Saturday , November 18 2017
Home / انتقال نام / کانسٹیبل محمد عبدالقدیر کا انتقال، بارگاہ حضرات یوسفینؒ میں تدفین

کانسٹیبل محمد عبدالقدیر کا انتقال، بارگاہ حضرات یوسفینؒ میں تدفین

نماز جنازہ میں ایڈیٹر سیاست زاہد علی خان ، منیجنگ ایڈیٹر ظہیرالدین علی خان اور دیگر معززین کی شرکت

حیدرآباد۔15ستمبر (سیاست نیوز) کانسٹبل محمد عبدالقدیر کا آج بعمر 55سال ان کے مکان میں انتقال ہوگیا۔ کانسٹبل محمد عبدالقدیر کی نماز جنازہ تاریخی مکہ مسجد میں 15ستمبر بروز جمعہ بعد نماز عصر ادا کی گئی ۔ مولانا محمد رضوان قریشی خطیب و امام مکہ مسجد نے نماز جنازہ پڑھائی اور مرحوم کے لئے مغفرت ودرجات کی بلندی کیلئے دعاء کی۔ محکمہ پولیس کی جانب سے مکہ مسجد میں نماز جنازہ کے موقع پر خصوصی انتظامات کئے گئے تھے ۔ نماز جنازہ میں شرکت کرنے والی اہم شخصیات میں جناب زاہد علی خان ایڈیٹر روزنامہ سیاست ‘ جناب ظہیر الدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست ‘ جناب مجید اللہ خان فرحت صدر مجلس بچاؤ تحریک‘ جناب سیداحمد پاشاہ قادری رکن اسمبلی چارمینار ‘ مولانا نصیرالدین ‘جناب محمد عبدالقدیر صدیقی سپرنٹنڈنٹ مکہ مسجد‘مولانا حافظ محمد عثمان نقشبندی امام مکہ مسجد‘ مولانا سید غلام صمدانی علی قادری ‘ جناب عثمان بن محمد الہاجری‘ جناب ابو طلحہ امجد‘ جناب ماجد خان ‘ الطاف نصیب خان کے علاوہ دیگر سیاسی‘ مذہبی اور سماجی تنظیموں سے تعلق رکھنے والی شخصیات شامل ہیں۔ مرحوم محمد عبدالقدیر کے انتقال کی اطلاع کے ساتھ ہی ان کا آخری دیدار کرنے اور پسماندگان کو پرسہ دینے والوں کا ان کے مکان پر تانتا بندھ گیا۔ بعد ادائیگی نماز جنازہ بارگاہ حضرات یوسفین ؒ نامپلی میں تدفین عمل میں لائی گئی ۔ کانسٹبل محمد عبدالقدیر حیدرآباد میں 1990 میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران اپنے اعلی عہدیدار پر گولی چلانے کے بعد سے قید و بند کی زندگی گذار رہے تھے اور زائد از 25برس انہوں نے جیل میں گذارے اور موجودہ حکومت تلنگانہ نے ان کی بگڑتی صحت کے متعلق متعدد نمائندگیوں کے بعد انہوں رہا کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور انہیں 29مارچ 2016کو مکمل رہا کردیا گیا تھا اور اس وقت سے وہ اپنے گھر میں زندگی گذار رہے تھے۔ 8ڈسمبر 1990 کو فرقہ وارانہ فسادات کے دوران انہوں نے اپنے سینیئر عہدیدار اے سی پی این ۔ ستیا پر گولی چلا کر انہیں ہلاک کردیا تھا اور اس مقدمہ میں 31ڈسمبر 1992 کو عدالت نے انہیں خاطی قرار دیتے ہوئے سزائے عمر قید سنائی تھی لیکن 14سال گذر جانے کے باوجود ان کی رہائی کے کوئی آثار نہیں تھے لیکن متعدد تنظمیوں اور ادارہ سیاست کی جانب سے مختلف حکومتوں سے نمائندگی کا سلسلہ جاری رہا لیکن علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد اور اس سے قبل جسٹس مارکنڈے کاٹجونے بھی چیف منسٹر کو مکتوبات روانہ کرتے ہوئے عبدالقدیر کو رہا کرنے کے تحریری جواز پیش کئے تھے۔ عبدالقدیر کے پسماندگان میں ان کی بیوہ کے علاوہ 3لڑکے لڑکیاں شامل ہیں۔ کانسٹبل عبدالقدیر کے جنازہ میں شریک افراد ان کی 25سالہ قید و بند کی صعوبتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے اہم 25برس جیل میں گذار دیئے کیونکہ انہیں جس وقت سزاء سنائی گئی تھی اس وقت ان کی عمر 29 سال تھی۔ مزید تفصیلات کیلئے فون نمبر 9177868606پر ربط قائم کیا جا سکتا ہے۔
(نماز جنازہ اور تدفین تصویریں صفحہ 2 پر )

TOPPOPULARRECENT