Tuesday , January 23 2018
Home / اے پی ڈائری / کانگریس ، تلگو دیشم سیاسی تنزلی کے خود ذمہ دار ہوں گی

کانگریس ، تلگو دیشم سیاسی تنزلی کے خود ذمہ دار ہوں گی

اے پی ڈائری خیراللہ بیگ

اے پی ڈائری خیراللہ بیگ
آندھرا پردیش میں لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے لئے سیاسی اتحاد کا بخار شدت سے چڑھنے کے بعد سرد پڑتا دکھائی دے رہا ہے ۔ کانگریس اور ٹی آر ایس نے کوئی اتحاد نہیں کیا ۔ البتہ سب سے زیادہ سرخیوں میں رہنے والی تلگو دیشم اور بی جے پی کا اتحاد دم توڑنے کے دہانے پر پہونچ گیا تھا ۔ چندرا بابو نائیڈو کو بی جے پی سے اتحاد کا خمیازہ بھگنے کے لئے تیارہونا تھا لیکن انھیں اس اتحاد کی خرابیوں اور سیاسی نقصانات کا فوری نہ سہی دھیرے دھیرے اندازہ ہونے لگا ہے ۔ اب واضح ہورہا ہے کہ چندرا بابو نائیڈو عوامی لیڈر نہیں بلکہ چالاک سیاستداں ہیں ۔ بی جے پی کی طرح تلگو دیشم نے بھی اپنی سیاسی چالوں کو چلنے کی کوشش کی لیکن ایک میان میں دو تلواریں کس طرح رہ سکیں گی یہ عوام کے لئے دلچسپی کا باعث تھا ۔

تلنگانہ میں اتحاد کرتے ہوئے بی جے پی ، تلگو دیشم نے خود کی انتخابی شکست سے زیادہ ضمانت ضبط ہونے کی خبط سے بچانے کی کوشش کی لیکن سیما آندھرا میں بی جے پی کی وجہ سے تلگو دیشم کو جو بھاری نقصان ہورہا ہے اس کا اندازہ ہوچکا ہے ۔ وزارت عظمی کے امیدوار نریندر مودی کے ساتھ ایک شہ نشین پر بیٹھنے کی آرزو رکھنے والے چندرا بابو نائیڈو کو مایوسی ہورہی ہے کہ مودی کے ساتھ یا مودی کی پارٹی سے ہاتھ ملانے کا بھاری سیاسی نقصان تلگو دیشم کو سیاسی ہستی سے مٹاسکتا ہے ۔ سیما آندھرا میں 25 لوک سبھا حلقوں کے منجملہ بی جے پی 4 لوک سبھا حلقوں سے اور تلگو دیشم 21 حلقوں سے مقابلہ کررہی ہے مگر بی جے پی کے لئے سیما آندھرا میں پارٹی کوکامیابی دلانے والے امیدوار نہیں مل رہے ہیں جس کے نتیجہ میں چندرا بابو نائیڈو کی فکر بڑھتی جارہی ہے ۔ اگر وائی ایس آر کانگریس کے زور کو توڑنے میں تلگو دیشم بی جے پی اتحاد ناکام ہوجائے تو پھر چندرا بابو نائیڈو کی سیاسی موت یقینی ہے ۔ ادھر تلنگانہ میں بی جے پی ، تلگو دیشم کا اتحاد گھاٹے کا سودا ثابت ہوچکا ہے ۔ تلنگانہ کا مسلم رائے دہندہ تلگو دیشم سے دور ہورہا ہے ۔ تلگو دیشم کے تمام اہم اقلیتی قائدین نے اس سے کنارہ کشی اختیار کرلی ۔

تلنگانہ میں مسلم شخصیتوں کو اپنے حلقوں میں جو مقبولیت حاصل تھی اس سے تلگو دیشم کو ایک سیاسی سہارا مل رہا تھا مگر اس نے یہ سہارا بھی کھودیا ، تو تلنگانہ میں بی جے پی کا ساتھ سوائے ناکامی کے کچھ نہیں ہوگا ۔ تلنگانہ میں تلگو دیشم نے اسمبلی کی 119 نشستوں کے منجملہ 47 نشستیں بی جے پی کو دی تھی جبکہ 17 لوک سبھا کے منجملہ 8 نشستوں پر بی جے پی مقابلہ کرے گی ۔ سیما آندھرا میں اسمبلی کے 15حلقوں پر بی جے پی مقابلہ کررہی ہے مگر اسے اچھے امیدوار نہیں مل سکے اس پر چندرا بابو نائیڈو کی تشویش کو نظرانداز کرنے بی جے پی اپنی ہی ضد پر قائم رہی ۔ تلنگانہ پر نظر رکھنے یا تلنگانہ میں سیاسی فوائد حاصل کرنے کی نیت کے ساتھ اتحاد کرنے والے تلگو دیشم نے بی جے پی کو سیما آندھرا میں بری طرح دھتکارا جائے تو یہچندرا بابو نائیڈو کے لئے بہت بڑی شرمندگی ہوگی ۔ تلنگانہ میں اس وقت کوئی بھی پارٹی شاندار سیاسی ریکارڈ حاصل کرنے کا موقف نہیں رکھتی ۔ حال ہی میں کریمنگر میں کانگریس صدر سونیا گاندھی کے جلسہ عام سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ تلنگانہ بنانے کا سہرا اپنے سر لینے والی کانگریس کو کوئی خاطر میں نہیں لایا گیا ہے ۔ سونیا گاندھی کے جلسہ عام میں عوام کی کم تعداد دیکھ کر سیاسی پنڈتوں نے قیاس آرائیاں کی ہیں کہ ٹی آر ایس کے جلسوں میں شریک عوام کا جوش و خروش دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ٹی آر ایس کو ہی تلنگانہ میں حکومت بنانے کا موقع ملے ۔ کانگریس قائدین میں آپسی رسہ کشی اور تلنگانہ کے قیام میں پارٹی کی کوششوں اور صدر کانگریس کی نیک نیتی کے مظاہرہ کو عوام تک راست طریقہ سے پہونچانے میں دلچسپی نہیں ہے ۔

تلنگانہ کانگریس قائدین نے سونیا گاندھی کے دورہ اور جلسہ عام کو کامیاب بنانے پر توجہ دینے سے زیادہ خود کو میڈم کے سامنے سرخرو ہونے کی فکر تھی ۔ کانگریس صدر نے تویہ محسوس کرلیا ہوگا کہ تلنگانہ کا پارٹی کیڈر سیاسی خود غرضی میں ملوث ہے ۔ تلنگانہ میں کانگریس کے بڑے بڑے گناہوں کو چھوڑ کر چھوٹی چھوٹی خطا پر بحث کرنے والے سیاسی قائدین کے لئے یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں ہوگی کہ نئی ریاست میں کسی بھی پارٹی کو اقتدار کے لئے قطعی موقف حاصل نہیں ہوگا ۔ ٹی آر ایس واحد بڑی جماعت ضرور ہوگی مگر وہ حکومت بنانے کے موقف میں آئے گی یا نہیں یہ غیر واضح ہے ۔ تلگو دیشم بی جے پی اتحادکا رونا بڑی عجیب صورتحال سے دوچار ہوا ہے ۔ تلگودیشم اب تک اپنے سیکولر مزاج کے چھوڑ جانے کے غم سے نہیں نکلی ہے ۔ تلگودیشم کی چھوٹی بڑی میٹنگوں میں اس بات کا افسوس ضرور کیا جارہا ہے کہ بی جے پی سے اتحاد نہیں ہونا تھا ۔ تلگودیشم کو ہر دو جگہوں پر تنہا مقابلہ کرنے کی ضرورت تھی ۔ چندرا بابو نائیڈو اس بات سے پریشان ہیں اب اس پریشانی کے باعث وہ غلط فیصلے بھی کرنے لگے ہیں ۔ ان فیصلوں کے باعث ان کی مقبولیت میں بھی یقیناً کمی ہوئی ہے ۔ تلگو دیشم کے یہ تمام فیصلے سیاسی خود غرضی کے تھے جو اب درست نہیں ہوسکیں گے ۔ اب بی جے پی سے تلگودیشم کی کشیدگی نمایاں ہوجائے تو ہر کوئی خاص کر وہ سیاسی قائدین اور عوام جو سیکولر مزاج کے تحت تلگودیشم کو عزیز رکھتے تھے پارٹی کے مستقبل پر نظر رکھیں گے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بی جے پی سے اتحاد کے بعد تلگودیشم کی کشیدگی کی چنگاریاں کب شعلوں میں تبدیل ہوں گے ۔

