کانپور فسادات مقدمہ کے 4 مسلم 17 سال بعد سپریم کورٹ سے بری

نئی دہلی ۔16 ڈسمبر۔( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے فساد برپا کرنے ، قتل اور دہشت گرد سرگرمیوں کے الزامات سے 4 مسلمانوں کو جنھیں کانپو رفسادات 2001 ء کے کلیدی ملزم قرار دیا گیاتھا ، بری کردیا کیونکہ استغاثہ سپریم کورٹ کے اجلاس پر ٹھوس ثبوت فراہم کرنے سے قاصر رہا ۔ حکومت یوپی کی سید واصف حیدر اور دیگر 3 کے خلاف اپیل کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی بنچ نے جو جسٹس این وی رامنّا اور جسٹس موہن ایم شانتنو گوڈر پر مشتمل تھی پولیس کی تحقیقات میں کئی کوتاہیوں کی نشاندہی کی اور رائے ظاہر کی کہ الہٰ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں کسی قسم کی کج روی موجود نہیں ہے جس نے واصف حیدر کو حاجی عتیق ، ممتاز اور شفاعت رسول کو 29 مئی 2009 ء کو بری کردیا تھا ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اُس نے قابل وکلاء کی دلائل کی سماعت کی جو فریقین کی پیروی کررہے تھے ۔ ابتداء میں صرف کج روی کی موجودگی کی شکایت کی گئی ہے ۔ جو حقائق کے بیان اور قانون میں موجود تھی ۔ علاوہ ازیں یہ مفروضہ غلط ثابت ہوا کہ مزید تحقیقات مبینہ ملزمین کے خلاف کی جائے ۔ ان ملزمین کو بری کیا جاتا ہے اور فیصلہ اُن کے حق میں سنایا جاتا ہے ۔ بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کی بنچ کا خیال ہے کہ مذکورہ بالا حکم نامہ سے ہم متفق ہیں جس میں ہائیکورٹ کی جانب سے ملزمین کو بری کردیا گیا ہے ۔ کیونکہ موجودہ مقدمہ کئی تحقیقات کا بوجھ برداشت کرچکا ہے اور ان میں کئی جھول پائے جاتے ہیںجو مسئلہ کی بنیاد تک پہونچتے ہیں ۔ انھوں نے کہاکہ ہم ان تمام کی سلسلہ وار پابجائی کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT