Monday , November 20 2017
Home / Top Stories / کانگریس آر ایس ایس کی طرح آئی ایس آئی ایس کی بھی مخالف

کانگریس آر ایس ایس کی طرح آئی ایس آئی ایس کی بھی مخالف

کمیونلزم اور سکیولرازم کے درمیان لڑائی جاری ۔ فرقہ پرستی کیخلاف تمام قوتیں یکجا ہوجائیں ۔ جمعیۃ علماء ہند کے جلسہ سے غلام نبی آزاد کا خطاب
نئی دہلی ، 12 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد نے آج ایک تنازعہ چھیڑ دیا جبکہ انھوں نے آر ایس ایس اور دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کے درمیان تقابل کیا، جس پر ہندوتوا تنظیم اور بی جے پی کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا، جنھوں نے اُن سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ہے۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر نے جمعیۃ علماء ہند کے زیراہتمام ایک جلسہ میں کہا: ’’ہم آئی ایس آئی ایس جیسی تنظیموں کی اُسی طرح مخالفت کرتے ہیں جیسے ہم آر ایس ایس کے مخالف ہیں۔ اگر اسلام میں ہم میں سے بھی کوئی غلط کام کریں تو وہ آر ایس ایس سے کسی طرح کم نہیں ہیں۔‘‘ انھوں نے یہ ریمارکس یہاں ’قومی یکجہتی کانفرنس‘ میں زبردست اجتماع سے خطاب کے دوران کئے۔ اپنی تقریر میں آزاد نے شرکاء سے اپیل کی کہ ’’تمام اقسام‘‘ کی فرقہ پرستی سے لڑیں، چاہے یہ ہندوؤں کی طرف سے ہو، مسلمانوں یا سکھوں کی جانب سے ہو، کیونکہ وہ دنیا اور اس ملک کیلئے خطرہ ہیں۔وہ ایک شخص اور دوسرے کے درمیان فاصلے پیدا کرتے ہیں۔ وہ چاہے کسی مذہب کے ہوں، ہمیں ان سے لڑنا ہوگا۔ لہٰذا تمام سکیولر پسند قوتوں کو یکجا ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ان قوتوں کا صفایا کیا جاسکے۔ یہ لڑائی کمیونلزم اور سکیولرازم کے درمیان ہے، دیکھیں کہ جیت فرقہ پرستی کی ہوتی ہے یا سکیولرازم کی۔آزاد نے مزید کہا کہ ہندوستان تمام مذاہب سے تعلق رکھتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اکثریت ہمارے ساتھ ہے۔ آزاد نے ہندی صحافیوں اور مصنفین کی دادری واقعہ کے بعد سکیولرازم کے تحفظ کیلئے جدوجہد کرنے پر ستائش کی۔ اس واقعہ میں اقلیتی برادری کے ایک شخص کو گھر میں مبینہ طور پر بیف رکھنے پر ہجوم نے دیوانہ وار زدوکوب کرتے ہوئے قتل کیا۔ آزاد نے مولانا حضرات اور علماء کے رول کو بھی سراہا جو انھوں نے 1857ء سے ہی اس ملک کی جدوجہد آزادی کے تئیں ادا کیا۔ آزاد کے علاوہ اس کانفرنس میں ایک اور کانگریس لیڈر منی شنکر ایئر، صدر جمعیۃ علماء ہند سید ارشد مدنی، علماء اور ملک کے مختلف حصوں سے عیسائی، بودھ اور سکھ کمیونٹی کے قائدین شریک ہوئے۔

ملک نازک مرحلے سے دوچار : سونیا گاندھی
دریں اثناء صدر کانگریس سونیا گاندھی نے مودی حکومت پر درپردہ حملہ چھیڑتے ہوئے کہا کہ ملک ’’نازک مرحلے‘‘ سے گزر رہا ہے کیونکہ برسراقتدار لوگ سکیولرازم کو نشانہ بناتے ہوئے ’’نفرت پھیلارہے‘‘ ہیں اور اس کے خلاف جدوجہد کیلئے مختلف پس منظر والے لوگوں کو یکجا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ایسی صورتحال میں لوگوں کو اپنے مذہب ، ذات، رنگ و نسل کو بھول کر یکجا ہوکر کام کرنا ضروری ہے۔ انھوں نے آج یہاں جمعیۃ علماء ہند کے زیراہتمام ’قومی یکجہتی کانفرنس‘ کے شرکاء کیلئے اپنا تحریری پیام بھیجا، جسے غلام نبی آزاد نے پہنچایا۔ سونیا گاندھی نے ملک کی جدوجہد آزادی میں کانگریس کے ساتھ جمعیۃ علماء ہند کے رول کی ستائش کی اور کہا کہ موجودہ حالات میں جمعیۃ نے دوبارہ اہم قدم اٹھایا ہے۔ ’’میں اس ملک کے اتحاد اور یکجہتی کیلئے جمعیۃ کے اقدام کیلئے دعاگو ہوں اور امید کرتی ہوں کہ اس کی کوششوں کے اچھے نتائج برآمد ہوں۔‘‘

TOPPOPULARRECENT