Monday , April 23 2018
Home / شہر کی خبریں / کانگریس پلینری سیشن میں سمپت کمار کو تقریر کا خصوصی موقع دیا گیا

کانگریس پلینری سیشن میں سمپت کمار کو تقریر کا خصوصی موقع دیا گیا

تلنگانہ اسمبلی کی رکنیت سے محروم قائد نے مودی اور کے سی آر حکومت کو بیدخل کرنے کانگریس کارکنوں پر زور دیا
حیدرآباد ۔ 17 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہونے والے سمپت کمار نے دہلی میں منعقدہ اے آئی سی سی کے 84 ویں پلینری سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی اور چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو ملک کی جمہوریت ، ترقی اور بہبود کے لیے خطرہ قرار دیا ۔ 2019 کے عام انتخابات میں دونوں کو اقتدار سے بیدخل کرنے کے لیے سپاہیوں کی طرح خدمات انجام دینے کی کانگریس کارکنوں سے اپیل کی ۔ صدر کانگریس راہول گاندھی کی صدارت میں دہلی کے اندرا گاندھی اسٹیڈیم میں منعقدہ پلینری سیشن میں تلنگانہ سے 400 قائدین نے شرکت کی تاہم سمپت کمار کو خطاب کرنے کا موقع ملا ۔ اس موقع پر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی ، ورکنگ پریسڈنٹ ملو بٹی وکرمارک قائدین اپوزیشن کے جانا ریڈی ( اسمبلی ) ، محمد علی شبیر ( کونسل ) ، سابق مرکزی وزیر ایس جئے پال ریڈی کانگریس کے رکن راجیہ سبھا ایم اے خان جنرل سکریٹریز تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ایس کے افضل الدین ، محمد مقصود احمد ، سید عظمت اللہ حسینی صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ محمد خواجہ فخر الدین صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی سید یوسف ہاشمی ، کانگریس کے قائدین عامر جاوید ، فاروق پاشاہ قادری کے علاوہ سابق وزراء سابق ارکان پارلیمنٹ ارکان اسمبلی نے شرکت کی ۔ سمپت کمار نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے اور تلنگانہ میں ٹی آر ایس کے برسر اقتدار آنے کے بعد دلتوں ، اقلیتوں اور خواتین پر حملوں میں زبردست اضافہ ہوگیا ۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے ۔ زرعی شعبہ بحران کا شکار ہوگیا ۔ کسانوں کی خود کشی واقعات میں اضافہ ہوگیا ۔ صرف ریاست تلنگانہ میں 4500 کسانوں نے خود کشی کی ہے ۔ سارے ملک میں یو پی اے حکومت نے کسانوں کے 75 ہزار کروڑ روپئے کے قرض معاف کئے تھے تلنگانہ میں بھی کسانوں کے قرض معاف کرنے کا وعدہ کیا گیا مگر 4 مرحلوں میں معاف کرنے سے اس کا فائدہ کسانوں کو نہیں پہونچا ۔ تلنگانہ حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ جس طرح قومی سطح پر عوام بی جے پی اور این ڈی اے حکومت سے ناراض ہیں۔ اسی طرح تلنگانہ کے عوام ٹی آر ایس حکومت سے بیزار ہیں ۔ حکومت کاشت کے قابل غریب کسانوں کی اراضیات زبردستی حاصل کرتے ہوئے رئیل اسٹیٹ بروکر کی طرح کام کررہی ہے ۔ آبپاشی پراجکٹس کی تعمیراتی میں بڑے پیمانے کی بدعنوانیاں ہورہی ہیں ۔ تلنگانہ کے عوام نڈھال ہے ۔ صرف کے سی آر کا خاندان خوشحال ہے ۔ تلنگانہ میں حکومت جمہوری اصول پر خدمات انجام دینے کے بجائے ڈیکٹیٹر شپ پر اتر آئی ہے ۔ جمہوریت کا خون کیا جارہا ہے ۔ آواز اٹھانے پر دونوں ایوانوں کی نمائندگی کرنے والے کانگریس کے ارکان کو بجٹ سیشن تک معطل کردیا ۔ انہیں ( سمپت ) اور کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کی اسمبلی کی رکنیت منسوخ کردی گئی ہے ۔ اس سے ہم ڈرنے والے ہے نہ جھکنے والے ہے جسم میں موجود آخری سانس تک کانگریس پارٹی میں شامل رہتے ہوئے مودی اور کے سی آر کے خلاف اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT