Saturday , October 20 2018
Home / Top Stories / ’کانگریس، مراعات سے محروم تمام مظلوم افراد کیساتھ‘

’کانگریس، مراعات سے محروم تمام مظلوم افراد کیساتھ‘

’خوف و نفرت کا خاتمہ اصل نصب العین، مذہب، ذات پات کی اہمیت نہیں‘ : بی جے پی کو راہول گاندھی کا جواب
نئی دہلی 17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے ’کانگریس کے مسلمانوں کے ساتھ ہونے‘ سے متعلق ان سے منسوب ریمارکس پر پیدا شدہ تنازعہ پر خاموشی توڑتے ہوئے آج کہاکہ کانگریس مظلومین اور مراعات سے محروم افراد کے ساتھ ہے اور ’خوف و نفرت‘ کا خاتمہ کرنا چاہتی ہے۔ کانگریس نے ایک اُردو روزنامہ میں شائع شدہ راہول گاندھی سے منسوب اس ریمارک کو غلط اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔ کانگریس کے صدر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’’میں ظلم و ستم اور استحصال کے شکار، اور مراعات سے محروم غریب افراد کے ساتھ ہوں۔ ان کا مذہب، ذات پات اور عقائد کے معاملات میرے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہیں‘‘۔ ’’میں درد و تکلیف میں مبتلا افراد تک پہونچنا اور ان کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ مَیں نے خوف و نفرت کو مٹادیا اور مَیں تمام جانداروں سے محبت کرتا ہوں۔ مَیں کانگریس ہوں‘‘۔ بی جے پی اور کانگریس اس مسئلہ پر ایک دوسرے پر رکیک لفظی حملوں میں ملوث ہیں جبکہ ایک اُردو اخبار نے خبر دی تھی کہ راہول گاندھی نے گزشتہ ہفتہ کے اوائل میں مسلم دانشوروں سے ملاقات کے دوران اُن سے کہا تھا کہ کانگریس مسلمانوں کی جماعت ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اواخر ہفتہ اعظم گڑھ میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کے دوران یہ مسئلہ اُٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’مَیں نے ایک اخبار میں پڑھا ہے کہ کانگریس کے صدر نے کہا ہے کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے اور گزشتہ دو دن سے اس مسئلہ پر بحث و مباحثے جاری ہیں‘‘۔ مودی نے مزید کہا تھا کہ ’’اس (راہول کی) بات پر مجھے کوئی حیرت نہیں ہے کیوں کہ منموہن سنگھ نے بھی جب وہ وزیراعظم تھے، یہ کہا تھا کہ قدرتی وسائل پر پہلا حق مسلمانوں کا ہے‘‘۔ راہول کے مبینہ ریمارکس اور ان پر مودی کی تنقیدوں نے اس مسئلہ پر سیاسی چنگاری بھڑکا دی تھی۔ بی جے پی نے الزام عائد کیاکہ خوشامدخوری کی سیاست سے ملک کو نقصان پہونچا ہے۔ جس کے جواب میں اپوزیشن کانگریس نے بی جے پی پر ملک میں نفرت و انتشار کے بیج بوتے ہوئے اپنی حکمرانی جاری رکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔ کانگریس نے بی جے پی کو ’’ایسٹ انڈیا کمپنی کا نیا چربہ‘‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیاکہ وہ بھی انگریزوں کی طرح پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کانگریس میں کمیونکیشنس کے انچارج رندیپ سرجے والا نے وضاحت کی کہ جس اخبار نے گاندھی کے حوالہ سے یہ خبر شائع کی ہے اس کا کوئی نمائندہ، مسلم دانشوروں کے راہول گاندھی سے ملاقات اور بات چیت کے موقع پر موجود نہیں تھا اور راہول گاندھی نے ایسا کوئی ریمارک نہیں کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT