Monday , December 11 2017
Home / شہر کی خبریں / کامیابی کے نشہ میں چیف منسٹر کا ذہنی توازن ختم

کامیابی کے نشہ میں چیف منسٹر کا ذہنی توازن ختم

کانگریس قیادت پر ناشائستہ الفاظ کے استعمال کے خلاف جاناریڈی کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 7 اکٹوبر (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن کے جاناریڈی نے کہا کہ جمہوریت میں جیت ہار لگی رہتی ہے۔ کانگریس کے دورحکومت میں جب کے سی آر میرے گھر آئے تھے تب وہ آج جس لب و لہجہ میں بات کررہے ہیں اس وقت وہ موقف میں نہیں تھے۔ جے اے سی کیلئے کودنڈارام کے نام کی کے سی آر نے سفارش کی جس کو وہ قبول کرچکے تھے۔ کامیابی کے نشہ میں ذہنی توازن کھودینا ان کے اور کانگرسی قیادت کے خلاف ناشائستہ الفاظ کا استعمال کرنا کے سی آر کو زیب نہیں دیتا۔ چیف منسٹر پہلے اپنا محاسبہ کریں۔ آج اسمبلی کے میڈیا ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے جاناریڈی نے چیف منسٹر کو سخت جواب دیا۔ جواہر لعل نہرو، اندرا گاندھی اور صدر کانگریس مسز سونیا گاندھی کی تلنگانہ پر احسانات کو گنواتے ہوئے کہا کہ احسان فراموشی کرنا کے سی آر کیلئے مناسب نہیں رہے گا۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد اسمبلی کے پہلے اجلاس میں نئی ریاست میں صحتمندانہ سیاست کی شروعات کرنے کا تمام سیاسی جماعتوں نے متفقہ فیصلہ کیا تھا۔ تاہم کے سی آر غیرشائستہ الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے سیاسی ماحول کو آلودہ بنارہے ہیں۔ کامیابی مستقل نہیں ہوتی۔ ریاست کی سیاست میں نئی سیاسی جماعت تشکیل دیتے ہوئے اقتدار حاصل کرنے والے این ٹی آر کو بھی آئندہ انتخابات میں شکست ہوئی تھی۔ اپوزیشن کے تعمیری رول کی نشاندہی کو پہچاننے میں ناکام ہونے والے چیف منسٹر ترقیاتی کاموںمیں رکاوٹ پیدا کرنے کا اپوزیشن پر جھوٹا من گھڑت الزام عائد کررہے ہیں۔ آج جو تلنگانہ میں بی ایچ ای ایل، ایچ سی ایل، ڈیفنس، آرڈیننس جیسی سینکڑوں کمپنیاں قائم کرنے کا اعزاز گاندھی خاندان کو ہے۔ کئی بڑے آبپاشی پراجکٹس بھی تعمیر کرائے گئے ہیں۔ ملک کے اتحاد اور سالمیت کیلئے اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی نے اپنی زندگیاں قربان کردی۔ سیاسی مفاد پرستی کیلئے چیف منسٹر نے انہیں بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سونیا گاندھی نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دی۔ اس کا بھی پاس و لحاظ نہیں رکھا گیا۔ مجھے (کے جاناریڈی) کو چور بدشگون کہا گیا، جس پر انہیں کافی تکلیف پہنچی ہے کیونکہ انہوں نے کبھی کسی کو دھوکہ نہیں دیا اور نہ ہی کسی کو بلیک میل کیا۔ وزارت یہاں تک کہ اسمبلی کے ٹکٹ کیلئے بھی کبھی پیروی نہیں کی۔ تلنگانہ کی تحریک میں ہر سیاسی جماعت نے اپنی اپنی جدوجہد کی ہے۔ چیف منسٹر کا یہ الزام عائد کرنا کہ کانگریس کودنڈارام پر بھروسہ کرتے ہوئے شکست سے دوچار ہوگئی نامناسب ہے کیونکہ کانگریس نے کے سی آر پر بھی بھروسہ کیا تھا۔ قائد اپوزیشن نے چیف منسٹر کو اپنا محاسبہ کرنے کا مشورہ دیا۔

TOPPOPULARRECENT