کانگریس قائدین کو دھمکیوں کیخلاف وزیراعظم کو خبردار کرنے صدرجمہوریہ سے مطالبہ

مودی پر اپوزیشن کیساتھ ذلت آمیز و ناشائستہ زبان اختیار کرنے کا الزام، منموہن سنگھ اور دیگر قائدین کا کووند کو مکتوب

بنگلورو 14 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور کانگریس کے دیگر سینئر قائدین نے صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند کے نام ایک مکتوب میں ان سے خواہش کی ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کو ان (کانگریس قائدین) کو ڈرانے دھمکانے اور ناشائستہ زبان کے استعمال کے خلاف خبردار کرنے کی خواہش کی ہے۔ کانگریس کے ان قائدین نے کرناٹک اسمبلی انتخابات کی حالیہ مہم کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اس پارٹی کے قائدین کو مودی کی طرف سے دی گئی دھمکیوں کی مذمت کرنے کی ضرورت ہے کیوں کہ ایسا رویہ 130 کروڑ عوام کے جمہوری ملک کے وزیراعظم کو زیب نہیں دیتا۔ اس مکتوب پر دیگر سینئر کانگریس قائدین اے کے انٹونی، غلام نبی آزاد، احمد پٹیل، پی چدمبرم، اشوک گیہلوٹ، ملکارجن کھرگے، کرن سنگھ، امبیکا سونی، کمل ناتھ، آنند شرما، موتی لال ووہرہ، ڈگ وجئے سنگھ اور مکل واسنک نے دستخط کئے ہیں۔ کانگریس قائدین نے کرناٹک کے ضلع ہبلی میں وزیراعظم مودی کی ایک تقریر کا حوالہ دیا جس میں انھوں نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ’’کانگریس کے نیتا کان کھول کر سن لیجئے، اگر سیماؤں کو پار کرو گے تو یہ مودی ہے، لینے کے دینے پڑجائیں گے‘‘۔ مکتوب میں ان کی تقریر کا یو ٹیوب رابطے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ منموہن سنگھ اور دیگر سینئر کانگریس قائدین نے اس مکتوب میں مزید کہاکہ ’’کانگریس یا کسی دوسری سیاسی جماعت کے قائدین کو ڈرانے دھمکانے یا ناشائستہ الفاظ کے استعمال کے خلاف صدرجمہوریہ ہی وزیراعظم کو خبردار کرسکتے ہیں کیوں کہ اس قسم کا رویہ وزیراعظم کے رتبہ کے شایان شان نہیں ہوتا‘‘۔ صدر ہند کے نام اپنے مکتوب میں کانگریس قائدین نے مزید کہاکہ حتیٰ کہ انتخابی مہم میں بھی کسی وزیراعظم سے اس قسم کے رویہ کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ مکتوب میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسا طرز عمل وزیراعظم کی طرف سے اپنے سیاسی شخصی مفادات اور سیاسی انتقام لینے، اقتدار، اختیارات اور مراعات کے استعمال کے مترادف ہوتا ہے‘‘۔ عہدے کے حلف کا حوالہ دیتے ہوئے مکتوب نے کہا ہے کہ دستور کے تحت ہندوستان کے وزیراعظم کو ایک انتہائی خاص اہم مقام حاصل ہے۔ ان کانگریس قائدین نے کہاکہ ماضی میں ہندوستان کے تمام وزرائے اعظم نے سرکاری و خانگی تقاریب میں اپنے عہدہ اور مقام کے شایان شان انتہائی اعلیٰ معیار، وقار اور شائستگی کو برقرار رکھا تھا۔ کانگریس کی قیادت کو مودی کی طرف سے دی گئی دھمکیوں کی مذمت کی جانی چاہئے کیوں کہ یہ زبان 1.3 ارب عوام کے کسی ایسے جمہوری ملک کے وزیراعظم کی نہیں ہوسکتی جہاں دستور کی حکمرانی ہے۔ کانگریس قائدین نے مزید کہاکہ ’’اس قسم کا انداز خواہ وہ عوامی یا نجی سطح پر ہی کیوں نہ ہو ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ استعمال کردہ الفاظ انتہائی عامیانہ ہیں اور نقص امن، اشتعال انگیزی، توہین کے مقصد پر مبنی ہیں‘‘۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT