ کیا۔اس میچ میں کوہلی ونڈے کرکٹ میں سب سے تیز نو ہزار رن بنانے والے بیٹسمین بن گئے ہیں اور انہوں نے جنوبی افریقہ کے اے بی ڈی ویلیئرس کا ریکارڈ توڑ دیا ہے ۔کپتان نے کہا کہ میرا نشانہ ٹیم کے لئے میچ اور سیریز جیتنا تھا اگر انفرادی طور پر میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکوں تو یہ ٹیم کے لئے بونس کے جیسا تھا۔ ریکارڈس کو نظرانداز کرنا مشکل ہے کیونکہ ہم کافی لوگوں سے یہ سنتے رہتے ہیں لیکن کسی بھی حالت میں ہمارا خاص ہدف میچ میں فتح حاصل کرنا ہوتا ہے ۔وراٹ اپنے202 ویں ونڈے اور194 ویں اننگز میں 9000 رن مکمل کرنے کے سنگ میل تک پہنچے ہیں جبکہ ڈی ویلیئرس نے9000 رنز پورے کرنے کے لئے 214 میچ اور 205 اننگز کھیلی تھیں۔ کوہلی کے اب 202 میچوں میں9030 رنز ہوگئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT