Thursday , January 18 2018
Home / اضلاع کی خبریں / کانگریس سے معطل لیڈر کو انتخابی ٹکٹ دینے پر ناراضگی

کانگریس سے معطل لیڈر کو انتخابی ٹکٹ دینے پر ناراضگی

ضلع نظام آباد میں ڈی سرینواس کا گھٹتا ہوا اثر و رسوخ

ضلع نظام آباد میں ڈی سرینواس کا گھٹتا ہوا اثر و رسوخ

نظام آباد۔8 اپریل( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)کل ہندکانگریس کمیٹی کی جانب سے ضلع نظام آباد کے نئے اسمبلی حلقوں میں کانگریس کی جانب سے مقابلہ کرنے والے امیدواروں کے ناموں کے اعلان کے بعدنظام آباد(اربن) میں اقلیتوں میں مایوسی پائی جارہی ہے کیونکہ اس حلقہ میں اقلیتی رائے دہندوں کی قابل لحاظ تعداد ہے اور اقلیتی ووٹ فیصلہ کن ہے اس کے باوجود بھی کانگریس ہائی کمان نے ضلع کانگریس صدر طاہر بن حمدان کو نظر انداز کرتے ہوئے رورل حلقہ سے تعلق رکھنے والے مہیش کمار گوڑ کو امیدوار بنایا ہے جبکہ اس حلقہ سے ضلع کانگریس صدر طاہر بن حمدان کے علاوہ ریاستی مہیلا کانگریس صدر آکولہ للیتا بھی ٹکٹ کے دعویدار تھیں اور سابق صدر پردیش کانگریس مسٹر ڈی سرینواس ابتداء ہی سے نظام آباد اربن کے بجائے رورل حلقہ سے مقابلہ کرنے کیلئے خواہشمند تھے اور ہائی کمان کو بھی اس بارے میں واقف بھی کروایا تھا اور یہ ٹکٹ آکولہ للیتا کو مختص کرنے کیلئے نمائندگی کی تھی لیکن کانگریس ہائی کمان نے ڈی سرینواس کی نمائندگی کو بھی خاطر میں نہیں لایا اور طاہر بن حمدان کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے اچانک مہیش کمار گوڑ کے نام کا اعلان کردیا ۔ کل دوپہر دہلی میں ہوئے حالات کے بعد راہول گاندھی نے مہیش کمار گوڑ کے نام کو قطعیت دیتے ہوئے ان کے نام پر مہر لگادی ۔ جبکہ کانگریس نے حالات کا جائزہ لئے بناء ہی فیصلہ کرتے ہوئے اقلیتوں کو مایوس کردیا۔کیونکہ ڈی سرینواس اقلیتوں کے ہمدرد ہونے کی وجہ سے ہمیشہ نظام آباد شہر کے مسلمان ڈی سرینواس کا ساتھ دیا تھا

جس کی وجہ سے ان کی کامیابی یقینی ہورہی تھی اور اس بات کا اعتراف خود مسٹر ڈی سرینواس نے بھی کیا تھا لیکن کانگریس ہائی کمان ٹکٹ کے دعویداروں کو اعتماد میں دئیے بغیر ہی اعلان کرنے کی وجہ سے نہ صرف طاہر بن حمدان ناراضگی ظاہر کی بلکہ آکولہ للیتا بھی کانگریس ہائی کمان کے فیصلہ سے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ریاستی مہیلا کانگریس صدر ہونے کے ناطے ٹکٹ ملنے کا امکان ظاہر کررہی تھی اور 9 اسمبلی حلقوں میں ایک بھی خاتون کو ٹکٹ نہیں دیا گیا جبکہ جکل حلقہ سے ٹکٹ کی دعویدار ضلع مہیلا کانگریس صدر ارونا تارا کو بھی نظر انداز کردیا کانگریس ہائی کمان نے بانسواڑہ، جکل اور یلاریڈی حلقوں میں نئے امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے جکل حلقہ سے تعلق رکھنے والے سابق رکن اسمبلی گنگارام کو31؍ اکتوبر 2009 ء میںاس وقت کے صدر پردیش کانگریس مسٹر ڈی سرینواس کے خلاف بیان بازی کرنے پر 6سال کیلئے پارٹی سے معطل کردیا تھا اور ان کی معطلی کی معیاد 2015 ء نومبر میں ختم ہورہی ہے ان چیزوں کا لحاظ کئے بناء ہی گنگارام کو ٹکٹ دئیے جانے پر اس حلقہ میں شدید ناراضگیاں ظاہر ہورہی ہے اور ارونا تارا کانگریس کے فیصلے کیخلاف ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ اس حلقہ سے سابق صدر ضلع کانگریس جی گنگادھر اور ایم ایل سی راجیشور بھی دعویدار تھے ۔ اسی طرح بانسواڑہ حلقہ سے سرینواس گوڑ، ایم سرینواس ریڈی سابق ایم ایل سی وینکٹ رام ریڈی دعویدار تھے ۔ پی آر پی سے علیحدگی اختیار کرنے والے بالراج کو ٹکٹ دینے پر کانگریس حلقہ میں ناراضگیاں ظاہر ہورہی ہے اسی طرح یلاریڈی حلقہ سے ٹکٹ کے دعویدار ایس آکولہ سرینواس، جمنا راتھوڑ، جناردھن گوڑ، این انجنیلوکو نظر انداز کرتے ہوئے ٹی آرایس سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے کانگریس میں شامل ہونے والے جے سریندر کو ٹکٹ دیا گی جبکہ اس حلقہ سے تعلق رکھنے والے تمام کانگریسی دعویدار نے ایک اجلاس طلب کرتے ہوئے ہائی کمان کے خلاف ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے عہد لیا اور امیدوار کی مدد نہ کرنے کا کھلے عام اعلان کیا۔ کانگریس ہائی کمان کے فیصلہ سے ناراضگیوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس کا اثر انتخابات پر پڑنے کے بھی امکانات ظاہر ہورہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT