Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / کانگریس اور ٹی آر ایس انتخابی مفاہمت ناکام، کانگریس کے قائدین کو شکست کا عزم

کانگریس اور ٹی آر ایس انتخابی مفاہمت ناکام، کانگریس کے قائدین کو شکست کا عزم

ٹی آر ایس کی حکمت عملی کو قطعیت، امیدواروں کے انتخاب میں کے سی کا آر محتاط رویہ

ٹی آر ایس کی حکمت عملی کو قطعیت، امیدواروں کے انتخاب میں کے سی کا آر محتاط رویہ

حیدرآباد۔/5اپریل، ( سیاست نیوز) کانگریس پارٹی سے انتخابی مفاہمت میں ناکامی کے بعد تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے کانگریس کے سرکردہ قائدین کو انتخابات میں شکست دینے کی حکمت عملی تیار کی ہے جو تلنگانہ کے چیف منسٹر کی دوڑ میں ہیں۔ مختلف اوپینین پولس میں تلنگانہ ریاست میں معلق اسمبلی کی پیش قیاسی کی گئی ہے اور ٹی آر ایس اور کانگریس میں کسی کو بھی واضح اکثریت کے امکانات موہوم بتائے گئے ہیں۔ ان حالات میں ٹی آر ایس سربراہ چندر شیکھر راؤ نے امیدواروں کے انتخاب میں محتاط رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ امیدواروں کے انتخاب سے قبل متعلقہ حلقہ میں ان کی مقبولیت اور کارکردگی کے بارے میں سروے کرایا جارہا ہے۔ تین مرحلوں میں سروے میں سرِ فہرست آنے والے قائد کو ہی اسمبلی اور لوک سبھا کے امیدوار کے طور پر پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چندرشیکھر راؤ کے نشانہ پر کانگریس کے وہ تلنگانہ قائدین ہیں جو نہ صرف چیف منسٹر کے عہدہ کی دوڑ میں ہیں بلکہ ٹی آر ایس اور چندر شیکھر راؤ پر مسلسل تنقید کررہے ہیں۔ اب تک جاری کردہ امیدواروں کی فہرست میں ٹی آر ایس نے وائی ایس آر کانگریس کے 3، کانگریس اور تلگودیشم کے ایک،

ایک قائد کو سرکردہ کانگریس قائدین کے خلاف میدان میں اُتارا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نلگنڈہ سے تعلق رکھنے والے سینئر قائد کے جانا ریڈی کے حلقہ ناگرجنا ساگر اور ایس سی طبقہ سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر جے گیتا ریڈی کے حلقہ ظہیرآباد سے ابھی تک ٹی آر ایس نے امیدواروں کے نام کا اعلان نہیں کیا۔ سابق ڈپٹی چیف منسٹر دامودر راج نرسمہا کے خلاف حلقہ اندول سے فلم اسٹار اور تلگودیشم کے سابق لیڈر بابو موہن کو میدان میں اُتارا گیا۔ بابو موہن سابق میں دو مرتبہ دامودر راج نرسمہا کو شکست دے چکے ہیں اور دو مرتبہ انہیں دامودر راج نرسمہا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کریم نگر کے منتھنی اسمبلی حلقہ سے ڈی سریدھر بابو کے خلاف وائی ایس آر کانگریس کے سابق لیڈر پی مدھو کو میدان میں اُتارا گیا ہے۔ نلگنڈہ کے حضور نگر اسمبلی حلقہ سے تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ این اتم کمار ریڈی کے خلاف کے شنکراماں کو امیدوار بنایا گیا جو سریکانت چاری نامی طالب علم کی والدہ ہیں جس نے چندر شیکھر راؤ کے مرن برت کے موقع پر خود کو جلا کر ہلاک کرلیا تھا۔ اسمبلی حلقہ جنگاؤں میں تلنگانہ پردیش کانگریس کے صدر پی لکشمیا کے خلاف این یادگیری ریڈی کو امیدوار بنایا گیا ہے۔ محبوب نگر کے گدوال اسمبلی حلقہ میں کے سی آر کی کٹر مخالف سابق ریاستی وزیر ڈی کے ارونا کے خلاف وائی ایس آر کانگریس کے لیڈر کرشنا موہن ریڈی کو ٹی آر ایس نے ٹکٹ دیا۔ تلنگانہ میں چیف منسٹری کی دوڑ میں پسماندہ طبقات سے تعلق کے سبب آگے رہنے والے سینئر قائد ڈی سرینواس کے خلاف وائی ایس آر کانگریس کے سابق لیڈر باجی ریڈی گوردھن کو میدان میں اتارا ہے۔ ورنگل ( ایسٹ ) اسمبلی حلقہ سے سابق وزیر بسوا راج ساریا کے خلاف وائی ایس آر کانگریس کی سابق لیڈر کونڈہ سریکھا کو ٹکٹ دیا گیا۔ اس طرح چیف منسٹری کے دعویداروں کے خلاف کے سی آر نے طاقتور امیدوار میدان میں اُتارے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT