Monday , January 22 2018
Home / شہر کی خبریں / کانگریس اقلیتی قائدین کو ٹکٹ کی عدم فراہمی پر جبراً ادخال فارم کا اعلان

کانگریس اقلیتی قائدین کو ٹکٹ کی عدم فراہمی پر جبراً ادخال فارم کا اعلان

گاندھی بھون میں اقلیتی قائدین کا احتجاجی دھرنا، محمد سراج الدین کا خطاب

گاندھی بھون میں اقلیتی قائدین کا احتجاجی دھرنا، محمد سراج الدین کا خطاب

حیدرآباد 6 اپریل (سیاست نیوز) کانگریس اقلیتی قائدین 30 اسمبلی کی نشستوں کے علاوہ 3 پارلیمنٹ کی نشستوں پر مقابلہ کریں گے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ امیدواروں کی فہرست میں مسلمانوں کو مناسب نمائندگی نہ دیئے جانے پر کانگریس کے اقلیتی قائدین میں شدید برہمی پائی جاتی ہے۔ گاندھی بھون میں آج کانگریس کے اقلیتی قائدین نے احتجاجی دھرنا منظم کرتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ ہوئی ناانصافیوں کے خلاف مظاہرہ کیا۔ احتجاج میں کانگریس کے اقلیتی قائدین کی بڑی تعداد شامل تھی۔ بعدازاں صدر پردیش کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ جناب محمد سراج الدین نے احتجاجی قائدین سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کانگریس اقلیتی قائدین نے اِس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ شام تک مطالبہ کی عدم منظوری کی صورت میں کانگریس کے مسلم قائدین 20 حلقہ جات اسمبلی اور دو پارلیمانی نشستوں سے اپنے پرچہ نامزدگی داخل کریں گے۔ جناب محمد سراج الدین نے کہاکہ پردیش کانگریس کمیٹی سے اقلیتی ڈپارٹمنٹ نے نمائندگی کرتے ہوئے اِس بات کی خواہش کی تھی کہ ریاست تلنگانہ میں کم از کم 12 حلقہ جات اسمبلی سے مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا جائے اور ایک لوک سبھا سے مسلم امیدوار کو میدان میں اُتارا جائے لیکن اِس مطالبہ کی عدم تکمیل کے سبب کانگریس اقلیتی قائدین احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ 6 اپریل کی شام تک توقع ہے کہ کم از کم 10 اسمبلی کی نشستوں پر مسلم امیدواروں کو ٹکٹ فراہم کئے جائیں گے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو ایسی صورت میں کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے سخت گیر اقدام کے طور پر پرچہ نامزدگیوں کے ادخال کا 7 اپریل سے ہی آغاز کردیا جائے گا۔

اُنھوں نے کہاکہ کانگریس قائدین اپنے حقوق کے لئے جمہوری انداز میں پارٹی میں رہتے ہوئے جدوجہد جاری رکھیں گے۔ احتجاجی مظاہرہ کرنے والے قائدین میں مسرس سید یوسف ہاشمی، موسیٰ رضا، خواجہ ذاکرالدین، میر ہادی علی، ڈاکٹر ایم اے انصاری، معراج خان اور دیگر شامل تھے۔ کانگریس اقلیتی قائدین نے پی سی سی پر مسلمانوں کی نمائندگی کو کم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ اپنے وجود کا احساس دلانے کے لئے انتخابات میں حصہ لینے پر مجبور ہوجائے گا اور تلنگانہ میں مسلمانوں کے درمیان پہونچ کر اقلیتی ڈپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے حق میں انتخابی مہم چلائی جائے گی۔ اِن قائدین نے بتایا کہ منظم انداز میں مسلمانوں کی نمائندگی کو کم کرنے کی جو کوشش ہورہی ہے اُس کے خلاف کانگریس کے پردیش اقلیتی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کیا جائے گا بلکہ جدوجہد کے ذریعہ حقوق حاصل کئے جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT