Wednesday , December 19 2018

کانگریس رکن کے خلاف وزیر برقی کے شخصی ریمارک پر ہنگامہ

حیدرآباد ۔ 25 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی میں آج اس وقت اہم اپوزیشن کانگریس پارٹی نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے کارروائی کو روک دیا جب وزیر برقی جگدیش ریڈی نے کانگریس کے سینئر رکن ڈاکٹر جی چنا ریڈی کے خلاف بعض شخصی ریمارکس کئے۔ کانگریس کے ارکان نے وزیر برقی سے معذرت خواہی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں دھرنا منظم کیا۔ ایوان

حیدرآباد ۔ 25 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی میں آج اس وقت اہم اپوزیشن کانگریس پارٹی نے ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے کارروائی کو روک دیا جب وزیر برقی جگدیش ریڈی نے کانگریس کے سینئر رکن ڈاکٹر جی چنا ریڈی کے خلاف بعض شخصی ریمارکس کئے۔ کانگریس کے ارکان نے وزیر برقی سے معذرت خواہی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں دھرنا منظم کیا۔ ایوان میں شور و غل اور ہنگامہ آرائی کے سبب اسپیکر مدھو سدن چاری کو تین مرتبہ کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔ کانگریس کے ارکان وزیر برقی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں اسپیکر کے پوڈیم کے قریب دھرنے پر بیٹھ گئے۔ کانگریس کے مسلسل احتجاج اور اپوزیشن کی جانب سے بھی جگدیش ریڈی سے معذرت خواہی کے مطالبہ میں شدت کو دیکھتے ہوئے آخر کار وزیر برقی نے نہ صرف اپنے ریمارکس کو واپس لیا بلکہ اس واقعہ پر اظہار معذرت کیا۔ گڑبڑ اس وقت شروع ہوئی جب وقفہ سوالات کے دوران محبوب نگر میں تھرمل پاور پراجکٹ کے قیام کے مسئلہ پر جگدیش ریڈی جوابات دے رہے تھے۔ ڈاکٹر چنا ریڈی نے ضمنی سوال کی اجازت طلب کی ۔ تاہم اسپیکر نے اجازت نہیں دی۔ وزیر برقی جگدیش ریڈی کے جوابات سے غیر مطمئن چنا ریڈی نے ریمارک کیا کہ وہ پہلی مرتبہ منتخب ہوئے ہیں ، لہذا جوابات دینے کا طریقہ سیکھ لیں ۔ اس پر جگدیش ریڈی برہم ہوگئے اور کہا کہ میں پہلی مرتبہ منتخب ضرور ہوا ہوں لیکن کے سی آر کی مہربانی اور تلنگانہ عوام کے سبب کامیاب ہوئے ہیں۔ آپ کی طرح آندھرائی قائدین کی خوشامد اور ان کے جوتے اٹھاکر نہیں ۔ انہوں نے وائی ایس راج شیکھر ریڈی سے متعلق بھی ریمارک کیا۔ جگدیش ریڈی کے اس جواب پر کانگریس ارکان برہم ہوگئے اور ایوان کے وسط میں احتجاج کرنے لگے۔ ایک مرحلہ پر جگدیش ریڈی اپنی نشست سے اٹھ کر کانگریسی ارکان کی طرف بڑھنے لگے ۔ وزیر اور کانگریسی ارکان میں تلخ کلامی اور ٹکراؤ کو روکنے کیلئے کئی وزراء کو مداخلت کرنی پڑی۔ ہنگامہ آرائی کے دوران بی جے پی کے فلور لیڈر ڈاکٹر لکشمن نے وزیر برقی کے ریمارکس کو اسمبلی کی توہین قرار دیا۔

انہوں نے جگدیش ریڈی سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ وزیر برقی نے اسپیکر سے خواہش کی کہ وہ ان کے ریمارکس کو ریکارڈ سے حذف کردیں بشرطیکہ وہ غیر پارلیمانی ہوں۔ اسپیکر نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کا تیقن دیا۔ کانگریسی ارکان اس جواب سے مطمئن نہیں ہوئے اور احتجاج جاری رکھا ، جس پر اسپیکر نے چائے کے وقفہ کا اعلان کردیا۔ دوسری مرتبہ جب کارروائی شروع ہوئی تو کانگریسی ارکان نے دوبارہ احتجاج کیا۔ تاہم جگدیش ریڈی نے معذرت خواہی کے بجائے چنا ریڈی پر ان کے خلاف ریمارک کرنے کا الزام عائد کیا۔ کانگریسی ارکان جگدیش ریڈی کی معطلی اور ان کے بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے نعرہ بازی کرنے لگے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ کانگریس کو بدعنوانیوں کے بارے میں کہنے کا حق نہیں کیونکہ اس کے قائدین سی بی آئی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسپیکر نے دوسری مرتبہ ایوان کی کارروائی ملتوی کی۔ تیسری بار بھی ایوان میں نظم بحال نہیں ہوا

اور کانگریسی ارکان فرش پر بیٹھ کر دھرنا جاری رکھے ہوئے تھے۔ بی جے پی کے فلور لیڈر نے پھر ایک مرتبہ وزیر برقی سے معذرت خواہی کی اپیل کی۔ سی پی آئی کے رویندر کمار اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے وینکٹیشورلو نے بھی انکی تائید کی۔ اسپیکر نے تیسری مرتبہ ایوان کی کارروائی دس منٹ کیلئے ملتوی کی۔ چوتھی بار جب اجلاس شروع ہوا تو قائد اپوزیشن جانا ریڈی نے ٹی آر ایس پر اقتدار کے نشہ میں توہین آمیز رویہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ۔ انہوں نے اسپیکر سے خواہش کی کہ وہ چیف منسٹر کو ایوان میں طلب کریں اور فلور لیڈرس کے ساتھ کارروائی کے فوٹیج کا جائزہ لیں تاکہ قصوروار کا تعین کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کانگریس کے رکن کی غلطی پائی گئی تو وہ معذرت خواہی کیلئے تیار ہیں۔ جانا ریڈی کے اس سخت گیر موقف کو دیکھتے ہوئے وزیر برقی جگدیش ریڈی نے معذرت خواہی کرلی، جس کے بعد مختلف محکمہ جات کے مطالبات زر کو منظوری دی گئی۔

TOPPOPULARRECENT