Tuesday , January 16 2018
Home / شہر کی خبریں / کانگریس سے ٹکٹ نہ ملنے پر کسی بھی سیکولر جماعت کے ٹکٹ پر مقابلہ

کانگریس سے ٹکٹ نہ ملنے پر کسی بھی سیکولر جماعت کے ٹکٹ پر مقابلہ

برسر اقتدار پارٹی سے ٹکٹ کی امید، کانگریس قائد محمد فیروز خاں کا بیان

برسر اقتدار پارٹی سے ٹکٹ کی امید، کانگریس قائد محمد فیروز خاں کا بیان

حیدرآباد /14 مارچ (سیاست نیوز) 2009ء کے عام انتخابات میں حلقہ اسمبلی نامپلی میں مجلس کو سخت مقابلہ دینے والے کانگریس قائد محمد فیروز خاں نے کہا کہ حلقہ اسمبلی نامپلی سے کانگریس کا ٹکٹ نہ ملنے پر فرقہ پرست جماعت بی جے پی اور مجلس کے سواء کسی بھی سیکولر جماعت کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنے کے لئے وہ تیار ہیں۔ واضح رہے کہ فیروز خاں، مرکزی وزیر سیاحت چرنجیوی کی جانب سے اپنی جماعت کو کانگریس میں ضم کرنے کے بعد کانگریس میں شامل ہوکر گزشتہ 5 سال سے عوامی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ابھی کانگریس کے بیانر پر حلقہ اسمبلی نامپلی میں کام کر رہے ہیں اور عوام کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں، لہذا انھیں امید ہے کہ کانگریس پارٹی ان کی کار کردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے 2014ء کے عام انتخابات میں ضرور ٹکٹ دے گی۔ اگر کانگریس ہائی کمان مجلس کے دباؤ میں آکر انھیں ٹکٹ دینے سے انکار کرتی ہے تو وہ ٹی آر ایس، وائی ایس آر کانگریس یا تلگودیشم، جو بھی پارٹی انھیں ٹکٹ دے گی اس جماعت کی طرف سے مقابلہ کریں گے، تاہم فرقہ پرست جماعتوں بی جے پی اور مجلس کو کبھی ترجیح نہیں دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ مجلس اور بی جے پی صرف سیاسی مفادات کے لئے مذہبی جذبات کا سہارا لے کر اپنی دوکانیں چمکا رہی ہیں اور ووٹ بینک مضبوط کرنے کے لئے عوام کا استحصال کر رہی ہیں۔

دونوں جماعتوں کو صرف اقتدار عزیز ہے، خدمات نام کی ان جماعتوں کے پاس کوئی پالیسی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ شکست کے باوجود وہ عوام کے درمیا موجود رہ کر کام کر رہے ہیں، حلقہ اسمبلی نامپلی کے عوام باشعور ہیں، وہ اس مرتبہ فرقہ پرستوں کے جھانسے میں آنے والے نہیں اور نہ ہی کسی سے خوف زدہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 2009ء میں نئی سیاسی جماعت سے مقابلہ کرکے ہم دوسرے نمبر پر آئے تھے، تاہم اب حلقہ اسمبلی نامپلی کے عوام تبدیلی اور ترقی چاہتے ہیں، وہ جہاں جاتے ہیں والہانہ خیرمقدم کیا جاتا ہے، یعنی اس مرتبہ حلقہ کے عوام مجلس کو شکست دینے کے لئے متحد ہو چکے ہیں۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کانگریس پارٹی انھیں ٹکٹ دے گی اور اگر نہیں دے گی تو وہ کسی بھی سیکولر جماعت کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مجلس مسلمانوں کی جماعت نہیں ہے، اس کو مسلم مسائل سے زیادہ اپنے مفادات عزیز ہیں۔ یہ غلط ہے کہ ہر جماعت مجلس کو مسلمانوں کی نمائندہ سمجھتی ہے۔ اگر مجلس نے کانگریس سے خفیہ مفاہمت کی تو وہ ٹی آر ایس کو ترجیح دیں گے اور اگر مجلس، کانگریس اور ٹی آر ایس تینوں ایک ہو جائیں تو وہ وائی ایس آر کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔

TOPPOPULARRECENT