Thursday , November 23 2017
Home / شہر کی خبریں / کانگریس پارٹی میں اختلافات و گروپ بندیاں

کانگریس پارٹی میں اختلافات و گروپ بندیاں

صدر تلنگانہ پی سی سی کی صدارت پر کنٹیا کے اعلان پر مذمت
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : کانگریس پارٹی میں اختلافات اور گروپ بندیاں پھر ایک مرتبہ منظر عام پر آگئے ۔ کومٹ ریڈی برادرس نے تلنگانہ کانگریس امور کے نئے انچارج آر سی کنٹیا کی جانب سے آئندہ الیکشن تک اتم کمار ریڈی کانگریس کے صدر رہنے کا ریمارک کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے سونیا گاندھی اور راہول گاندھی سے شکایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ تلنگانہ کانگریس امور انچارج کی نئی ذمہ داری قبول کرنے کے بعد پہلی بار حیدرآباد کا دورہ کرنے والے آر سی کنٹیا نے ٹی پی سی سی کا توسیعی اجلاس طلب کیا اور پارٹی کے محاذی تنظیموں کے ذمہ داروں سے پارٹی امور پر تبادلہ خیال کیا تھا ۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی ، اتم کمار ریڈی کی کارکردگی سے مطمئن ہیں ۔ لہذا انہیں صدارت سے ہٹانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔ 2019 کے عام انتخابات تک اتم کمار ریڈی پردیش کانگریس کمیٹی کی صدارت پر برقرار رہیں گے اور ساتھ ہی ان کے فیصلوں کی اور ڈسپلن شکنی کرنے والوں کو پارٹی میں ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا ۔ نئے انچارج کا پیغام پارٹی کیڈر میں پہونچتے ہی اسمبلی حلقہ نلگنڈہ کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے رکن اسمبلی سابق وزیر کومٹ ریڈی اور ان کے بھائی رکن قانون ساز کونسل کومٹ ریڈی راجگوپال ریڈی نے اس کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا فیصلہ کرنے کا آر سی کنٹیا کو کوئی اختیار نہیں ہے ۔ انہوں نے اتم کمار ریڈی کا نام لیے بغیر کہا کہ ریاست کے عوام بالخصوص نوجوان نسل تلنگانہ پردیش کانگریس کی قیادت میں تبدیلی چاہتی ہے ۔ اسمبلی حلقوں میں عوام سے قریب رہنے والے قائد کو صدارت کے عہدے پر دیکھنا چاہتی ہے ۔ موجودہ قیادت حکمران ٹی آر ایس سے مقابلہ کرنے کی اہل نہیں ہے ۔ وہ بہت جلد دہلی پہونچکر صدر کانگریس مسز سونیا گاندھی اور نائب صدر راہول گاندھی سے ملاقات کرتے ہوئے قیادت میں تبدیلی کے لیے تبادلہ خیال کریں گے ۔ دونوں بھائیوں نے علحدہ علحدہ طور پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پارٹی کارکنوں کو مشورہ دیا کہ وہ آر سی کنٹیا کی باتوں سے ہرگز مایوس نہ ہو کیوں کہ کنٹیا اتھاریٹی نہیں ہے ۔ ان کے اوپر بھی ہائی کمان موجود ہے ۔ چیف منسٹر کی جانب سے یوم آزادی کے موقع پر نوجوانوں سے لاکھوں ملازمتیں فراہم کرنے کے وعدے کو ایک اور دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ساڑھے تین سال تک خاموش رہنے والے چیف منسٹر کے سی آر سے آئندہ سال تک امید رکھنا بے فیض ہے اور اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT