Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / کانگریس لاکھ بس یاترا نکالیں تو بھی اقتدار حاصل نہیں ہوگا

کانگریس لاکھ بس یاترا نکالیں تو بھی اقتدار حاصل نہیں ہوگا

تلنگانہ عوام کا بھروسہ کانگریس اور اس کے قائدین پر نہیں رہا ، ٹی ہریش راؤ کا ردعمل
حیدرآباد۔ 9 مارچ (سیاست نیوز) وزیرآبپاشی ہریش رائو نے کہا کہ کانگریس پارٹی لاکھ بس یاترا یا پدیاترا کرلے اسے تلنگانہ میں اقتدار حاصل نہیں ہوگا۔ تلنگانہ عوام کا بھروسہ کانگریس پارٹی اور اس کے قائدین پر سے اٹھ چکا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش رائو نے کہا کہ کانگریس قائدین اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہیں تلنگانہ میں اقتدار ملنے والا نہیں۔ لہٰذا عوام کے درمیان چیف منسٹر اور وزراء سے متعلق بے بنیاد الزامات عائد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو عوامی تائید کے حصول کے لیے ٹی آر ایس حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی ضروری ہے لیکن تلنگانہ میں ایسا کچھ نہیں۔ عوام ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور چیف منسٹر کے سی آر نے جو فلاحی اقدامات کیے ہیں ان سے خوش ہیں۔ ہریش رائو نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے 2009ء کے انتخابی منشور میں عوام سے جو وعدے کیے تھے ان میں ایک بھی وعدے کی تکمیل نہیں کی۔ ایسی پارٹی جس نے عوام سے کیے گئے وعدوں سے انحراف کرلیا اسے کس طرح عوامی تائید حاصل ہوسکتی ہے۔ اتم کمار ریڈی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ہریش رائو نے سوال کیا کہ 2009ء میں اتم کمار ریڈی کانگریس وزارت میں شامل تھے لیکن انہوں نے انتخابی وعدوں کی تکمیل کے سلسلہ میں کوشش کیوں نہیں کی۔ انہوںنے کہا کہ جس پارٹی نے وعدوں کی تکمیل نہیں کی اس پر عوام کس طرح بھروسہ کرسکتے ہیں۔ کانگریس پارٹی عوامی اعتماد سے محروم ہوچکی ہے اور اس کی باتوں کا عوام کے درمیان کوئی وزن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے 9 گھنٹے زرعی شعبہ کو برقی سربراہ کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن 4 گھنٹے بھی سربراہ نہیں کی گئی۔ جبکہ ٹی آر ایس نے 24 گھنٹے بلاوقفہ برقی سربراہی کا آغاز کیا ہے۔ کانگریس نے غریبوں کے لیے فی کس 6 کیلو چاول اسکیم کا اعلان کیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ برخلاف اس کے ٹی آر ایس حکومت نے ہر فرد کے لیے 6 کیلو چاول کی اسکیم پر کامیابی سے عمل کیا ہے۔ وزیر آبپاشی نے کہا کہ کانگریس قائدین نے کبھی بھی تلنگانہ جدوجہد کے لیے قربانیاں نہیں دیں۔ جب استعفوں کا مطالبہ کیا گیا تو کانگریس قائدین جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے علیحدہ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور ٹی آر ایس میں فرق یہی ہے کہ کانگریس وعدوں پر عمل نہیں کرتی جبکہ ٹی آر ایس وعدوں پر عمل کرتے ہوئے عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ عوام کو کے سی آر کی قیادت پر مکمل بھروسہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کی بس یاترا میں ایک بھی مسئلہ ایسا نہیں جس کے ذریعہ حکومت پر تنقید کی جاسکے۔ گھر گھر پینے کے پانی کی فراہمی کے لیے مشن بھگیرتا کا آغاز کیا گیا اور کانگریس دور حکومت میں زیر التوا آبپاشی پراجیکٹس کی تکمیل کا ٹی آر ایس نے آغاز کیا۔ کانگریس دور حکومت میں جو مسائل تھے ٹی آر ایس حکومت میں وہ حل ہوچکے ہیں۔ غریبوں کے لیے کارپوریٹ طرز کی تعلیم فراہم کرنے 500 اقامتی اسکولس قائم کیے گئے جو ملک میں ایک کارنامہ ہے۔ غریب لڑکیوں کی شادی کے لیے شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیمات کے ذریعہ 75 ہزار روپئے کی امداد دی جارہی ہے۔ ٹی آر ایس حکومت نے گڑمبہ اور قماربازی کے مراکز کا خاتمہ کردیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس کی بقا اور موجودہ کارکنوں کی برقراری کے لیے بس یاترا نکالی گئی۔ عوامی تائید حاصل نہ ہونے پر بوکھلاہٹ کا شکار کانگریس قائدین حکومت پر الزام تراشی کررہے ہیں۔ انہوں نے کانگریس قائدین کو چیلنج کیا کہ وہ وزراء کے خلاف الزامات کا ثبوت پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی کانگریس کے کئی قائدین سی بی آئی مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2019ء انتخابات میں کانگریس پارٹی کو اسمبلی میں اپوزیشن کا عہدہ بھی نہیں ملے گا۔

TOPPOPULARRECENT