انتخابات کے میدان میں اب ایسی کوئی پارٹی نہیں ہے جس کے تعلق سے کہا جائے کہ اس کا دامن سفید ہے ۔ کوئی ایک پارٹی کو بھی بتایئے اور کہئے کہ اس کی مثال اس سفید کپڑے کی طرح ہے جس پر کوئی داغ نہیں ہے اگر کوئی معمولی داغ بھی لگ جائے تو دور سے دکھائی دیتا ہے ۔ یہ تمام پارٹیاں ’’داغ تو اچھے ہوتے ہیں‘‘ کی پالیسی پر کاربند ہیں ، اس لئے ہر روز ایک دوسرے کو داغدار کرتے ہوئے کیچڑ اچھال رہے ہیں ۔ تلگودیشم سے اتحاد پر معترض بی جے پی قائدین خاص کر کشن ریڈی نے پارٹی کے معاملوں میں دلچسپی لینا بھی کم کردیا ہے ۔ اس طرح ان کا سارا کیڈر مایوسی کا شکار ہے ۔ کوئی بھی پارٹی اپنے مقامی کیڈر کو ناراض کرکے کامیابی کی امید نہیں کرسکتی ۔ نریندر مودی کی مصنوعی شہرت کی لہر پر اڑنے والے قائدین کو اپنی غلطیوں کا بہت جلد احساس ہوجائے گا ۔ سب سے پہلا احساس تلگودیشم سربراہ چندرا بابو نائیڈو کو ہوچکا ہے ۔ آندھرا پردیش یا تلنگانہ میں آئندہ 2019 کے انتخابات میں تلگودیشم کا حشر بھی کرناٹک کی جنتادل ایس کی طرح ہوجائے گا۔ بی جے پی نے جس سیاسی مقصد اور وسیع النظری سے کام لیا ہے اس کے حصہ کے طور پر تلگودیشم سے اتحاد کرکے اسے سیاسی نقصان پہونچا کر اپنا موقف مضبوط کرنا ہے ۔ کرناٹک میں 2004 کے انتخابات ہوں یا مابعد اسمبلی کے لئے ہوئی رائے دہی میں سابق وزیراعظم دیوے گوڑا کے فرزند کمار سوامی نے بھی ایسی ہی غلطیاں کرکے اقتدار کے لئے بی جے پی سے ہاتھ ملالیا تھا اب کرناٹک میں جنتادل ایس کا کیا حشر ہے یہ آپ سب کی نظروں کے سامنے ہے ۔

تلنگانہ میں بھی بی جے پی نے تلگودیشم کو ٹھکانے لگا کر صرف میدان میں کانگریس یا ٹی آر ایس کو رکھ کر اس سے راست مقابلہ کرنے کا منظم منصوبہ بنایا ہے ۔ مستقبل کی سیاسی پیش بندی کے تحت جاری کوششیں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں یہ تلنگانہ کے رائے دہندہ کے مزاج اور فیصلہ پر منحصر ہے ۔ فی الحال بی جے پی نے اپنے قومی لیڈر مودی کے نام کے سہارے سیاسی پارٹی قائدین کے سیاسی مستقبل کو بھی داؤ پر لگاچکی ہے ۔ تلنگانہ میں کشن ریڈی کا نام لے کر لوگوں نے بحث شروع کی ہے تو یہ فضول ہے ۔ کریمنگر میں جس طرح کانگریس نے اپنی ہائی کمان کے پہلے جلسے کو کامیاب بنانے کی کوشش نہیں کی اس طرح بی جے پی نے اپنے علاقائی لیڈروں کے حوصلے بلند کرنے کی کوئی پالیسی یا قدم نہیں اٹھایا تو انتخابات میں کامیابی کے امکانات کی توقع کرنا بھی ان کے لئے بیکار ہوگا ۔ تلنگانہ میں کانگریس کی لہر کو مضبوط بنانا ہے تو سونیا گاندھی کے جلسہ عام کو موثر بناتے ہوئے راہول گاندھی کی طوفانی انتخابی مہم کو یقینی بنانا ضروری ہے ۔ تلنگانہ کانگریس قائدین کو اگر نئی ریاست کے قیام کا سہرا اپنے سر لینا ہے تو پھر انھیں اپنی کمر کس کر دھوتیوں کو مضبوطی سے کس لینے کی ضرورت ہوگی ۔ سونیا گاندھی کے جلسہ اگر فلاپ شو ثابت ہوں تو تلنگانہ میں اسسیاسی تنزلی کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT