Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / کانگریس پارٹی تلنگانہ کی تائید کیلئے بی جے پی کو منانے میں مصروف

کانگریس پارٹی تلنگانہ کی تائید کیلئے بی جے پی کو منانے میں مصروف

حیدرآباد /12 ستمبر (سیاست نیوز) صدر وائی ایس آر کانگریس جگن موہن ریڈی نے اِس بات کی قیاس آرائی کی کہ عام انتخابات میں پارٹی کے 25 ارکان پارلیمنٹ منتخب ہونا یقینی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حالیہ دنوں میں حالیہ دنوں میں بی جے پی کی اہمیت اِس لئے بڑھ گئی ہے کہ وہ علیحدہ تلنگانہ ریاست کیلئے ابتداء سے ہی حامی رہی ہے۔ جس کے باعث اِس کی اہمیت بڑھ گئ

حیدرآباد /12 ستمبر (سیاست نیوز) صدر وائی ایس آر کانگریس جگن موہن ریڈی نے اِس بات کی قیاس آرائی کی کہ عام انتخابات میں پارٹی کے 25 ارکان پارلیمنٹ منتخب ہونا یقینی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حالیہ دنوں میں حالیہ دنوں میں بی جے پی کی اہمیت اِس لئے بڑھ گئی ہے کہ وہ علیحدہ تلنگانہ ریاست کیلئے ابتداء سے ہی حامی رہی ہے۔ جس کے باعث اِس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ مسٹر جگن موہن ریڈی نے اِس بات کا اظہار کیاکہ اگر بی جے پی پارلیمنٹ میں تلنگانہ بِل کی منظوری میں تعاون نہ کرتی ہے تو ایسی صورت میں وہ اِس پارٹی سے انتخابی اتحاد پر غور کرسکتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ بل منظور کرانے کے لئے کانگریس ہائی کمان بی جے پی کو منانے کی کوشش کررہی ہے جبکہ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے آج بی جے پی کے اہم قائدین کو ظہرانہ پر مدعو کیا۔ علاوہ ازیں صدر تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو بھی بی جے پی کے ارد گرد گھوم رہے ہیں اور تلنگانہ بل کی تائید نہ کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔ دریں اثناء جگن موہن ریڈی نے بی جے پی قائد ایل کے اڈوانی سے ملاقات کی اور تلنگانہ بل کے نقائص پیش کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں اس کی تائید نہ کرنے کی اپیل کی۔ بعد ازاں جگن نے بی جے پی کی پارلیمانی قائد سشما سوراج سے ملاقات کی اور کہا کہ کانگریس پارٹی صرف سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے آندھرا پردیش کو تقسیم کر رہی ہے،

کیونکہ علاقہ سیما۔ آندھرا میں کانگریس کا مکمل صفایا ہو چکا ہے۔ وہ اکثریتی رائے کو نظرانداز کر رہی ہے، جب کہ چیف منسٹر کے بشمول سیما۔ آندھرا سے تعلق رکھنے والے مرکزی و ریاستی وزراء، کانگریس ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی ریاست کی تقسیم کی مخالفت کر رہے ہیں، کیونکہ ریاست کی تقسیم سے کسی کو فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ یو پی اے حکومت اقلیت میں آچکی ہے، اگر بی جے پی تلنگانہ بل کی تائید نہ کرے تو ریاست تقسیم نہیں ہوگی اور اگر بی جے پی تلنگانہ بل کی مخالفت کرے تو وائی ایس آر کانگریس آندھرا پردیش میں اس کے ساتھ اتحاد کے لئے تیار رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ آندھرا پردیش میں وائی ایس آر کانگریس 25 لوک سبھا حلقوں پر آسانی سے کامیابی حاصل کرے گی اور مرکز میں بی جے پی حکومت کی تشکیل کے لئے مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT