Tuesday , December 11 2018

کانگریس سے مسلمانوں کو ایک لوک سبھا اور 12 اسمبلی ٹکٹس کا مطالبہ

ٹکٹوں کی عدم منظوری پر زیڈ پی ٹی سی سیز انتخابات کے بائیکاٹ کا انتباہ ، گاندھی بھون میں زبردست احتجاجی دھرنا

ٹکٹوں کی عدم منظوری پر زیڈ پی ٹی سی سیز انتخابات کے بائیکاٹ کا انتباہ ، گاندھی بھون میں زبردست احتجاجی دھرنا
حیدرآباد ۔ 2 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : صدر پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر محمد سراج الدین کی قیادت میں کانگریس کے اقلیتی قائدین نے احتجاجی دھرنا منظم کیا ۔ 2014 کے عام انتخابات میں مسلمانوں کو ایک لوک سبھا اور 12 اسمبلی کے ٹکٹ نہ دینے کی صورت میں 6 اپریل کو منعقد ہونے والے زیڈ پی ٹی سی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا انتباہ دیا ۔ مسلمان کانگریس کا ساتھ دیتے ہیں تو کانگریس مسلمانوں کو ہاتھ کیوں دیتی ہے ۔ مسلمانوں کے ووٹ چاہئے تو کانگریس مسلمانوں کو ٹکٹ بھی دیں ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر پنالہ لکشمیا نے مسلمانوں سے انصاف کرنے کا تیقن دیا ۔ ایک ہفتہ میں دوسری مرتبہ کانگریس کے مسلم قائدین اور کارکنوں نے آج گاندھی بھون میں دھرنا دیا ۔ اس مرتبہ دھرنے میں صدر پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ مسٹر محمد سراج الدین نے حصہ لیا ۔

ان کے علاوہ کانگریس کے دوسرے قائدین خواجہ ذاکر الدین ، میر ہادی علی ، سید مظہر اللہ حسینی ، محمد اسماعیل الرب انصاری ، محمد اعجاز خاں ، محمد معراج خاں ، محمد امجد ، نیہال سنگھ ، فرزانہ رشید ، عرفانہ نیر ، اضلاع صدور جمال شریف (ورنگل ) ، محمد کریم ( کریم نگر ) ، تقی حسین ( محبوب نگر ) ، محمد عبدالسمیع ( رنگاریڈی ) ، رضی الدین ( نلگنڈہ ) ، ایم ایم بیگ ، سیدطاہر حسین کے علاوہ دوسرے موجود تھے ۔ مسٹر محمد سراج الدین کی قیادت میں کانگریس قائدین نے سونیا گاندھی اور کانگریس پارٹی زندہ باد کے نعرے لگائے ۔ مسلمانوں سے انصاف کرنے کا مطالبہ کیا ۔ چند احتجاجی کارکنوں نے ناگیندر اور محمد علی شبیر کے خلاف بھی نعرے لگائے ۔

کانگریس کارکنوں کے احتجاج کو دیکھ کر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر پنالہ لکشمیا نے محمد سراج الدین کو اپنے چیمبر میں طلب کر کے بات چیت کی اور انہیں یقین دلایا کہ مسلمانوں کے ساتھ ٹکٹوں کی تقسیم میں انصاف کیا جائے گا بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سراج الدین نے کہا کہ ہم بھیک نہیں بلکہ اپنا حق مانگ رہے ہیں ۔ مسلمان کانگریس کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ کانگریس کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں سے انصاف کریں ۔ ہر الیکشن میں صرف مسلمانوں کو ہتھیلی میں جنت دکھایا جاتا ہے ۔ ووٹ حاصل کرنے کے بعد مسلمانوں کو فراموش کردیا جاتا ہے ۔ 2004 سے یہی سلسلہ کانگریس میں جاری ہے ۔ 2004 میں ٹی آر ایس سے اتحاد کا بہانہ کیا گیا ۔ نامزد عہدوں پر مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی دینے کا وعدہ کیا گیا مگر 5 تا 6 سال تک نامزد عہدوں کو خالی رکھا گیا مگر مسلمانوں کو نہیں دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ بہت ہوچکا ہے ۔

مسلمانوں میں شعور بیدار ہوچکا ہے ۔ صبر کرنے کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔ کانگریس پارٹی میں حقیقی مسلمانوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ پارٹی بہو ، بیٹیوں ، بیٹوں اور دوستوں کو اہمیت دی جارہی ہے ۔ جو ابھی ابھی کانگریس میں شامل ہوئے ہیں انہیں اہمیت دی جارہی ہے ۔ مگر برسوں سے خدمات انجام دینے والوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ کانگریس کے مسلم قائدین اپنے احتجاج کو جاری رکھیں گے ۔ اس کو اضلاع اور منڈل سطح تک بھی توسیع دی جائے گی ۔

ہم 5 اپریل تک انتظار کریں گے ۔ مسلمانوں سے انصاف نہ ہونے کی صورت میں 6 اپریل کو منعقد ہونے والے زیڈ پی ٹی سی انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے ۔ اس کے بعد تمام اضلاع کے مسلم قائدین کا اجلاس طلب کرتے ہوئے مستقبل کی حکمت عملی کو قطعیت دیں گے ۔ مسٹر محمد سراج الدین نے مسلمانوں کو برائے نام اور کامیاب نہ ہونے والے حلقوں پر ٹکٹ نہ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جن حلقوں میں مسلمانوں کا 20 تا 40 فیصد تناسب ہے ان حلقوں پر پارٹی ٹکٹ دیں اور کامیاب بنانے میں خصوصی دلچسپی دکھائے 2009 کے عام انتخابات میں علاقہ تلنگانہ میں ایک بھی مسلم قائد کامیاب نہیں ہوا ہے ۔ اس کو بنیاد بناکر مستقبل کی حکمت عملی تیار کریں ۔ صدرپردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ نے سابق وزیر مسٹر محمد فرید الدین کو حلقہ لوک سبھا ظہیر آباد سے ٹکٹ دینے کا مطالبہ کیا ۔ ساتھ ہی یونس سلطان ( کھمم ) ، عبید اللہ کوتوال ( محبوب نگر ) ، طاہر بن حمدان کو ( نظام آباد اربن ) ، سلطان احمد ( سرپور کاغذ نگر ) ، عظمت اللہ حسینی ( کریم نگر ) ، بابر سلیم ( راماگنڈم ) ، ساجد پاشاہ ( عادل آباد ٹاون ) ، محمد سراج الدین یا سید طاہر حسین ( مشیر آباد ) ، خواجہ ذاکر الدین یا رضی الدین ( نلگنڈہ ) ، عبدالغنی ( پٹن چیرو ) ، ڈاکٹر ایم انصاری ( ابراہیم پٹنم ) وغیرہ شامل ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT