Wednesday , September 19 2018
Home / سیاسیات / کانگریس اور بی جے پی غیرصحتمندانہ روایت پر عمل پیرا: نتیش

کانگریس اور بی جے پی غیرصحتمندانہ روایت پر عمل پیرا: نتیش

پٹنہ۔ 19 فروری (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا میں منظور کئے گئے تلنگانہ بل کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے آج کانگریس اور بی جے پی پر غیرصحت مندانہ روایت کو اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ نتیش کمار جو آج یہاں ایک تقریب میں شرکت کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے ، کہا کہ کانگریس اور بی جے پی دون

پٹنہ۔ 19 فروری (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا میں منظور کئے گئے تلنگانہ بل کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے چیف منسٹر بہار نتیش کمار نے آج کانگریس اور بی جے پی پر غیرصحت مندانہ روایت کو اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ نتیش کمار جو آج یہاں ایک تقریب میں شرکت کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کررہے تھے ، کہا کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں نے ایک غیرصحتمندانہ روایت کی غلط بنیاد ڈالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نئی ریاست کی تشکیل کے لئے دستور میں آرٹیکل 3 کے تحت گنجائش موجود ہے، تاہم دونوں نے غلط طریقہ سے اس بل کو منظوری دیتے ہوئے ایک غلط روایت قائم کی ہے۔

نتیش کمار نے یہ واضح کرتے ہوئے کہ ان کی پارٹی تلنگانہ ریاست کے خلاف نہیں ہے، مگر یہ بل اس وقت پاس کیا گیا جب کانگریس اور بی جے پی دونوں نے پچھلے دروازہ سے ہاتھ ملا لئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت جنتا دل (یو) اس پورے عمل کا حصہ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز جب تلنگانہ بل کو منظوری دی جارہی تھی، جنتا دل (یو) کے ارکان نے لوک سبھا سے واک آؤٹ کردیا تھا۔ چیف منسٹر بہار نے مزید کہا کہ لوک سبھا میں اس بل کی منظوری کے لئے اختیار کئے گئے غلط طریقہ کار سے تلنگانہ کے موافقین اور مخالفین دونوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال نتیش کمار اور وائی ایس آر کانگریس کے سربراہ جگن موہن ریڈی نے ڈسمبر میں ملاقات کی تھی اور مرکز کی جانب سے آندھرا پردیش اسمبلی کی مرضی حاصل کئے بغیر ریاست تلنگانہ کی تشکیل کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے جگن موہن ریڈی کو یہ تیقن دیا تھا کہ جنتا دل (یو) اس بل پر احتجاج کرے گی۔

یو پی اسمبلی کا شوروغل کے ساتھ آغاز
لکھنؤ۔ 19 فرو ری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) یوپی اسمبلی میں آج اجلاس کے آغاز کیساتھ ہی اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے زبردست شوروغل اور نعرے بازی کی۔ جوں ہی 11 بجے دن گورنر نے اپنی تقریر کا آغاز کیا، بی ایس پی اور آر ایل ڈی کے ارکان نے مخالف حکومت نعرہ بازی کرتے ہوئے بدنظمی کا ماحول پیدا کردیا۔ یہ ارکان پلے کارڈ تھامے ہوئے لا اینڈ آرڈر سے لے کر کسانوں کے مسائل پر احتجاج کرتے ہوئے حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کرنے لگے۔

TOPPOPULARRECENT