Monday , April 23 2018
Home / سیاسیات / کانگریس اب پکوڑے والوں کی توہین کررہی ہے : بی جے پی

کانگریس اب پکوڑے والوں کی توہین کررہی ہے : بی جے پی

چائے بیچنے پر وزیراعظم مودی کی بھی اسی طرح توہین کی گئی تھی ، این ڈی اے حکومت نے کارہائے نمایاں انجام دیئے ، لوک سبھا میں د عویٰ
نئی دہلی ۔ 6 فبروری ۔( سیاست ڈاٹ کام ) لوک سبھا میں آج ایک بی جے پی رکن نے کانگریس کو پکوڑے والوں کی توہین کا مورد الزام ٹھہراتے ہوئے ایک انجینئرنگ گرائجویٹ کے معاملے کا حوالہ دیا جو کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرتے ہوئے زیادہ کمائی کررہا ہے ۔ پرہلاد جوشی کے ریمارکس ایک روز بعد سامنے آئے جبکہ بی جے پی سربراہ امیت شاہ نے راجیہ سبھا میں کہا تھا کہ کسی نوجوان کے لئے بیروزگار رہنے کی بجائے پکوڑے فروخت کرتے ہوئے گذر بسر کا سامان فراہم کرنا زیادہ بہتر ہے ۔ ایوان زیریں میں صدر جمہوریہ کے خطبہ پر تحریک تشر پر جاری مباحث کے دوران جوشی کی پارٹی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نریندر مودی کی حکومت نے صاف ستھرے ہندوستان سے متعلق گاندھی جی کے خواب کی ساڑھے تین سال میں تکمیل کردی ہے جسے کانگریس اپنے چھ دہے طویل حکمرانی میں نہیں کرسکی۔ جوشی نے اپنے پارٹی رفیق راکیش سنگھ کی پیش کردہ تحریک کی حمایت کی اور سینئر کانگریس لیڈر پی چدمبرم کے مودی پر طنز کا ذکر کیااور کہا کہ آپ (کانگریس) نے مودی جی کی توہین کی جنھوں نے اپنے بچپن کے دوران چائے فروخت کی تھی ۔ اب آپ پکوڑے والوں کی توہین کررہے ہیں ۔ ایک مثال پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ اُن کے دھارواڑ حلقہ میں وہ ایک ایسے شخص کو جانتے ہیں جو انجینئرنگ میں بیچلرس کی ڈگری رکھتا ہے اور پکوڑے فروخت کرتا ہے ۔ اُس نے اپنی نوکری چھوڑ دی اور پکوڑے بیچنا شروع کردیا کیونکہ اُسے زیادہ کمائی ہورہی ہے ۔ قبل ازیں جوشی کے پارٹی رفیق راکیش سنگھ نے مختلف شعبوں میں حکومت کے کارہائے نمایاں پر روشنی ڈالی ، بالخصوص سوچھ بھارت ( صاف ستھرا ہندوستان) مہم پر عمل آوری کا ذکر کیا ۔ انھوں نے کہاکہ کانگریس کو لگ بھگ چھ دہے اقتدار حاصل رہا لیکن اُس نے کلین انڈیا کے گاندھی جی کے ویژن کو پورا نہیں کیا، جسے این ڈی اے حکومت نے صرف ساڑھے تین سال میں حقیقت بنایا ہے۔ سوچھ بھارت مہم کے حوالے سے اُنھوں نے کہاکہ یو پی اے اور کانگریس نے اپنے 55 سالہ اقتدار میں کوئی خاص کام نہیں کیا جبکہ گزشتہ تین سال میں جملہ 5.5 کروڑ ٹائیلٹس تعمیر کئے گئے ۔ ہماری حکومت کیلئے ہر طبقہ ، ہر مذہب مساوی حیثیت رکھتا ہے ۔ ہم اپوزیشن کو بھی ترقیاتی عمل کا حصہ سمجھتے ہیں۔ راکیش نے کہاکہ حکومت تمام طبقات کو اُن کے مذہب ، ذات پات اور نسل کے قطع نظر ترقی دینے کی پابند عہد ہے ۔ انھوں نے مختلف اسکام اور کرپشن کا ذکر کیا جو یو پی اے حکومت کے دوران پیش آئے اور اس طرح کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت سے قبل کرپشن کی باتیں ہوا کرتی تھی لیکن اب ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔ انھوں نے کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو راجیہ سبھا میں او بی سی بل کو روکنے پر ہدف تنقید بنایا ۔ ترمیم کے بعد نیا او بی سی بل دوبارہ لوک سبھا میں سرمائی سیشن کے دوران متعارف کیا گیا جو گزشتہ ماہ اختتام پذیر ہوا ۔ انھوں نے حکومت کی تعریف کی کہ پردھان منتری بیمہ یوجنا کے ذریعہ 31 کروڑ افراد کو انشورنس فراہم کیا جارہا ہے ، اُجولا یوجنا کے ذریعہ تمام دیہات کو برقی سربراہ کی جارہی ہے اور کسانوں کو زراعت سے متعلق کارڈس دیئے جارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT