Saturday , December 16 2017
Home / اضلاع کی خبریں / کانگریس دور میں وقف جائیدادیں تباہ و برباد

کانگریس دور میں وقف جائیدادیں تباہ و برباد

ٹی آر ایس حکومت میں مسلمانوں کے معیار زندگی میں بہتر تبدیلی: محمد محمود علی

ورنگل۔/18نومبر، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے ہنمکنڈہ رام نگر ٹی آر ایس ڈسٹرکٹ پارٹی آفس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی جب سے اقتدار میں آئی ہے مسلمانوں کیلئے ٹھوس  فلاحی اقدامات اٹھانے میں تلنگانہ کے مسلمانوں کے معیار زندگی میں تبدیلی لائی ہے۔ ٹی آر ایس حکومت تلنگانہ کے عوام کی حکومت ہے، کانگریس قائدین جھوٹی باتوںکے ذریعہ عوام کو بے وقوف بنانے کی ناکام کوشش کررہے ہیں جبکہ دیکھا جائے تو ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں کیلئے کئی ایک اسکیمات کو روشناس کروایا ہے۔ ٹی آر ایس حکومت تلنگانہ کے تمام پسماندہ طبقات کی بھلائی چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 50سالوں میں کانگریس اور تلگودیشم نے مسلمانوں کو کیا دیا ہے ۔

کانگریس والوں نے 70ہزار ایکڑ وقف اراضی سے کھلواڑ کیا ہے، کانگریس قائد محمد علی شبیر کی نگرانی میں ہی وقف جائیدادیں تباہ و برباد ہوچکی ہیں اور آج یہ قائدین ٹی آر ایس حکومت پر تنقید کررہے ہیں۔ لینکو ہلز وقف اراضی پر قائم ہے یہ کس کے دور میں ہوا ہے، کیا اس تعلق سے محمد علی شبیر بات کرسکتے ہیں۔ گزشتہ 50سالوں سے کانگریس نے حکومت کی تھی اگر یہ پارٹی مسلمانوں کیلئے ٹھوس فلاحی اقدامات اٹھاتی تو آج تلنگانہ میں مسلمانوں کی ایسی حالت نہیں ہوتی۔ وقف جائیدادوں کو سب سے زیادہ کانگریس قائدین نے تباہ کیا ہے۔ کانگریس قائد محمد علی شبیر بڑی بڑی باتیں کرتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت پر تنقید کررہے ہیں جبکہ کاماریڈی کے عوام انہیں دو مرتبہ شکست دیئے ہیں۔ کانگریس قائدین کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ مسلم ووٹ مانگیں۔ کانگریس پارٹی نے مسلمانوں کو ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا ہے۔1956 میں یہی کانگریس پارٹی نے تلنگانہ کو آندھرا میں ضم کروایا۔ محمد علی شبیر کا بیٹا لینکو ہلز کا ڈائرکٹر بنا بیٹھا ہے، کیا شبیر علی اس کی وضاحت کرسکتے ہیں۔ کانگریس کے دور میں فسادات ہوا کرتے تھے مسلمانوں کی معیشت کو فسادات کے ذریعہ تباہ و برباد کیا گیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمو علی نے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے قلیل مدت میں منفرد و مثالی اسکیمات کو روشناس کرواتے ہوئے عوام کے دلوں میں محبت و عزت پیدا کرلی ہے۔

ٹی آر ایس نے اقتدار میں آنے سے پہلے مسلمانوں کو جو 12فیصد تحفظات دینے کا وعدہ کیا تھا اس وعدہ پر سنجیدہ ہیں اور ریاست ٹاملناڈو میں جس طرح ریزرویشن پر عمل آوری کی گئی ہے تلنگانہ حکومت اس کا جائزہ لے رہی ہے۔ تحفظات کو عملی شکل دینے کی خاطر ریاستی حکومت نے سدھیر کمیشن کا قیام عمل میں لایا ہے۔ کمیشن کا سروے آخری مراحل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ورنگل کے عوام ٹی آر ایس کی فلاحی اسکیمات کو دیکھتے ہوئے خوشحال  تلنگانہ کیلئے ٹی آر ایس امیدوار پی دیاکر کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی ۔ اس موقع پر رکن پارلیمنٹ محبوب آباد پروفیسر سیتا رام نائیک، ڈسٹرکٹ ٹی آر ایس صدر رویندر راؤ، ٹی آر ایس اقلیتی صدر محمد نعیم الدین ریاستی ٹی آر ایس اقلیتی قائدین سابق چیرمین اردو اکیڈیمی سید شاہ نورالحق قادری، صوفی شطاری کے علاوہ شیخ احمد مسیح الدین، سید مسعود، ایم اے خلیل، ڈاکٹر اکبر، محمد چاند پاشاہ، سمینہ بیگم، قمر النساء، یوسف خان، محمد رشید خان، مولانا یوسف زاہد المظاہری، صدر تلنگانہ علماء کونسل، خواجہ سراج الدین، محمد توفیق، محمد عظیم و دیگر ٹی آر ایس قائدین موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT