Sunday , December 17 2017
Home / شہر کی خبریں / کامیاب انٹرپرینیورشپ کے لیے تخلیقی صلاحیت،جدت اور جوکھم اٹھانے کا حوصلہ ضروری

کامیاب انٹرپرینیورشپ کے لیے تخلیقی صلاحیت،جدت اور جوکھم اٹھانے کا حوصلہ ضروری

حیدرآباد، 28؍ اکتوبر (پریس نوٹ) کامیاب انٹرپرینر بننے کے لیے فرد میں تخلیقی صلاحیت، جدت اور جوکھم اٹھانے کے حوصلہ کے ساتھ ساتھ مسلسل جدوجہد کی اہلیت ہونی چاہیے۔ جدید دنیا میں ٹکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے ہر کسی کو اس میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کردیے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار بمبئی اسٹاک ایکسچینج کے منیجنگ ڈائرکٹر اور چیف ایکزیکٹیو آفیسر مسٹر آشیش کمار چوہان نے آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں’تعلیم سے انٹرپرینیورشپ تک‘ کے موضوع پر منعقدہ ایک روزہ ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وہ بحیثیت مہمان خصوصی مخاطب تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں ٹکنالوجی کے پھیلنے کی رفتار بہت تیز ہوچکی ہے۔ گزشتہ صدیوں میں جب بھاپ انجن ایجاد ہوا تھا توا س کو دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچتے پہنچتے دو سوسال لگ گئے لیکن آج مختلف ایجادات انتہائی کم عرصے کے اندر پوری دنیا میں پھیل جاتی ہیں۔ ٹکنالوجی کی یہ قوت آج ہر انسان کو حاصل ہے جس کی مددسے وہ کامیاب انٹر پرینیور بن سکتا ہے ۔ امتیازی سلوک کی شکایت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ آج ملک کا ہر طبقہ اپنے ساتھ امتیازی سلوک اور ناانصافی کی شکایت کرتا نظر آرہا ہے اور اپنے لیے مختلف تحفظات کا مطالبہ کرنے لگا ہے۔ اس لیے اس کو اپنی کامیابی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس ورکشاپ کا اہتمام امریکی قونصل خانہ ، حیدرآباد اور دی انڈس انٹرپرینیورس کے اشتراک سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے کیا تھا۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت یونیورسٹی کے چانسلر جناب ظفر سریش والا نے کی اور کہا کہ انٹر پرینیور پیدائشی نہیں ہوتا بلکہ تربیت سے بنتا ہے اس کے لیے یونیورسٹیوں کو کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو انڈسٹری سے مربوط ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی قونصل جنرل متعینہ حیدرآباد، محترمہ کیتھرین ہڈا نے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹیوںکے کیمپس مستقبل کے انٹرپرینرس کو تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اس لیے دوران تعلیم اس میدان کی تربیت ملک و قوم کی ترقی و خوشخالی کے لیے بہت ضروری ہے۔ امریکہ پچھلے چند برسوں سے ہندوستان میں نوجوان انٹرپرینرس کی تیاری کے لیے متنوع اور اختراعی نوعیت کے کام کررہا ہے۔ انٹر پرینیورس کے عالمی اجلاس بھی اس کا ایک حصہ ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہر حیدرآباد اپنے مخصوص احوال کے اعتبار سے نئے انٹرپرینرس کا ایک اہم مرکز بنتا جارہا ہے۔زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے تاسیسی صدر جناب سید ظفر محمود نے کہا کہ انسان کو کامیابی کے لیے زماں و مکاں سے اوپر اٹھنا اور دنیامیں اپنی زندگی کے وسیع امکانات کو سمجھنا چاہیے۔ انسان کو اللہ نے اس آزمائش کے لیے پیدا کیا کہ کون اچھا عمل کرتا ہے اور اچھے عمل سے مراد وہ سارے اعمال ہیں جو انسانوں کے لیے فائدہ مند ہوں۔ افتتاحی اجلاس میں نوجوان آسٹریلوی انٹرپرینر مس لوریٹا جوزف، مالیاتی کنسلٹنٹ؛ مسٹر جوزف وین برگ ، پے کیس، کناڈا کے کو فاؤنڈر اور سی ای او اور محترمہ دینو رہیجا نے بھی خطاب کیا۔

TOPPOPULARRECENT