Wednesday , December 13 2017
Home / Top Stories / کانگریس میں بنیادی اور تنظیمی تبدیلیوں کی ضرورت ‘ نتائج برے نہیں

کانگریس میں بنیادی اور تنظیمی تبدیلیوں کی ضرورت ‘ نتائج برے نہیں

بی جے پی نے منافرت پھیلا کر انتخابات میں کامیابی حاصل کی ۔ پارٹی کے نائب صدر راہول گاندھی کا رد عمل
نئی دہلی 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے کہا کہ کانگریس کے ڈھانچہ میں اور تنظیم میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ ریاستوں میںہوئے اسمبلی انتخابات کے نتائج پارٹی کیلئے برے نہیں ہیں۔ انہوں نے تاہم کہا کہ یہ اترپردیش میں پارٹی کو ضرور مایوسی ہوئی ہے ۔ اترپردیش میں پارٹی کے اب تک کے سب سے بدترین انتخابی مظاہرہ پر جہاں اسے 403 رکنی اسمبلی میں صرف سات نشستوں پر کامیابی ملی ہے کانگریس نائب صدر نے کہا کہ بی جے پی نے نفاق پیدا کرتے ہوئے انتخابی کامیابی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے اپنی قیادت پر اٹھائے جانے والے سوالات کے جواب میں کہا کہ خود کانگریس پارٹی میں ڈھانچہ جاتی اور تنظیمی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔ راہول گاندھی نے علاقائی سطح پر انتخابات میں مقابلہ کرنے اور کامیابی حاصل کرنے والے قائدین کو مبارکباد بھی پیش کی ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک کانگریس کا سوال ہے ہم کو ڈھانچہ کے اعتبار اور تنظیمی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے پنجاب میں اپنی حکومت قائم کی ہے اور اس نے منی پور اور گوا میں انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے خیال میں یہ نتائج برے نہیں ہیں تاہم یہ حقیقت ہے کہ ہم کو اترپردیش اور اترکھنڈ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ راہول نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کیلئے اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں ۔ یہ ٹھیک ہے کہ اترپردیش میں ہم کو مایوسی ہوئی ہے لیکن بی جے پی کے ساتھ ہمارا نظریاتی مقابلہ ہے اور ہم یہ لڑائی جاری رکھیں گے ۔ انہوں نے بی جے پی کو انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی تاہم کہا کہ اس نے ووٹوں کی تقسیم اور نفرت کا بازار گرم کرتے ہوئے یہ کامیابی حاصل کی ہے ۔

راہول نے کہا کہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ بی جے پی نے اترپردیش میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ وہ اسے مبارکباد دینا چاہتے ہیں ۔ یہ دیکھا جائے کہ انہو ںنے کیوں کامیابی حاصل کی ہے تو اس کی کئی وجوہات ہیں اور سب سے اصل اور بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے سماج میں نفرت اور تقسیم کا ماحول پیدا کردیا تھا ۔ کانگریس پارٹی 2014 کے لوک سبھا انتخابات سے مسلسل شکستوں کا سامنا کر رہی ہے اور لوک سبھا انتخابات میں بھی اسے بدترین شکست ہوئی تھی ۔ پارٹی میں مختلف گوشوں سے مطالبہ کیا جارہا تھا کہ تبدیلیاں لائی جائیں اور اس کی تنظیم جدید کی جائے ۔ اس کے علاوہ پارٹی کی شکستوں کا سلسلہ روکنے کیلئے پارٹی کی حکمت عملی میں تبدیلی لائی جائے ۔ یہ اعتراف کرتے ہوئے کہ اترپردیش کی شکست تکلیف دہ ہے پارٹی قائدین نے کہا تھا کہ کچھ بنیادی تنظیم جدید کی جانی چاہئے اور حکمت عملی کے تعلق سے کچھ سخت فیصلے کرنے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ پارٹی میں محاسبہ بھی کیا جانا چاہئے ۔ کانگریس کے لیڈر ابھیشیک مانو سنگھوی نے کہا تھا کہ اترپردیش کا نتیجہ پارٹی کیلئے برا ہے ۔ اس سے تکلیف ہوتی ہے ۔ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہوگیا ہے کہ پارٹی میں کچھ بنیادی تنظیم جدید کی جائے اور حکمت عملی کا جائزہ لیا جائے ۔ پارٹی کے ترجمان اعلی رندیپ سرجیوالا نے بھی کہا تھا کہ پارٹی کی جانب سے اترپردیش اور اترکھنڈ میں شکستوں کا جائزہ لیا جائیگا اور پارٹی کو مستحکم کرنے اور عوام میں اسے مقبولیت دلانے کیلئے اقدامات بھی کئے جائیں گے ۔ راہول گاندھی نے پنجاب کی کامیابی پر مقامی قائدین کو مبارکباد پیش کی ۔

TOPPOPULARRECENT