Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / کام کے مقام پر خواتین کو جنسی ہراسانی سے محفوظ رکھنا ضروری

کام کے مقام پر خواتین کو جنسی ہراسانی سے محفوظ رکھنا ضروری

حیدرآباد 16 فبروری (پریس نوٹ) نلسار یونیورسٹی آف لا کے سنٹر فار مینجمنٹ اسٹڈیز کی جانب سے جس نے ایک منفرد ایم بی اے پروگرام کا آغاز کیا ہے، کام کے مقام پر جنسی ہراسانی پر اس کے پہلے ایچ آر کانکلیو (جلسہ) کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ وائس چانسلر پروفیسر فیضان مصطفیٰ نے اپنے خطاب میں کہاکہ تین خواتین میں ایک کو جنسی ہراسانی کا سامنا ہ

حیدرآباد 16 فبروری (پریس نوٹ) نلسار یونیورسٹی آف لا کے سنٹر فار مینجمنٹ اسٹڈیز کی جانب سے جس نے ایک منفرد ایم بی اے پروگرام کا آغاز کیا ہے، کام کے مقام پر جنسی ہراسانی پر اس کے پہلے ایچ آر کانکلیو (جلسہ) کا انعقاد عمل میں لایا گیا۔ وائس چانسلر پروفیسر فیضان مصطفیٰ نے اپنے خطاب میں کہاکہ تین خواتین میں ایک کو جنسی ہراسانی کا سامنا ہوتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ صرف قوانین اور عدالتوں سے جنسی ہراسانی کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اسے سماجی بیداری اور رویہ میں تبدیلی کے ذریعہ ختم کیا جاسکتا ہے۔ ممتاز قانون داں اور ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل آف انڈیا اندرا جئے سنگھ نے ان کے کلیدی خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ کو جوابدہ بنانے کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے جنسی ہراسانی کے اس اہم موضوع پر مباحث شروع کرنے پر نلسار یونیورسٹی کے اقدام کی ستائش کی۔ پروفیسر امیتا ڈھنڈا کنوینر پروگرام نے اس بات کو قبول کیاکہ صرف قانون سے تبدیلی نہیں آسکتی بلکہ قانون کے بغیر کوئی مفید تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔ پروفیسر کلپنا کنابیرن ڈائرکٹر سنٹر فار ڈیولپمنٹ اسٹڈیز نے مخالف ماحول پر روشنی ڈالی اور کہاکہ کام کے مقام پر خاتون ملازمین کو برابر کے انسان سمجھا جانا چاہئے اور انھیں پوری خود مختاری حاصل ہونی چاہئے اور انھیں باوقار سمجھا جائے۔ پروفیسر این ایل مترا سابق وائس چانسلر نیشنل لا اسکول بنگلور نے جو افتتاحی سیشن کے مہمان خصوصی تھے، اس بات پر اطمینان کا اظہار کیاکہ خاتون ملازمین کارپوریٹ دنیا میں داخل ہورہی ہیں جہاں کسی غلط بات کو برداشت نہیں کیا جاتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT