Monday , December 11 2017
Home / Top Stories / کانگریس نہیں ٹی آر ایس پرانے شہر میں متبادل جماعت بن سکتی ہے

کانگریس نہیں ٹی آر ایس پرانے شہر میں متبادل جماعت بن سکتی ہے

غیر سنجیدگی سے الیکشن لڑنے کے باوجود دوسرا نمبر حاصل کرنے میں ٹی آر ایس کا میاب ، الیکشن نتیجہ کا پوسٹ مارٹم
حیدرآباد ۔ 8 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : جی ایچ ایم سی انتخابات میں حکمراں جماعت ٹی آر ایس کی غیر معمولی اور تاریخی کامیابی کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوالات ابھر رہے ہیں کہ آیا ٹی آر ایس اپنے عوام موافق اقدامات کے باعث آنے والے دنوں میں پرانا شہر میں ایک بہترین متبادل بن کر ابھرے گی ؟ آیا 2019 کے عام انتخابات اور اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس شہر میں مجلس کے لیے ایک بڑی چیلنج بن کر ایک نئی تاریخ رقم کرے گی ؟ سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی گشت کررہا ہے کہ کیا ٹی آر ایس بلدی انتخابات میں پرانے شہر سے سنجیدگی سے مقابلہ نہ کرنے کے باوجود جو شاندار مظاہرہ کیا ہے اس سے کیا مجلسی قائدین کی نیندیں حرام نہیں ہوئیں ؟ جی ایچ ایم سی انتخابات میں مجلس نے اگرچہ 60 نشستوں پر مقابلہ کیا لیکن اسے 44 بلدی حلقوں میں کامیابی حاصل ہوئی ۔ جملہ رائے دہی کا اوسط تقریباً 45 فیصد رہا ۔ اس کے جن 44 امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ۔ ان تمام کے حاصل کردہ ووٹ تقریبا 416000 رہے جب کہ ٹی آر ایس کے امیدواروں نے ان 44 حلقوں سے جملہ 177800 ووٹ حاصل کئے ۔ اس طرح دونوں پارٹیوں کے درمیان 253000 ووٹوں کا فرق رہا ۔ ان 44 حلقوں میں 33 حلقہ ایسے تھے جہاں ٹی آر ایس امیدواروں کو دوسرا مقام حاصل ہوا ۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ٹی آر ایس نے پرانا شہر کے ان حلقوں سے سنجیدہ مقابلہ نہیں کیا بلکہ وہ ایک دوستانہ مقابلہ تھا پھر بھی عوام نے شہر کے اس تاریخی حصہ میں ٹی آر ایس کا خیر مقدم کیا ہے ۔ شہر کے دیگر مقامات کی طرح پرانا شہر میں ٹی آر ایس کی عوامی مقبولیت کی سب سے اہم وجہ اس کی بہبودی اسکیمات ہیں ۔ کے سی آر نے اقتدار سنبھالتے ہی وظیفہ پیرانہ سالی کو 200 روپئے سے بڑھا کر 1000 اور جسمانی معذورین کے لیے 500 روپئے سے بڑھا کر 1500 روپئے کردیا ۔ راشن شاپس کے ذریعہ سفید راشن کارڈ گیرندوں کے لیے ایک روپئے کلو چاول کی سربراہی کو یقینی بنایا ۔ شہر میں غریبوں کے لیے ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کا آغاز کیا ۔ شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیمات کے ذریعہ غریب والدین کو ان کی لڑکیوں کی شادی کے لیے فی کس 51000 روپئے امداد فراہم کی ۔ ٹی آر ایس کا سب سے اہم موضوع 12 فیصد مسلم تحفظات ہے جس پر بھروسہ کرتے ہوئے مسلمانان تلنگانہ نے اسمبلی میں بھی ٹی آر ایس کے حق میں اپنا ووٹ دیا۔ پرانا شہر میں برقی کٹوتی ایک مسئلہ بنی ہوئی تھی لیکن کے سی آر حکومت نے اس مسئلہ پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی ۔ پانی کی سربراہی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کئے گئے ۔ حیدرآباد میں ٹریفک کے بہاؤ کو آسان بنانے کے لیے متعدد اقدامات کئے جن میں عبوری پلوں اور میٹرو ریل پراجکٹ کی تعمیر بھی شامل ہے ۔ کے سی آر حکومت نے حیدرآباد میں امن و امان کے لیے بہتر انتظامات کئے ۔ آٹو ، بس ، لاری اور کیاب ڈرائیورس کے لیے 5 لاکھ روپئے کی بیمہ پالیسی عمل میں لائی ، ریاستی حکومت نے خود روزگار اسکیم کے تحت 5.5 لاکھ آٹو مالکین کا 80 کرور روپئے مالیتی روڈ ٹیکس معاف کروایا ۔ شہر میں غریبوں کے لیے صرف 5 روپئے میں کھانے کی سربراہی اسکیم شروع کی ۔ ان اسکیمات سے مسلمانوں کا بھی بھر پور فائدہ ہوا خاص طور پر وظیفہ پیران سالی ، جسمانی معذورین کے لیے وظائف ، شادی مبارک اسکیم ، برقی بلز کی معافی ، روڈ ٹیکس کی معافی وغیرہ سے مسلمانوں کو زبردست فائدہ ہوا ۔ سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں اگر ٹی آر ایس سنجیدہ مقابلہ کرتی تو اسے غیر معمولی کامیابی حاصل ہوتی ۔ خود ٹی آر ایس میں بلدی انتخابات کے نتائج کو لے کر کافی جوش پایا جارہا تھا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر کے فلاحی اسکیمات کی تشہیر میں ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی بہت کامیاب رہے وہ مسلمانوں میں ٹی آر ایس کے ایک معتبر چہرہ کی حیثیت سے ابھرے ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ وہ 2019 کے پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات میں حیدرآباد میں انقلابی کردار ہوسکتا ہے ، جس سے شہر کی سیاست میں ایک نیا انقلاب برپا ہوگا ۔ مثال کے طور پر سال 2009 میں حیدرآباد پارلیمانی حلقہ میں جملہ 13,93,242 ووٹ تھے ۔ جس میں سے 7,31,348 ووٹ استعمال کئے گئے ۔ اسی طرح اس وقت 52.49 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی ۔ اس وقت اسد اویسی کو 308061 ووٹ ( 42.14 فصد ) ووٹ حاصل ہوئے ۔ 194196 ووٹ حاصل کرتے ہوئے جناب زاہد علی خاں نے دوسرا مقام حاصل کیاتھا ۔ اس طرح انہیں 26.56 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ۔ اس طرح اسد اویسی نے 1,13,865 ووٹ سے کامیابی حاصل کی ۔ ان انتخابات میں کانگریس امیدوار نے 93197 اور بی جے پی امیدوار نے 75503 ووٹ حاصل کئے ۔ اس طرح دونوں نے 168700 ووٹ حاصل کر کے اسد اویسی کی کامیابی کی راہ ہموار کی دوسری طرف 2014 کے عام انتخابات میں بھی جملہ 1617607 رائے دہندوں میں سے 971421 یعنی 60.05 فیصد رائے دہندوں نے اپنے حق کا استعمال کیا ۔ اسد اویسی 513868 ( 52 فیصد ووٹ ) لے کر کامیاب ہوئے اس وقت بی جے پی کو 32 فیصد یعنی 311414 ووٹ ملے تھے ۔ بہر حال سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ 2019 کے عام اور اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس پرانا شہر میں بھی حرکت میں آتی ہے تو پرانا شہر کی سیاست میں ناقابل یقین تبدیلی آسکتی ہے ۔ بلدی انتخابات میں کانگریس پارٹی نے مجلس کا متبادل بننے کی کوشش کی تاہم وہ کسی وجہ سے ناکام رہی تاہم غیر سنجیدہ طریقہ سے انتخابات میں حصہ لینے والے ٹی آر ایس جو کہ حکومت میں ہے ووٹ حاصل کرنے میں غیر معمولی کامیاب ہوئی ۔ بہر حال دیکھنا یہ ہے کہ پرانے شہر کے ووٹ ڈالنے والے حکومت سے متاثر ہو کر ووٹ ڈالتے ہیں یا پھر ایک بار جذباتی نعرہ لگاتے ہوئے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT