کانگریس سے منحرف کونسل ارکان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

انحراف کیلئے اکسانے کی مذمت ، محمد علی شبیر کانگریس ڈپٹی کونسل لیڈر کا بیان

انحراف کیلئے اکسانے کی مذمت ، محمد علی شبیر کانگریس ڈپٹی کونسل لیڈر کا بیان
حیدرآباد۔17۔نومبر (سیاست نیوز) قانون ساز کونسل میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر محمد علی شبیر نے برسر اقتدار ٹی آر ایس کی جانب سے کانگریسی ارکان کو انحراف کیلئے اکسانے کی مذمت کی اور صدرنشین قانون ساز کونسل سے مطالبہ کیا کہ ان 9 کانگریسی ارکان کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے پارٹی سے انحراف کرتے ہوئے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کی۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل میں کانگریسی ارکان کی تعداد 17 تھی جن میں سے 9 ارکان نے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ کانگریس کے ارکان کی تعداد اب8 رہ گئی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس کے بیانر پر کونسل کیلئے منتخب ہونے والے ارکان نے چیف منسٹر چندر شیکھر راو کی جانب سے مبینہ لالچ کا شکار ہوکر ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے انسداد انحراف قانون کے تحت منحرف ارکان کو نااہل قرار دینے کیلئے صدرنشین کونسل سے نمائندگی کی ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ فوری طور پر اس سلسلہ میں کارروائی کریں۔ محمد علی شبیر نے بتایا کہ برسر اقتدار پارٹی کی جانب سے انحراف کی کھلی حوصلہ افزائی کے خلاف کانگریس لیجسلیچر پارٹی گورنر سے نمائندگی کرے گی۔ ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سے رجوع ہوکر کارروائی کی اپیل کی جائے گی۔ انہوں نے برسر اقتدار پارٹی اور چیف منسٹر پر الزام عائد کیا کہ وہ ایسی پارٹی کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس نے علحدہ تلنگانہ تشکیل دیا۔ کانگریس پارٹی اور صدرنشین یو پی اے سونیا گاندھی کے سبب علحدہ تلنگانہ ریاست وجود میں آئی ہے۔ چندر شیکھر راؤ کانگریس کے اس کارنامہ کو فراموش کرتے ہوئے اسی پارٹی کے ارکان کو توڑنے کی سازش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دراصل ٹی آر ایس داخلی انتشار کا شکار ہے اور حکومت پر کنٹرول کیلئے کے ٹی آر اور ہریش راؤ میں رسہ کشی چل رہی ہے۔ اس صورتحال سے پریشان چندر شیکھر راؤ دیگر جماعتوں کے ارکان کو شامل کرتے ہوئے پارٹی کو عددی اعتبار سے مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے کبھی بھی اس طرح انحراف کی حوصلہ افزائی نہیں کی ۔ برسر اقتدار پارٹی کی جانب سے اس طرح کا اقدام غیر جمہوری اور غیر دستوری ہے۔

TOPPOPULARRECENT