Monday , September 24 2018
Home / اضلاع کی خبریں / کانگریس لیڈروں کی غلامانہ ذہنیت سے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافیاں

کانگریس لیڈروں کی غلامانہ ذہنیت سے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافیاں

نظام آباد۔/16 اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے سربراہ مسٹر کے چندرا شیکھر راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں ملازمتیں و روزگار صرف تلنگانہ والوں کے لئے ہی ہیں، تلنگانہ میں مسلمانوں کو 12% تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اور اس ضمن میں پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کا مسلمانوں کو شکار نہیں ہونا چاہئے چونکہ مصمم عزائم ہ

نظام آباد۔/16 اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے سربراہ مسٹر کے چندرا شیکھر راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں ملازمتیں و روزگار صرف تلنگانہ والوں کے لئے ہی ہیں، تلنگانہ میں مسلمانوں کو 12% تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اور اس ضمن میں پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں کا مسلمانوں کو شکار نہیں ہونا چاہئے چونکہ مصمم عزائم ہوں تو راہیں خود بخود ہموار ہوتی ہیں۔ مسلمانوں کو 12% تحفظات فراہم کرنے دستور میں ترمیم کے لئے اسمبلی میں قرار داد منظور کی جائے گی۔ سنہری تلنگانہ کے ثمرات بھر پور طور پر تلنگانہ والوں کو حاصل ہوں گے۔ تلنگانہ میں آندھرائی حکمرانوں کے دور میں جو تباہی مچائی گئی وہ ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں ہائیڈروجن بموں کے ذریعہ پھیلائی گئی تباہی سے کہیں زیادہ شدید ہے۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی سیکولرازم پر کامل ایقان رکھتی ہے۔ تلنگانہ ہمیشہ سے ہی بھائی چارگی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا گہوارہ رہا ہے اور یہاں کی گنگا جمنی تہذیب بے نظیر ہے، یہاں کے عوام کو فرقہ وارانہ خطوط پر جدا نہیں کیا جاسکتا۔ مسٹر کے چندرا شیکھر راؤ کل شام نظام آباد میں پارٹی کے ایک جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔ ٹی آر ایس سربراہ نے کہا کہ تلنگانہ والے فرقہ پرست ہو ہی نہیں سکتے۔ یہاں کے باشندے صدیوں سے مل جل کر رہتے آئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ گاندھی جی نے جب 1926ء میں ویویک وردھنی کالج حیدرآباد میں حیدرآباد ریاست کی گنگا جمنی تہذیب کی ستائش کرتے ہوئے یہاں کے عوام کی تعریف کی تھی کہ وہ آپس میں شیر و شکر کی طرح رہتے ہیں۔

انہوں نے اپنی ایک کتاب میں یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہاں فرقہ وارانہ منافرت نہیں ہے۔ مسلمانوں کو 12% تحفظات کی فراہمی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں شک و شبہ نہیں کرنا چاہئے چونکہ جب ارادے پکے ہوتے ہیں تو راستے بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاملناڈو ریاست میں 70% تحفظات ہیں۔ یہ درست ہے کہ سپریم کورٹ نے 50% کی تحدید عائد کی ہے تاہم اس کیلئے دستور میں ترمیم کی جاسکتی ہے جس کیلئے ٹی آر ایس کوئی دقیقہ نہیں چھوڑے گی۔ مسٹر چندرشیکھر راؤ نے تقسیم ریاست میں ملازمین کو آندھرا یا تلنگانہ میں کسی ایک ریاست کا انتخاب کرنے کا اختیار دئیے جانے کا حوالہ دیتے کہا کہ تلنگانہ کی ملازمتیں صرف تلنگانہ والوں کے لئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تشکیل دینے پر تمام کنٹراکٹ ملازمین کو مستقل کردیا جائے گا اور نئی جائیدادیں وضع کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت ملازم دوست ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع نظام آباد قدرتی وسائل سے مالا مال ضلع ہے اور یہاں کا ایک موضع انکا پور سارے ملک ہی نہیں ساری دنیا کا ایک مثالی گاؤں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نظام آباد دو پراجکٹوں کے لئے کافی مشہور رہا ہے ،ایک نظام ساگر پراجکٹ اور دوسرا نظام شوگر فیکٹری۔ نظام ساگر پراجکٹ دنیا کا پہلا بڑی آبپاشی کا پراجکٹ ہے جس کے تحت 3 لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کیا جاسکتا تھا۔

اسی طرح نظام شوگر فیکٹری اپنے دور کی ایشیاء کی سب سے بڑی شکر فیکٹری تھی لیکن آندھرائی حکمرانوں نے ان دونوں پراجکٹس کو تباہ و تاراج کردیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی ریاست تلنگانہ میں آبپاشی پراجکٹس کو کارکرد بنایاجائے گا۔ سنگور پراجکٹ کا نوے فیصد پانی نظام آباد کو فراہم کیا جائے گا۔ مسٹر چندر شیکھر راؤ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اسمبلی اور پارلیمنٹ میں ٹی آر ایس کے ارکان کا ہی انتخاب کریں چونکہ مرکز سے زیادہ سے زیادہ فنڈس حاصل کرنے اور مرکزی پراجکٹس جیسے ریلوے پراجکٹس کی عاجلانہ منظوری اور آبپاشی پراجکٹس کی مرکزی حکومت سے منظوری کیلئے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ میں بھی ہمارے نمائندے ہونے چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہاں سے ٹی آر ایس کے نمائندوں کو پارلیمنٹ بھیجا جاتا ہے تو حیدرآباد۔ نظام آباد ریلوے لائن کو ڈبل ٹراک کیا جائے گا۔ مسٹر چندر شیکھر راؤ نے تلنگانہ کے کانگریس قائدین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہی قائدین کی نااہلی اور غلامانہ ذہنیت کی وجہ سے تلنگانہ کے ساتھ سنگین ناانصافیاں ہوتی رہی ہیں۔

قبل ازیں نظام آباد پارلیمنٹ حلقہ کی امیدوار مسز کے کویتا نے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس کے قائدین اور کارکنوں نے نئی ریاست کی تشکیل کیلئے ایک سے زائد مرتبہ اپنے عہدوں کی قربانیاں دی ہیں۔ انہیں عہدے یا کرسی عزیز نہیں ہے بلکہ تلنگانہ عوام کے مفادات عزیز ہیں۔ اس موقع پر پارٹی کے امیدوار مسرز بی گنیش گپتا (نظام آباد اربن)، محمد شکیل (بودھن)، ٹی جیون ریڈی (آرمور)، باجی ریڈی گوردھن (نظام آباد رورل)، اے رویندر ریڈی (ایلا ریڈی)، گمپا گوردھن (کاما ریڈی)، پرشانت ریڈی (بالکنڈہ) پوچارم سرینواس ریڈی (بانسواڑہ)، ہنمت شنڈے (جکل) کے علاوہ ظہیر آباد پارلیمانی حلقہ کے امیدوار مسٹر بی بی پاٹل، ضلع صدر ٹی آر ایس مسٹر ایگا گنگا ریڈی نے بھی مخاطب کیا۔ جلسہ میں مختلف سیاسی پارٹیوں سے تعلق رکھنے والوں بشمول نے پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔اس موقع پر بسوا لکشمی نرسیا ، سجیت سنگھ ٹھاکر ، مسرز ایس اے علیم، ایم کے مجیب الدین، طارق انصاری، عمر ستار، اختر احمد، حلیم قمر، عمران شہزاد اور دیگر بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT