Monday , October 22 2018
Home / Top Stories / کانگریس مخالف تلنگانہ پارٹی، پارلیمنٹ میں تلنگانہ کے مسائل نظرانداز

کانگریس مخالف تلنگانہ پارٹی، پارلیمنٹ میں تلنگانہ کے مسائل نظرانداز

وزیرآبپاشی ہریش رائو کا الزام، راہول گاندھی سے مسائل کی یکسوئی کی وضاحت کا مطالبہ

حیدرآباد۔ 12 اگست (سیاست نیوز) وزیر آبپاشی ہریش رائو نے کہا کہ کانگریس پارٹی ابتداء ہی مخالف تلنگانہ پارٹی ہے اور اس نے 40 برسوں کی حکمرانی میں تلنگانہ کی بھلائی کے لیے کچھ نہیں کیا۔ تلنگانہ کے عوام کانگریس کو جان چکے ہیں اور وہ اس پر بھروسہ کرنے والے نہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہریش رائو نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے متحدہ آندھراپردیش میں اقتدار کے دوران ہمیشہ آندھرائی قائدین اور ان کے علاقوں کی ترقی پر توجہ مرکوز کی۔ تلنگانہ کے پراجیکٹس اور عوامی بھلائی کو نظرانداز کیا گیا۔ ہریش رائو نے کہا کہ کانگریس کا نام آتے ہی برقی کٹوتی اور برقی کی قلت عوام کو یاد آجاتی ہے۔ برخلاف اس کے ٹی آر ایس حکومت نے صرف چار مہینوں میں برقی کے بحران پر نہ صرف قابو پالیا بلکہ زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے مفت سربراہی کا آغاز ہوا ہے۔ تلنگانہ ملک کی دیگر ریاستوں کے لیے رول ماڈل ہے اور کسی بھی ریاست میں زرعی شعبہ کو بلاوقفہ 24 گھنٹے سربراہی کا انتظام نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آبپاشی اور پینے کے پانی کی ضرورتوں کی تکمیل میں کانگریس حکومت ناکام ثابت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس دور میں موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی شہر میں خالی گھڑوں کے ساتھ احتجاج کا منظر دیکھنے کو ملتا۔ لیکن تلنگانہ کی تشکیل کے بعد صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔ انہوں نے کانگریس سے سوال کیا کہ مشن بھگیرتا کے ذریعہ ہر گھر کو صاف پینے کے پانی کی فراہمی کا خیال کانگریس کی کسی حکومت کو کیوں نہیں آیا۔ اب جبکہ ٹی آر ایس حکومت آبپاشی پراجیکٹس اور مشن بھگیرتا پر عمل کررہی ہے تو کانگریس قائدین بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے ترقی میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے زرعی شعبہ اور کسانوں کے لیے شروع کردہ مختلف اسکیمات کا حوالہ دیا اور کہا کہ کسانوں کے لیے رئیتو بندھو اور رئیتو بیما اسکیم کے سی آر حکومت کا کارنامہ ہے۔ کانگریس اور تلگودیشم دورِ حکومت میں کسان خودکشی پر مجبور تھے لیکن آج وہ کے سی آر حکومت میں خوشحال ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت نے تمام انتخابی وعدوں کی تکمیل کردی ہے۔ انتخابی منشور کے علاوہ بھی کئی اسکیمات کا آغاز کیا گیا جن میں شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیمات شامل ہیں۔ رئیتو بندھو اسکیم پر 1200 کروڑ روپئے خرچ کرتے ہوئے دو فصلوں کے لیے فی ایکڑ 4 ہزار روپئے کی امداد دی گئی۔ ہریش رائو نے کہا کہ دیگر ریاستوں کے عوام اپنی حکومتوں پر تلنگانہ کی طرح اسکیمات پر عمل کرنے کے لیے دبائو بنارہے ہیں۔ کرناٹک کے بعض علاقوں کے عوام نے خود کو تلنگانہ میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ اپنے نمائندوں کو اس سلسلہ میں یادداشت پیش کررہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ راہول گاندھی اپنے دورۂ حیدرآباد کے موقع پر یہ وضاحت کریں کہ کانگریس نے اپنے طویل اقتدار کے دوران کونسے عوامی مسائل کی مستقل یکسوئی کی گئی۔ انہوں نے کانگریس اور بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ انہیں تلنگانہ ریاست سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے چیف منسٹر کی حیثیت سے حلف لینے سے عین قبل راتو رات 7 منڈلوں کو آندھراپردیش میں شامل کردیا گیا۔ اس مسئلہ پر ایک مرتبہ بھی کانگریس کے تلنگانہ قائدین نے احتجاج نہیں کیا۔ راہول گاندھی نے پارلیمنٹ میں تلنگانہ کے مسائل کے بارے میں ایک مرتبہ بھی آواز نہیں اٹھائی۔ تلنگانہ ریاست کے لیے ایک بھی پراجیکٹ کو قومی پراجیکٹ کا درجہ دینے کے تیقن کو تنظیم جدید قانون میں شامل نہیں کیا گیا۔ تنظیم جدید قانون کے تحت آندھراپردیش کے لیے کئی پراجیکٹس اور رعایتوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تحریک کے دوران کانگریس قائدین نے آندھرائی قائدین کی تائید کی۔ ہریش رائو نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ سے اظہار یگانگت کے لیے ایک بار بھی کانگریس قائدین یونیورسٹی نہیں پہنچے۔ کانگریس حکومت نے عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ پر پولیس کے ذریعہ مظالم ڈھائے۔ ہریش رائو نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام کو کے سی آر پر مکمل بھروسہ ہے اور گزشتہ چار برسوں میں تمام ضمنی انتخابات میں ٹی آر ایس کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT