Saturday , November 25 2017
Home / مضامین / کانگریس مغربی بنگال میں وسوسوں کا شکار

کانگریس مغربی بنگال میں وسوسوں کا شکار

غضنفر علی خان
قومی جماعت کانگریس ان دنوں ہر طرف سے مصائب میں گھری ہوئی ہے ۔ 2014 ء کے انتخابات کے بعد تو اب راہول گاندھی اور ان کی والدہ سونیا گاندھی بھی پارٹی کے مستقبل سے بہت زیادہ مطمئن نہیں ہیں ۔ پارٹی کا یہ حشر گذشتہ کئی برسوں سے رہا ہے ۔ ان حالات میں کانگریس قومی پارٹی کے درجہ سے بمشکل علاقائی پارٹی بن گئی ۔ ایسی ریاستیں جن میں پارٹی کے اقتدار کا سلسلہ برسوں جاری رہا ، وہاں بھی کانگریس کو پے در پے شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ اترپردیش اور بہار میں جہاں دوسری پارٹیوں کا برائے نام بھی وجود نہیں تھا اب علاقائی جماعتوں نے اپنے قدم اس حد تک جمالئے ہیں کہ دوبارہ کانگریس کے اقتدار پر آنے کے امکانات ختم ہوگئے ہیں ۔ اس بدلتے ہوئے سیاسی پس منظر میں سب سے بڑا یہ نقصان ہوا کہ کانگریس کی خامیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بی جے پی جیسی فرقہ پرست جماعت پہلے بتدریج اور پھر 2014 ء میں اقتدار پر فائز ہوگئی ۔ سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس سیکولرازم کی واحد نمائندہ ہے کم از کم کانگریس تو آج بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ وہی ملک میں سیکولرازم اور رواداری کی ٹھیکہ دار ہے جو بالکل خلاف حقیقت بات تھی اور ہے ۔ جہاں تک سیکولرازم کا مسئلہ ہے ہمارا قومی مزاج رہا ہے ۔ تاریخی اعتبار سے بھی ہم ہمیشہ سیکولر اور وسیع النظر و روادار رہے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ سیکولر ہونے کا برملا اعتراف کانگریس پارٹی کی پہلی حکومت نے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو دستور ہند میں کیا تھا اس لحاظ سے کانگریس ہندوستان میں سیکولرازم کی بانی ضرور ہے لیکن پارٹی کا یہ سمجھنا کہ وہی’’حرفِ آخر‘‘ بھی ہے ، ایک دم غلط خیال ہے ، جس کی روز اول سے کانگریس پارٹی اسیر رہی ہے ۔

ملک کی دو بڑی ریاستوں اترپردیش اور بہار میں آج سیکولرازم کی نگہبانی ہورہی ہے ۔ اس کی آبیاری کا سلسلہ جاری ہے تو اس میں کانگریس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ۔ اترپردیش میں سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے ملک کی رواداری کی حفاظت کی ہے آج یہ دونوں ریاستیں اگر بی جے پی کی فرقہ پرستی سے ہنوز محفوظ ہیں تو اسکا سہرا ان ہی دونوں پارٹیوں کے سر جاتا ہے ۔ ورنہ بی جے پی ان دونوں ریاستوں میں بھی حکومت تشکیل دے چکی ہوتی ۔ اس طرح دوسری بڑی ریاست بہار کی صورتحال ہے ۔ یہاں بھی فرقہ پرست طاقتوں کے بڑھتے ہوئے قدموں کو کانگریس نے نہیں بلکہ علاقائی پارٹیوں اور لیڈروں نے روکے رکھا ۔ لالو پرساد یادو کی پارٹی اور نتیش کمار کی قیادت میں ان کی پارٹی نے 2015 کے انتخابات میں بی جے پی کو دھول چاٹنے پر مجبور کردیا ۔ یہ انتخابات ایسے وقت ہوئے تھے جبکہ بی جے پی 2014 کے انتخابات میں اپنی غیر معمولی کامیابی کے نشہ میں تھی ۔
فتح کے نشہ میں بدمست بی جے پی سمجھ رہی تھی کہ وہ اب ناقابل شکست بن چکی ہے لیکن سیکولر پارٹیوں نے غیر معمولی کامیابی حاصل کرکے یہ ثابت کردیا کہ اگر کانگریس کے علاوہ دیگر سیاسی پارٹیاں متحد ہو کر بی جے پی کا مقابلہ کریں تو فرقہ پرست بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھ سکتی ہیں ۔ ایسا کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ کوئی سیکولر پارٹی اس اتحاد کے دائرے کے باہر نہ رہے ۔ جس طرح سنگھ پریوار آج متحد ہے اسی طرح سے سیکولر پارٹیوں کو بھی متحد ہونا پڑے گا ۔ اس میں کانگریس پارٹی کو کسی قسم کے بھید بھاؤ کا خیال نہیں رکھنا چاہئے جیسا کہ وہ مغربی بنگال میں کررہی ہے ۔ مغربی بنگال میں کانگریس کی یہ کوشش ہے کہ وہاں کی برسراقتدار پارٹی ترنمول کانگریس کے خلاف کمیونسٹ پارٹیوں سے انتخابی مفاہمت کرے لیکن کانگریس پارٹی ہی میں  اس کی مکمل تائید نہیں مل رہی ہے ۔ ترنمول کانگریس کوئی غیر نہیں ہے بلکہ کانگریس پارٹی کی ایک ٹوٹی ہوئی شاخ ہے ۔ ترنمول کانگریس کی بانی ممتا بنرجی بنیادی طور پر کانگریسی ہی ہیں ۔

وہ کانگریس پارٹی سے وابستہ رہی ہیں اہم عہدوں پر فائز بھی رہی ہیں ۔ جیسا کہ کانگریس میں پہلے بھی کئی مرتبہ پارٹی کے لیڈروں نے علحدگی اختیار کی تھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ممتا بنرجی بھی ہیں ۔ ممتا بنرجی کا کارنامہ یہ رہا کہ انھوں نے تقریباً 30 برس کی کمیونسٹ حکمرانی کے بعد یہاں مارکسٹ کمیونسٹ پارٹی کو شکست دی اور مغربی بنگال کی سیاست میں تبدیلی لائی تھی ان کی انتخابی کامیابیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ مغربی بنگال کے پارلیمانی انتخابات میں بھی ان کا شہرہ برقرار رہا ۔ بلدی انتخابات میں بھی یہی سلسلہ جاری رہا آج بھی یہ پارٹی مغربی بنگال میں عوامی مقبولیت کی حامل ہے ۔ اگر کانگریس پارٹی اس سے دوری اختیار کرکے کمیونسٹ پارٹی سے مفاہمت کرتی ہے تو ترنمول کانگریس کے لئے اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں رہے گا کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کے ساتھ ہوجائے ۔ اس بات کا اندیشہ کا اظہار کانگریس پارٹی کے خود اپنے تجربہ کار اور جہاں دیدہ لیڈر کررہے ہیں ۔ البتہ کانگریس کے کم تجربہ کار لیڈر مغربی بنگال میں مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی سے سمجھوتہ کرنے کی پرزور حمایت کررہے ہیں ۔ کانگریس مختلف قسم کے سیاسی وسوسوں میں مبتلا ہوگئی ہے ۔ وہ ایک ایسی الجھن میں ہے کہ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کس سے مفاہمت کرے ۔ اس صورتحال میں کانگریس کے لئے بہتر یہی ہوگا کہ وہ ’’وسیع تر‘‘ سیکولر محاذ کی تشکیل کی کوشش کرے کیونکہ ترنمول کانگریس اگر بغیر اسکی اپنی شمولیت کے کسی سیکولر محاذ کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی اور وہ یکا و تنہا آئندہ انتخابات میں حصہ لے گی یا پھر بی جے پی کی طرف مائل ہوگی ۔ اس خدشہ کی ایک اور وجہ ترنمول کانگریس کی لیڈر ممتا بنرجی کی متلون مزاجی بھی ہے ۔ وہ بھی بہوجن سماج پارٹی کی لیڈر مایاوتی کی طرح بہت جلد فیصلہ کرنے کی عادی ہیں ۔ اس خدشہ کو پوری طرح ختم کرنے کے لئے کانگریس ہی کو کوشش کرنی پڑے گی ۔ ممتا بنرجی کبھی بھی کانگریس پارٹی اور سی پی ایم کی اپنے خلاف صف آرائی کو قبول نہیں کریں گی ۔ دوسری بات یہ ہے کہ کمیونسٹ پارٹیاں اور خاص طور پر مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی ترنمول کانگریس کے خلاف اس محاذ میں شاید شامل ہونے میں کوئی تامل نہیں کرے گی کیونکہ اس کے تقریباً 30 سالہ حکمرانی کا مغربی بنگال سے خاتمہ کی وجہ ترنمول کانگریس ہی رہی ہے ۔ یقیناً سی پی ایم ترنمول کانگریس کو شکست دینے کو ترجیح دے گی ۔ اس باہمی کشمکش کے نتیجہ میں سیکولر طاقتیں کمزور پڑجائیں گی ۔

ترنمول کانگریس کی بی جے پی جیسی جماعت سے قربت کا خدشہ اس لئے بھی زیادہ ہے کہ یہ پارٹی اپنی کوئی سیاسی فکر نہیں رکھتی ۔ اس کی کوئی نظریاتی پس منظر نہیں ہے جبکہ کمیونسٹ پارٹیوں کی نظریاتی بنیادیں (خواہ وہ صحیح ہو یا غلط) انتہائی مستحکم ہیں ۔ یہ پارٹیاں ایک فلسفہ رکھتی ہیں ۔ ان کا بی جے پی یا دوسری فرقہ پرست پارٹیوں کے ساتھ میل ملاپ ممکن نہیں ہے ۔ ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کمیونسٹ پارٹیوں نے کبھی بھی یہ دعوی نہیں کیا کہ ان کے سوائے اور کوئی پارٹی سیکولر نہیں ہے ۔ وہ خود کو دوسری سیکولر پارٹیوں سے زیادہ سیکولر نہیں سمجھتیں ۔ وہ کسی بھی سیکولر محاذ میں شامل ہوسکتی ہیں ۔ موجودہ حالات میں ترنمول کانگریس کی کسی محاذ میں موجودگی اس کو کسی بھی پیش رفت سے نہیں روک سکتی ۔ اسی لئے کانگریس کی ترنمول کانگریس سے دوری یا علحدگی کی کوشش ایک سعی ناتمام بن کر رہ جائے گی ۔ ایسا کرنے کے بجائے کانگریس مغربی بنگال کی نہیں تمام ریاستوں میں سیکولر پارٹیوں سے مفاہمت کرے تو جو تجربہ بہار اسمبلی انتخابات میں ہوا تھا اور جس سے سیکولر پارٹیوں کو نیا حوصلہ ملا ہے جس سے فرقہ پرست طاقتوں کے حوصلے پرست ہوئے ہیں وہ سارے ہندوستان میں بھی دہرایا جاسکتا ہے ۔ ایسی ریاستوں میں جہاں کانگریس کی عوامی مقبولیت کا گراف گرچکا ہے وہاں کانگریس کو علاقائی سیکولر پارٹیوں میں بھید بھاؤ نہیں کرنا چاہئے اور وسیع  تر بنیادوں پر ایسی تمام سیکولر طاقتوں کو یکجا کرنا چاہئے جو کہ ملک کو فرقہ پرستوں کے چنگل سے آزاد کراسکیں ۔

TOPPOPULARRECENT