Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / کانگریس پارٹی کا نازک دور، ڈگ وجے سنگھ کا اعتراف

کانگریس پارٹی کا نازک دور، ڈگ وجے سنگھ کا اعتراف

تقسیم ریاست کے بعد اے پی کے عوام کا کانگریس پر غصہ، وجے واڑہ میں کانگریس کے اجلاس سے خطاب

تقسیم ریاست کے بعد اے پی کے عوام کا کانگریس پر غصہ، وجے واڑہ میں کانگریس کے اجلاس سے خطاب
حیدرآباد /13 فروری (سیاست نیوز) آل انڈیا کانگریس کے جنرل سکریٹری و انچارج آندھرا پردیش کانگریس امور ڈگ وجے سنگھ نے اعتراف کیا کہ کانگریس نازک دور سے گزر رہی ہے۔ وجے واڑہ میں کانگریس قائدین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے یہ بات کہی۔ اجلاس کی صدارت این رگھوویرا ریڈی صدر آندھرا پردیش کانگریس نے کی۔ ڈگ وجے سنگھ نے کہا کہ آندھرا پردیش کے کئی کانگریس قائدین زندگی بھر کانگریس سے فائدہ اٹھانے کے بعد عام انتخابات سے قبل کانگریس سے مستعفی ہوکر دیگر جماعتوں میں شریک ہو گئے۔ جن کو جانا تھا چلے گئے، لیکن کانگریس سے قائدین ہیں، قائدین سے کانگریس نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس نے ایسے اتار چڑھاؤ کے کئی دور دیکھے ہیں، پارٹی کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ آندھرا پردیش کی تقسیم کے لئے تمام جماعتوں نے اتفاق کیا تھا، جب کہ سب سے آخر میں تمام جماعتوں اور عوامی رائے کا احترام کرتے ہوئے کانگریس نے ریاست کی تقسیم کا فیصلہ کیا، تاہم آندھرا کے عوام نے تلنگانہ کی تائید کرنے والی تلگودیشم و بی جے پی اتحاد کو آندھرا پردیش میں اقتدار سونپ کر کانگریس پر اپنے غصے کا اظہار کیا، جب کہ کانگریس سے مستعفی ہونے والے بیشتر کانگریس قائدین تلگودیشم اور بی جے پی میں شامل ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ریاست کو تقسیم کرتے وقت کانگریس نے آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا موقف دینے کے علاوہ بہت ساری رعایتیں اور سہولتیں فراہم کی تھیں، تاہم ان پر عمل آوری میں مرکزی و ریاستی حکومتیں پوری طرح ناکام ہیں، جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ انھوں نے کانگریس قائدین کو گاؤں گاؤں کا دورہ کرتے ہوئے بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے اور تلگودیشم حکومتوں کی ناکامیوں کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنے کا مشورہ دیا اور اس سلسلے میں ہائی کمان کی جانب سے مکمل تعاون کی پیشکش کی۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس کی جانب سے آندھرا پردیش کے لئے اسپیشل پیکیج کا بھی اعلان کیا گیا تھا، لیکن چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو مرکز سے اسپیشل پیکیج کے حصول میں ناکام ہو گئے، جب کہ تلگودیشم بی جے پی کی حلیف اور این ڈی اے حکومت کا ایک حصہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT