Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس پارٹی ، اصل اپوزیشن کا رول ادا کرنے میں ناکام

کانگریس پارٹی ، اصل اپوزیشن کا رول ادا کرنے میں ناکام

12 فیصد مسلم تحفظات پر گمراہ کن اندیشے پیدا کرنے کی کوشش ، جناب فاروق حسین کا بیان
حیدرآباد ۔ 20 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کو ناممکن قرار دینے والے کانگریس قائدین 12 فیصد مسلم تحفظات پر عمل آوری کے خلاف گمراہ کن اندیشے ظاہر کررہے ہیں ۔ ٹی آر ایس حکومت مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ کو حل کرانے کی کوشش کررہی ہے ۔ ضرورت پڑنے پر مرکز سے جنگ لڑنے سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔ محمد فاروق حسین نے کہا کہ کانگریس پارٹی اصل اپوزیشن کا رول ادا کرنے میں پوری طرح ناکام ہوگئی ہے ۔ حکومت کی ہر اسکیم پالیسی اور فیصلوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بستر مرگ پر موجود کانگریس کو آکسیجن فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ مقدس ماہ رمضان میں حکومت کی جانب سے دی جانے والی افطار پارٹی اور غریب مسلمانوں میں تقسیم کیے جانے والے ملبوسات کو تنقید کانشانہ بناتے ہوئے سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر حکومت کے ہر فیصلے کو سیاسی عینک سے دیکھ رہے ہیں ۔ کے سی آر نے ہی سب سے پہلے اسمبلی حلقہ سدی پیٹ سطح پر افطار پارٹی کا اہتمام کرنے کی بنیاد رکھی ۔ بعد ازاں کے سی آر کے مشورے پر ہی آنجہانی چیف منسٹر این ٹی آر نے مسلمانوں کے لیے پہلی مرتبہ جوبلی ہال میں سرکاری افطار کا اہتمام کیا تھا ۔ کانگریس اور تلگو دیشم کے دور میں صرف حیدرآباد میں سرکاری افطار پارٹیوں کا اہتمام کیا جاتا تھا ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے حیدرآباد کے ساتھ ساتھ اضلاع سطح پر بھی سرکاری افطار پارٹی کو توسیع دی ہے ۔ غریب مسلمانوں کے عید کی خوشی میں مزید اضافہ کرنے کے لیے ان میں کپڑے تقسیم کیے جارہے ہیں ۔ مسلم تحفظات کے معاملے میں چیف منسٹر کافی سنجیدہ ہیں ۔ وہ جو ٹھان لیتے ہیں اس کو پورا کرنے تک خاموش نہیں رہتے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل اس کی زندہ مثال ہے ۔ جس طرح کے سی آر نے علحدہ ریاست حاصل کیا ہے ۔ اس طرح 12 فیصد مسلم تحفظات میں بھی کامیابی حاصل کریں گے ۔ چند معاملت میں ریاست کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے مرکز کے فیصلوں کی تائید کی جارہی ہے ۔ 12 فیصد مسلم تحفظات کے لیے مرکز کی جانب سے انکار کیا گیا تو تلنگانہ حکومت مرکز سے جنگ لڑنے اور عدلیہ کا سہارا لینے سے بھی گریز نہیں کرے گی ۔ لمبے عرصے تک ریاست پر حکمرانی کرنے والی تلگو دیشم اور کانگریس نے اقلیتوں کو صرف ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا ہے ۔ تاہم چیف منسٹر کے سی آر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو حکومت کی ترقیاتی کاموں کا حصہ دار بنا رہے ہیں ۔ بڑے پیمانے پر اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کرتے ہوئے مسلمانوں کے لیے تعلیمی جال پھیلا دیا گیا ہے ۔ فی طالب علم پر ان اسکولس میں سالانہ 1.25 لاکھ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں ۔ ٹی ار ایس حکومت کے عملی اقدامات سے اپوزیشن بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور حکومت کے خلاف بے بنیاد الزامات عائد کئے جارہے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT