Monday , September 24 2018
Home / شہر کی خبریں / کانگریس سے ٹی آر ایس میں شمولیت ، اوقافی جائیدادوں پر قبضوں کا لائسنس

کانگریس سے ٹی آر ایس میں شمولیت ، اوقافی جائیدادوں پر قبضوں کا لائسنس

چیوڑلہ میں چھلہ مولا علی کی 5.33 ایکڑ اراضی پر قبضہ ، حکومت اور وقف بورڈ بالکل خاموش

چیوڑلہ میں چھلہ مولا علی کی 5.33 ایکڑ اراضی پر قبضہ ، حکومت اور وقف بورڈ بالکل خاموش
حیدرآباد ۔ 19 ۔ دسمبر : ( نمائندہ خصوصی ) : متحدہ آندھرا پردیش میں آندھرا اور تلنگانہ کے مفادات حاصلہ نے ہزاروں لاکھوں کروڑ روپئے مالیتی اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضے کر کے انہیں فروخت کرتے ہوئے اپنی تجوریاں بھرلیں ۔ مسلمانوں نے جب اس کے خلاف آواز اٹھائی اور احتجاجی مظاہروں کی دھمکیاں دی گئیں تب کچھ عرصہ کے لیے حکومتوں کے ذمہ داروں نے اپنے وعدوں کے ذریعہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ وہ تو اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کرنے والوں میں شامل ہیں لیکن حکومتوں میں شامل عناصر نے مفادات حاصلہ کے ساتھ مل کر قیمتی اوقافی جائیدادوں کا نام و نشان مٹادیا ۔ اس معاملہ میں سیاسی سرپرستوں نے بہت ہی مذموم رول ادا کیا ۔ اگر دیکھا جائے تو حکومتیں موقوفہ اراضیات و جائیدادوں کے تحفظ میں بالکل ناکام ہوگئیں ۔ اگر موقوفہ جائیدادوں کا بہتر استعمال ہوتا تو آج مسلمانوں میں تعلیمی ، پسماندگی نہیں پائی جاتی ۔ ان کے نوجوان آٹو رکشے نہیں چلاتے بچے معیاری تعلیم حاصل کرتے ، کرایوں کے گھروں میں وہ زندگی گذارنے پر مجبور نہیں ہوتے شہر اور اطراف و اکناف کی موقوفہ جائیدادوں کی تباہی میں اپنے ہی صفوں میں شامل ایسے افراد ہیں جنہوں نے اپنی دنیاوی خوشیوں و راحت کے لیے اللہ کی جائیدادوں کو کوڑیوں کے مول فروخت کردیا ۔ قیمتی وقف جائیداد کی تباہی کا ایک واقعہ چیوڑلہ ضلع رنگاریڈی میں پیش آیا جہاں اپنوں نے ہی غیروں کے ساتھ سازباز کرتے ہوئے 5 ایکڑ 33 گنٹے رقبہ پر محیط موقوفہ اراضی کو نہ صرف فروخت کردیا بلکہ اس کی باضابطہ رجسٹری بھی کروالی ۔ اس طرح قانون وقف کی صریح خلاف ورزی کا ارتکاب کیا گیا ۔ چیوڑلہ کی مقامی مسجد کی انتظامی کمیٹی کے صدر عبدالباسط ، جنرل سکریٹری عبدالقادر اور اراکین راج محمد اور چاند پاشاہ کا کہنا ہے کہ چیوڑلہ میں سروے نمبر 6/11 کے تحت 20×20 مربع گز اراضی پر محیط چھلہ مولا علی ہے اور اس چھلہ کے تحت سروے نمبر 21 اور سروے نمبر 22 کی بالترتیب 3.21 ایکڑ اور 2.12 ایکڑ اراضی ہے اس اراضی کا وقف گزٹ نمبر 7-A حصہ دوم بابتہ 18-2-1989 میں وقف اراضی و جائیداد کی حیثیت سے اندراج بھی عمل میں آیا ہے ۔ اس اراضی پر بے شمار درخت تھے جنہیں اراضی پر ناجائز قبضے کے لیے غیر سماجی عناصر نے کاٹ دیا ۔ مسجد کمیٹی کے مذکورہ عہدیداروں کے مطابق بشیر احمد اور نذیر احمد دونوں بھائیوں نے محکمہ مال میں خود کو متولی ثابت کرنے کے لیے مبینہ طور پر غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے اس اراضی کو اپنے نام پر پٹہ کرالیا ۔ 1995 میں بشیر احمد کا انتقال ہوگیا ۔ اس کے بعد بشیر احمد کے دو بیٹوں عبدالرشید احمد اور ریاض احمد اور اہلیہ صابر النساء نے مبینہ طور پر اس اراضی کو اپنے نام پر منتقل کروا کر عبدالنذیر کی مدد سے منگلی وینکٹیش ولد منگلی بالراج سرپنچ و دیگر افراد کو فروخت کردیا جب کہ ماضی میں محکمہ مال کے ریکارڈ میں اسے وقف جائیداد قرار دیا گیا ہے ۔ اب پتہ چلا ہے کہ قابضین اس قیمتی موقوفہ اراضی کالے آؤٹ بناکر اسے فروخت کرنے کے خواہاں ہیں ۔ جامع کمیٹی کے صدر و اراکین نے منگلی بالراج اور منگلی وینکٹیش کے خلاف احتجاجی ریالی منظم کی جس میں بہت سارے مسلمانوں نے شرکت کی ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ منگلی بالراج ٹی آر ایس کا لیڈر اور چیوڑلہ منڈل کا صدر ہے ۔ اسے وزیر ٹرانسپورٹ مسٹر مہیندر ریڈی کی سرپرستی اور ان کا بھر پور تعاون حاصل ہے ۔ ان قائدین کا یہ بھی الزام ہے کہ مہیندر ریڈی نے انتخابات میں غیر معمولی مصارف کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی اور اب وہ وقف اراضیات کو ٹھکانے لگاکر اپنے انتخابی مصارف کی پابجائی کرنے کے خواہاں ہیں ۔ یہ بھی بتایا گیا کہ MRO آفس پر شکایت درج کروانے کے دوران شکایت کنندگان پر حملہ کردیا گیا ۔ تاہم پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا ۔ یہی نہیں منگلی بالراج موقوفہ اراضی کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے مکانات پر اپنے حامیوں کے ساتھ حملہ کردیا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ محکمہ وقف بورڈ ، ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی ، ارکان اسمبلی ، رکن پارلیمان سب سے مداخلت کی اپیل کی گئی اور ہمیشہ کی طرح سب نے زبانی ہمدردی کا اظہار کیا ۔ منگلی بالراج کا دعویٰ ہے کہ یہ اراضی موقوفہ نہیں ہے بلکہ ایک مسلم پٹہ دار سے 16 لاکھ روپئے میں دیڑھ ایکڑ اراضی کی خریدی کی گئی ہے جب کہ دیگر لوگوں نے بھی اس خود ساختہ پٹہ دار سے اراضی خریدی ہے ۔ مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ بار بار مسلمانوں کی ترقی و بہبود اور اوقافی اراضیات کے تحفظ کے دعوے کررہے ہیں لیکن ان کی پارٹی کے قائدین ہی موقوفہ اراضیات پر سابقہ حکومتوں کی طرح نظر بد ڈالے ہوئے ہیں ۔ اسی طرح ماضی کی طرح اب بھی موقوفہ جائیدادوں کی تباہی کا سلسلہ جاری ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چندر شیکھر راؤ صرف زبانی ہمدردی اور وعدوں کا سہارا لیتے ہیں یا عملی اقدامات کرتے ہیں ۔ کم از کم وقف بورڈ کے ذمہ داروں کو کسی کے دباؤ میں آئے بنا کارروائی کرنی چاہئے ورنہ ان کا شمار بھی موقوفہ جائیدادوں کو تباہ کرنے والوں میں ہوگا ۔ مقامی لوگوں کا یہ بھی کہناہے کہ کانگریس سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی بھی اوقافی جائیدادوں پر ناجائز قبضے کرتے ہوئے انہیں کوڑیوں کے مول فروخت کردے ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT