Saturday , May 26 2018
Home / شہر کی خبریں / کانگریس پارٹی پرجا چیتنیہ یاترا کے ذریعہ 17 اسمبلی حلقوں کا احاطہ کرے گی

کانگریس پارٹی پرجا چیتنیہ یاترا کے ذریعہ 17 اسمبلی حلقوں کا احاطہ کرے گی

قائدین میں اظہار اطمینان، کیڈر میں جوش و خروش، حکومت کے ناکامیوں کو آشکار کرنے کا عزم

حیدرآباد ۔ 10 مارچ (سیاست نیوز) کانگریس کی پرجاچیتنیہ یاترا میں 17 اسمبلی حلقوں کا احاطہ کیا گیا۔ پہلے مرحلہ کے اختتام کے بعد کانگریس قائدین میں اطمینان اور کیڈر میں جوش و خروش دیکھا جارہا ہے۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی نے ٹی آر ایس حکومت کی ناکامیوں کو بے نقاب کرنے کیلئے بس یاترا کا اہتمام کیا۔ 8 دن میں 17 اسمبلی حلقوں نظام آباد، اسمبلی حلقہ رورل و اربن کا مشترکہ جلسہ منعقد کیا گیا ہے۔ کانگریس کے تمام سینئر قائدین نے بس یاترا میں شریک ہوتے ہوئے اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔ پہلے مرحلہ کی بس یاترا کے اختتام پر حیدرآباد پہنچنے والے قائدین نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے جلسے توقع سے زیادہ کامیاب رہے ہیں۔ عوام کا رضاکارانہ طور پر جلسوں میں شریک ہونا اس بات کا ثبوت ہیکہ ریاست کے عوام حکومت کی کارکردگی سے ناراض ہیں اور متبادل کے طور پر کانگریس کو دیکھ رہے ہیں۔ حکومت کے خلاف عوام میں لہر پائی جاتی ہے جو کانگریس کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگی۔ اسمبلی کے بجٹ سیشن کے بعد کانگریس پارٹی دوسرے مرحلے کی بس یاترا کا آغاز کرے گی جو یکم ؍ جون تک جاری رہے گی۔ اس دن حیدرآباد یا ورنگل میں ایک بہت بڑا جلسہ عام منعقد ہوگا جس میں صدر کانگریس راہول گاندھی شرکت کریں گے۔ کانگریس کی بس یاترا کے دوران اضلاع، رنگاریڈی، میدک، نظام آباد، عادل آباد، کریم نگر کے ہر اسمبلی ہیڈکوارٹر پر ایک جلسہ عام کا اہتمام کرتے ہوئے حکومت کی ناکامیوں کو آشکار کیا گیا۔ چیف منسٹر کے سی آر کے اہم وعدوں سے دلت قائد کو چیف منسٹر بنانے، مسلمانوں اور قبائلی طبقات کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی، گھر کو ایک ملازمت، کسانوں کے قرضوں کی معافی، دلت طبقات میں تین ایکر اراضی کی فراہمی، ڈبل بیڈروم مکانات کے علاوہ دوسرے اسکیمات پر عدم عمل آوری کے معاملے میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ مشین بھگیرتا اور مشین کاکتیہ کی بدعنوانیوں کو پیش کیا گیا۔ کانگریس کے قائدین نے جلسوں کے انعقاد اور عوام کی شرکت کو یقینی بنانے کیلئے متحدہ طور پر کام کیا ہے۔ چیوڑلہ سٹینمنٹ سے شروع ہونے والی بس یاترا کا پہلا مرحلہ حسن آباد، ضلع کریم نگر میں ختم ہوا ہے۔ جلسوں میں قائدین کے تاخیر سے پہنچنے پر بھی کیڈر نے صبروتحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ سینئر قائدین کی حکومت کے خلاف تقاریر پر عوام نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کانگریس کی بس یاترا پر حکمراں ٹی آر ایس قائدین کی تنقیدوں کا کانگریس نے بھی جلسوں کے ذریعہ مناسب انداز میں جواب دیا ہے۔ اس کے علاوہ ان جلسوں سے کانگریس پارٹی نے انتخابی وعدے بھی کئے ہیں، جیسے 2 لاکھ روپئے تک کسانوں کے قرضوں کی معافی، کاشت کو اقل ترین قیمت، ڈاکرا گروپس کی خواتین کو ریوالوینگ فنڈز، انہیں 1000 روپئے اضافی وظیفہ، مکمل فیس ری ایمبرسمنٹ، بیروزگار نوجوانوں کو ماہانہ 3 ہزار روپئے بیروزگاری بھتہ وغیرہ شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT