Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس ارکان پارلیمنٹ کی معطلی کے خلاف تلنگانہ کانگریس قائدین کا احتجاج

کانگریس ارکان پارلیمنٹ کی معطلی کے خلاف تلنگانہ کانگریس قائدین کا احتجاج

فاروق حسین ریلنگ پر چڑھ گئے، قائدین گرفتار، اسمبلی میں احتجاج کی عدم منظوری پر ردعمل
حیدرآباد /5 اگست (سیاست نیوز) 25 کانگریس ارکان پارلیمنٹ کی معطلی کے خلاف آج کانگریس قائدین نے اسمبلی میں احتجاجی دھرنا منظم کیا، جس میں کانگریس کے سابق ارکان پارلیمنٹ جی ویویک، سریش شیٹکار، بلرام نائک، انجن کمار یادو، پونم پربھاکر، کانگریس رکن پارلیمنٹ جی سکھیندر ریڈی اور کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین نے حصہ لیا۔ کانگریس قائدین احاطہ اسمبلی میں مجسمہ گاندھی کے پاس خاموش احتجاج کا منصوبہ رکھتے تھے، تاہم اسپیکر اسمبلی نے انھیں مجسمہ گاندھی کے پاس جانے کی اجازت نہیں دی اور گیٹ کو مقفل کروادیا۔ اس دوران محمد فاروق حسین نے ریلنگ پر چڑھ کر اسپیکر اسمبلی اور پولیس رویہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی ممالک کے بینکوں میں موجود کالادھن 100 دن میں ہندوستان لانے اور ہر ہندوستانی کے بینک اکاؤنٹ میں فی کس 15 لاکھ روپئے جمع کرنے کا وعدہ کرنے والے نریندر مودی کی حکومت کروڑہا روپئے کی لوٹ کھسوٹ میں ملوث ہونے والے للت مودی کی سرپرستی کر رہی ہے اور مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے شوہر اور بیٹی کو فائدہ پہنچانے کے للت مودی کی تائید کی ہے، جب کہ چیف منسٹر راجستھان وسندھرا راجے سندھیا نے لندن میں اس کی ضمانت دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر مدھیہ پردیش پرتھوی راج چوہان ویاپم اسکام میں ملوث ہیں اور اس کیس سے تعلق رکھنے والے 49 افراد کو قتل کردیا گیا، اس طرح بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت پوری طرح بدعنوانیوں میں ملوث ہے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے جب سونیا گاندھی کی قیادت میں بدعنوانیوں کے خلاف آواز بلند کی تو بدعنوانیوں کی پردہ پوشی کے لئے کانگریس کے 25 ارکان کو معطل کردیا گیا، جو پارلیمنٹ کا سیاہ دن اور جمہوریت کا خون کرنے کے مترادف ہے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس ڈرنے یا گھبرانے والی پارٹی نہیں ہے، بلکہ وہ بدعنوانیوں کو ملک کی تمام ریاستوں میں موضوع بحث بنائے گی اور داغدار قائدین کی برطرفی تک اپنا جدوجہد جاری رکھے گی۔ دریں اثناء جی سکھیندر ریڈی نے کہا کہ کانگریس زیر قیادت یو پی اے حکومت میں بدعنوانیوں کے الزامات کا سامنا کرنے والے وزراء کی معطلی تک بی جے پی نے ایوان کی کارروائی چلنے نہیں دی تھی، لیکن آج وہی کارروائی جب کانگریس کر رہی ہے تو بی جے پی، کانگریس کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دے رہی ہے۔ انھوں نے مرکزی وزیر شہری ترقیات وینکیا نائیڈو کی جانب سے سشما سوراج کو ملک کا اثاثہ قرار دینے کی مذمت کرتے ہوئے بدعنوان وزراء اور چیف منسٹرس کی برطرفی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

TOPPOPULARRECENT